جے پور کے ہوا محل اسمبلی حلقہ کے ایک بی ایل او کیرتی کمار نے الزام لگایا ہے کہ انہیں دھمکی دے کر بی جے پی کے ان اعتراضات پر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں ایس آئی آر کی ڈرافٹ لسٹ سے 470 رائے دہندگان (ان کے بوتھ کے تقریباً 40 فیصد) کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کمار کا دعویٰ ہے کہ یہ اعتراضات مسلمان ووٹروں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

راجستھان کے ہوا محل اور بی ایل او کیرتی کمار۔ (تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا)
نئی دہلی: راجستھان میں ایک بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)نے خودکشی کرنے کی دھمکی دی ہے، انہوں نے مبینہ طور پر ایس آئی آرکے عمل کے تحت ان حلقوں سے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے گزشتہ انتخابات میں معمولی فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، مسلمان ووٹروں کو ہٹانے کے دباؤ کا حوالہ دیا ہے۔
نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ کے مطابق، جے پور کے ہوامحل اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی ایل او کیرتی کمار کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اور بی جے پی کے ان اعتراضات پر کارروائی کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں ایس آئی آر کے بعد شائع ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے 470 ووٹر (ان کے بوتھ کے تقریباً 40 فیصد) کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے یہ اعتراضات مسلمان ووٹروں کو نشانہ بناتے ہیں اور وہ پہلے ہی ان تمام ووٹروں کی تصدیق کر چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کام کے دباؤ اورایس آئی آرکے عمل میں گڑبڑی سے لےکرایپ کی خامیوں اور ناکافی تربیت تک کے الزامات کے درمیان راجستھان میں کم از کم تین بی ایل او کی موت ہوئی ہے۔
تازہ ترین معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو سے متعلق ہے، جس میں بی ایل او کیرتی کمار کو مبینہ طور پر فون پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میں کلکٹر کے دفتر جاؤں گا اور وہاں خودکشی کر لوں گا۔’
“मैं कलेक्टर ऑफिस जाकर वहाँ खुदकुशी कर लूँगा”
यह बात जयपुर की हवा महल विधानसभा में BLO किर्ति कुमार एक फोन कॉल पर चिल्लाते हुए कह रहे हैं
उन्हें 470 वोटरों के नाम काटने पर मजबूर किया जा रहा है
उनका आरोप है कि मुस्लिम वोटरों को निशाना बनाया जा रहा है जबकि उन्होंने इन सब वोटर्स… pic.twitter.com/EtsexUAOhD
— Supriya Shrinate (@SupriyaShrinate) January 16, 2026
اس ویڈیو میں کمار بی جے پی کے کونسلر سریش سینی سے فون پر یہ بھی کہتے ہیں، ‘پوری بستی کو ہی ہٹا دوں کیا؟ بس 50 نام رکھ لیتا ہوں؛ اس سے آپ کواور مہاراج کو آسانی سے الیکشن جیتنے میں مدد مل سکتی ہے۔’
قابل ذکر ہے کہ یہاں ‘مہاراج’ سے مراد بی جے پی کے ایم ایل اے بالمکند آچاریہ ہیں، جنہوں نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں مسلم اکثریتی ہوامحل اسمبلی حلقہ سے محض 974 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔
معلوم ہوکہ جے پور کے دکشن مکھی جی بالاجی مندر کے چیف پجاری آچاریہ اپنی حرکتوں اور تبصروں کی وجہ سے کئی بار تنازعات میں گھر چکے ہیں، جن میں وہ واضح طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
ایس آئی آر کے عمل سے متاثر طلباء
اس معاملے کو لے کرایک سرکاری اسکول کے ٹیچر کمارنے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل سے ان کے طلباء متاثر ہوئے ہیں اور اب ان پر’دو دنوں کے اندر اندر’ 470 فارموں پر کارروائی کرنے کا دباؤ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل میں 78 گھنٹے لگیں گے اور یہ ‘پورے عمل کودہرانے جیسا’ ہے۔
انہوں نے نیوز لانڈری کو بتایا،’مجھے ان ووٹروں کی تصدیق کے لیے دوبارہ فیلڈ میں جانا پڑے گا۔ یہ پورے عمل کو دہرانے جیسا ہے۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔ ایس آئی آر میں ہمارا خون پہلے ہی جل گیا ہے… بی جے پی لیڈر ہمیں معطل کروانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ میں ان کی سیاست کو بخوبی جانتا ہوں۔ میں نے اپنے اعلیٰ افسران کو آگاہ کر دیا ہے کہ میں یہ نہیں کر سکتا۔’
دریں اثنا، کم از کم پانچ قریبی بوتھ کے بی ایل او، جہاں ووٹروں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے، نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا ہے۔
علاقے کے ایک اور بوتھ کے بی ایل او سرسوتی مینا نے بتایا کہ ان کے یہاں 158 ووٹروں کے خلاف اعتراضات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے ایجنٹوں نے ہی تمام اعتراضات اٹھائے ہیں اور مسلم ووٹروں کو نشانہ بنایا ہے۔
مینا نے کہا کہ ووٹر اسی علاقے میں رہتے ہیں اور ان کی تصدیق ایس آئی آر کے تحت ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا،’ہم نے ایس آئی آر میں ان کی تصدیق کی ہے ۔یہ غلط ہے۔ ہم پر اس طرح دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔’
کانگریس نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا
کانگریس نے اس معاملے پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر اشوک گہلوت نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کئی جگہوں پر جب انتظامی عہدیداروں اور بی ایل او نے جمہوریت پر اس حملے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تو حکمراں جماعت کے ارکان نے انہیں ٹرانسفر کی دھمکی دی۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس گستاخانہ حرکت سے عوام اور جمہوریت کی توہین کی ہے۔
आज का दिन राजस्थान में लोकतंत्र के लिए एक काले अध्याय जैसा है जिसने भाजपा को बेनकाब कर दिया है।
सत्ता के मद में चूर भाजपा सरकार ने प्रशासन का दुरुपयोग कर मतदाता सूचियों में हेराफेरी का जो षड्यंत्र रचा है, वह शर्मनाक है।
SIR प्रक्रिया के अंतिम दिन, एक सुनियोजित साजिश के तहत EROs…
— Ashok Gehlot (@ashokgehlot51) January 15, 2026
گہلوت نے مزید کہا کہ یہ راجستھان میں جمہوریت کے لیے ایک سیاہ باب جیسا ہے، جس نے بی جے پی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اقتدار کے نشے میں دھت بی جے پی حکومت نے انتظامیہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی سازش کی ہے، جو شرمناک ہے۔
انہوں نے عہدیداروں کو بھی واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا، ‘جو لوگ بی جے پی کے دباؤ میں آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، جلد ہی وقت بدل جائے گا، حکومتیں آئیں گی اور جائیں گی، لیکن اگر آپ قانون کے خلاف کام کرتے ہیں تو آپ کو قانون کے دائرے میں رہ کر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔آئین کی پاسداری کریں ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔’
غور طلب ہے کہ راجستھان کے لیے ووٹر لسٹ کا مسودہ 16 دسمبر 2025 کو شائع کیا گیا تھا۔ اس میں 5.46 کروڑ ووٹروں میں سے تقریباً42 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا، جس کی آخری تاریخ 15 جنوری تھی۔ایس آئی آرکے تحت حتمی ووٹر لسٹ 14 فروری کو شائع کی جائے گی۔
Categories: الیکشن نامہ, خاص خبر, خبریں
