جموں و کشمیر میں منعقد ایک مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ میں فلسطینی پرچم چھپا ہوا ہیلمٹ پہن کر کھیلنے کے لیے جنوبی کشمیر کےکرکٹر فرقان بھٹ سے پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے۔ ٹورنامنٹ آرگنائزر کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ ریاست میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے جبکہ بی جے پی نے کرکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی پرچم سے مزین ہیلمٹ پہن کر کھیلتا کشمیری کرکٹر فرقان بھٹ۔ (تصویر: ایکس)
نئی دہلی: جموں وکشمیرمیں ایک مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ میں مبینہ طور پرفلسطینی پرچم سے مزین ہیلمٹ پہن کر کھیلنےکے لیے کے جنوبی کشمیر کےایک کرکٹر کو پولیس نے جمعرات (1 جنوری) کو پوچھ گچھ کے لیے جموں طلب کیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کرکٹ ٹورنامنٹ کے آرگنائزر کو بھی ڈومانہ تھانے میں طلب کیا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق، کرکٹر فرقان بھٹ جموں و کشمیر چیمپیئنز لیگ نامی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے تھے، جس کا اہتمام ایک کشمیری شخص ساجد بھٹ نے جموں شہر کے مضافات میں واقع ایک نجی گراؤنڈ میں کیا تھا۔
فرقان بھٹ جے کے 11 نامی ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے اور بدھ (31 دسمبر) کو جموں ٹریل بلزرز کے خلاف میچ میں بیٹنگ کرنے آئے تھے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا، جس میں انہیں مبینہ طور پر فلسطینی پرچم سے مزین ہیلمٹ پہنے ہوئےدیکھا گیا۔
During the Jammu and Kashmir Cricket League, cricketer Furqan Bhatt was summoned for questioning by the police for displaying the Palestinian flag on his helmet to show solidarity with Palestine. pic.twitter.com/0pRwZrIkoP
— The Muslim (@TheMuslim786) January 2, 2026
اس کے بعد فرقان اور ساجد دونوں کو ڈومانہ تھانے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ، جمعہ کو پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ فرقان کے’ارادوں، پس منظر اور کسی بھی ممکنہ روابط’ کا پتہ لگانے کے لیے ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ کیس کی حساسیت اور امن عامہ پر اس کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہوئے بی این ایس ایس کی دفعہ 173(3) کے تحت 14 دن کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) کے انچارج افسر بریگیڈیئر انل گپتا نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا اہتمام نجی طور پر کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا،’جے کے سی اے کا اس ٹورنامنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک نجی ایونٹ ہے، جس میں مقامی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تماشائیوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں واقعے کی اطلاع دی گئی ہے، اور مقامی پولیس اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ چونکہ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، اس لیے پولیس ضروری کارروائی کرے گی۔’
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی فرقان بھٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبار نے پارٹی کے ایم ایل اے آر ایس پٹھانیا کے حوالے سے لکھا ہے،’آج ایک قابل اعتراض واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں کشمیر کے ایک مقامی کرکٹر کو اپنے کرکٹ ہیلمٹ پر فلسطینی جھنڈا لگائے ہوئے دیکھا گیا۔’
انہوں نے اس واقعے کو’کرکٹ کے میدان کو تخریبی ایجنڈے کے پرچار کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی ایک مکروہ کوشش’ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس سے ‘ہندوستان کی سرکاری پوزیشن سے مکمل لاتعلقی’ ظاہر ہوتی ہے۔
غورطلب ہے کہ اسرائیل-فلسطین پر ہندوستان کا دیرینہ موقف یہ رہا ہے کہ وہ دو قومی نظریے والےحل کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت تسلیم شدہ اور باہمی طور پر متفقہ سرحدوں کے اندر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جو اسرائیل کے ساتھ پرامن طریقے سے رہ سکے۔
اس تنازعہ کے بعد جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے فلسطینی کاز کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ۔ انہوں نے ایکس پر فلسطینی پرچم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ‘فرام دی ریور ٹو دی سی، پلیسٹائن ول بی فری۔’
اسی کڑی میں عوامی اتحاد پارٹی کے ایم ایل اے اور جیل میں بند بارہمولہ کے ایم پی انجینئر رشید کے بھائی شیخ خورشید نے پولیس کی کارروائی کو ‘غیر منصفانہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کو جرم نہیں سمجھا جانا چاہیے، خاص طور پر اس وقت جب ہندوستان نے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی کاز کی مسلسل حمایت کی ہے۔
خورشید نے کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کا پارلیامنٹ میں فلسطینی علامت والا بیگ لے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا،’ اگر سیاست دانوں کے لیے اس طرح کے تاثرات قابل قبول ہیں تو علامتی اشارے کے لیے کسی کھلاڑی کو نشانہ بنانا منتخب غصے کو ظاہر کرتا ہے۔’
