اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔

پروین فاطمہ کا گھر بلڈوزر کارروائی سے پہلے اور بعد میں۔
ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ‘بلڈوزر کےقہر’ پر مشتمل چھ مضامین کے سیریز کی یہ پہلی قسط ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج میں ایک ایکٹوسٹ کے خاندان کے گھر کو مسمار کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 مہینے جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں اسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑ دیا گیا۔ یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔ ’بلڈوزر راج‘ بھارتیہ جنتا پارٹی مقتدرہ ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف غیر قانونی طریقے سے انتقامی کارروائیوں کی شناخت بن چکا ہے۔ بھیڑ اس کارروائی پرجشن مناتی ہے، جبکہ عدلیہ خاموشی سے تماشا دیکھتی ہے۔
◊◊◊
نئی دہلی: اپریل 2024 میں، میں نے محمد جاوید سے ان کی بیٹی کے گھر پر ملاقات کی، جونئی دہلی کے جامعہ نگر میں واقع دو بیڈروم کا ایک فلیٹ ہے۔ سرکاری بلڈوزر نے پریاگ راج (الہ آباد) میں ان کی اہلیہ کے دو منزلہ مکان کو منہدم کر دیا تھا، جس سے ان کی زندگی بھر کی کمائی کا ایک بڑا حصہ برباد ہو گیا ۔
صاف ستھرے چہرے پر سفید مگر سلیقے سے تراشی ہوئی داڑھی رکھنے والے خاموش طبع جاوید اب 59 سال کے ہیں۔ انہوں نے آٹھ مجرمانہ الزامات اورپریوینٹو ڈیٹینشن (احتیاطی حراست) کا سامنا کرتے ہوئے 21 ماہ جیل میں گزارے تھے۔ ججوں کو کوئی بھی ایساٹھوس ثبوت نہیں ملا، جس سے یہ ثابت ہو کہ انہوں نے وہ جرائم کیے تھے جن کا ان پر الزام تھا، اس لیے 16 مارچ 2024 کو انہیں بری کر دیا گیا۔
جاوید کی رہائی کے چند ہفتے بعد ہی میں نے ان سےملاقات کی۔ وہ افسردہ تھے، لیکن ٹوٹے نہیں تھے۔ان کی بہادر بیٹیاں – ایک 26 سالہ محقق اور ایکٹوسٹ، دوسری 22 سالہ(اس وقت ) طالبہ – ابھی بھی غصے میں تھیں۔
جس چنگاری نے جاوید کے گھر اور ان کی زندگی کے 21 مہینوں کو خاکستر کر دیا، وہ 27 مئی 2022 کو ٹائمز ناؤ پر ایک ٹیلی ویژن مباحثے کے دوران بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز ریمارکس سے بھڑکی تھی۔ان کے تبصروں کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر نشر کی گئیں، جس کے باعث ہندوستان اور بیرون ملک مسلمانوں میں غصہ تھا اور اس کے نیتجے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔
پولیس فائرنگ اور نفرت انگیز حملوں میں لوگوں کی ہلاکت
ان میں پہلا واقعہ 3 جون 2022 کو اتر پردیش کے کانپورمیں پیش آیا، جہاں جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کیا اورکئی لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ تاہم، یہ آگ ملک کے کئی حصوں میں پھیل گئی، جس میں رانچی، ہاوڑہ، بھیونڈی اور ادے پور قابل ذکر ہیں۔ جہاں پتھرپھینکے گئے اور پولیس فائرنگ اور نفرت انگیز حملوں میں کئی لوگ مارے گئے۔
کانپور میں پولیس کی یکطرفہ کارروائی سے ناراض پریاگ راج کے رہنے والے جاوید نے فیس بک پرپوسٹ لکھا (جسے اب حکومت کے دباؤ کے بعد ہٹا دیا گیا ہے)؛’کانپور میں تشدد کیوں ہوا؟ ریاستی حکومت اصل بیماری کا علاج کیوں نہیں کرتی؟ نوپور شرما اور یتی نرسنہانند جیسے لوگ پیغمبر محمد کے خلاف کب تک قابل اعتراض تبصرہ کرتے رہیں گے اورسرکار اور پولیس خاموش رہے گی…’
اگلے ہفتے، 10 جون، 2022 کو، جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں مظاہرین پریاگ راج میں اکٹھا ہوئے۔ کچھ نوجوانوں نے پتھراؤ کیا، لیکن پولیس نے کم طاقت کا استعمال کرتے ہوئے جلد ہی بھیڑ کو منتشر کردیا۔
جاوید مظاہرین میں شامل نہیں تھے۔ انہوں نےفیس بک پوسٹ کے ذریعے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی تھی۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کی نماز کے بعد جمع نہ ہوں اور اپنے اپنے گھر چلے جائیں، دعا کریں کہ ہم آہنگی، امن اور محبت قائم رہے۔
لیکن بعد میں 10 جون کو، پولیس نے جاوید کو تقریباً 125 دیگر افراد کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ انہیں رات بھر پولیس لائنز میں فرش پر بٹھا کر رکھا گیا۔ جاوید نے بتایا، اگلی صبح ایک سینئر پولیس افسر نے انہیں زدوکوب کیا، ان سے اپنی چپل کوچاٹنے کو کہا اور ان پر ‘جہادی ذہنیت’ رکھنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کئی دوسرے افراد کو بھی مارا پیٹا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی نے انہیں کھانا پانی تک نہیں دیا۔ اس رات، انہیں نینی جیل لے جایا گیا۔ پولیس تشدد کی وجہ سے بری طرح زخمی اور خون میں لت پت کچھ لوگوں کو، اور جاوید کو، جن کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا، جیل کے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
دریں اثنا، گھر پر – ان کی اہلیہ، دو بیٹیاں اور حاملہ بہو – انتہائی خوفزدہ اور پریشان تھیں۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کے گھر کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سرکاری افسران کے پوسٹ دھمکی آمیز تھے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ٹوئٹ کیا کہ ان کی انتظامیہ احتجاجی مظاہروں سے سختی سے نمٹے گی، جس میں 1980 کے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتاریاں اور توڑ پھوڑ کی کارروائی شامل ہے۔
نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) پولیس کو ملزمین کو بغیر کسی مقدمے کے ایک سال تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ حال ہی میں، لداخی کارکن سونم وانگچک کے خلاف اسی طرح کے حالات میں ایک دنگے کے بعداین ایس اے کا استعمال کیا گیا تھا، پولیس کا الزام ہے کہ انہوں نے یہ دنگا بھڑکایا تھا۔
قومی سلامتی ایکٹ کا غلط استعمال
ڈیٹاسے این ایس اے کے غلط استعمال کا پتہ چلتاہے، جیسا کہ 2023 میں آرٹیکل 14 نے رپورٹ کیا تھا،اس میں 9 سالوں کے 101 معاملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھاکہ این ایس اےاور اسی طرح کے قوانین انصاف اور غیرجانبداری کے مقررہ اصولوں کو کس طرح کمزور اور مجروح کرتے ہیں۔
جاوید کی بہادر بڑی بیٹی نے ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کیا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیاکہ حکومت ان کے گھر پر بلڈوزر چلا سکتی ہے۔
غور طلب ہے کہ10جون کی آدھی رات کےقریب ایک پولیس یونٹ، ان کے گھر آئی ، جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جاوید کے اہل خانہ ان سے پولیس لاک-اپ میں مل سکتے ہیں اور انہیں کچھ کپڑے اور دوائیاں دے سکتے ہیں۔
جاوید کی اہلیہ پروین فاطمہ اور چھوٹی بیٹی سمیہ فاطمہ نے ان کا سامان پیک کیا اور خواتین اہلکاروں کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ لیکن، پولیس لاک-اپ میں انہیں جاوید سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور تھانے میں بٹھا لیا گیا۔ انہوں نے لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ کر ایک خوفناک رات گزاری۔

سماجی کارکن محمد جاوید۔
اگلا دن بھی گزر گیا، پھر بھی پولیس نے انہیں رہا نہیں کیا۔ ایک اور رات آگئی۔ اس بار انہیں تھانے میں فرش پر لیٹنے اور سونے کے لیے دری دی گئی۔
تیسرے دن صبح پولیس نے جاوید کی اہلیہ پروین فاطمہ اور بیٹی کو رہا کر دیا، تاہم انہیں گھر نہ جانے کی ہدایت کی۔ اس کے بجائے انہیں اپنے رشتہ داروں کے گھر لے جایا گیا۔ اسی صبح ان کے گھر کو بلڈوز کر دیا گیا۔ آفرین اور ان کی حاملہ بھابھی گرفتاری کے خوف سے فرار ہو گئی تھیں۔ گھر پرکوئی نہیں تھا۔
◊◊◊
جاوید کے خاندان کے گھر سے فرار ہونے کے تقریباً تین سال بعد، 1,640 کلومیٹر جنوب -مغرب میں، مہاراشٹر کے مالوان قصبے میں ایک مسلم اسکریپ ڈیلر کا نوعمر بیٹا والدین کے ساتھ اپنے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ 23 فروری 2025 کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک دلچسپ کرکٹ میچ جاری تھا۔
ایک مقامی سیاسی کارکن سچن سندیپ وراڈکر نے دعویٰ کیا کہ جب وہ ان کے گھر کے پاس سے گزر رہا تھا، تواس نے لڑکے کو پاکستان کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے سنا۔ وراڈکر نے مقامی پولیس میں شکایت کی۔
لڑکے اور اس کے والدین کے خلاف کئی دفعات کے تحت الزام عائد کیے گئے، جس میں فرقہ وارانہ امن میں خلل ڈالنے اور قومی یکجہتی کے خلاف کام کرنے کے الزام شامل تھے ۔
تین دن بعد لڑکے کو حراست میں لے لیا گیا اور قانون ہاتھ میں لینے والے نابالغوں کے لیےبنے ایک آبزرویشن ہوم میں بھیج دیا گیا اور اس کے والدین کو گرفتار کر لیا گیا۔
پھر بغیر کسی نوٹس کے اور بغیر کسی قانونی عمل کے اسکریپ ڈیلر کی دکان کو گرانے کے لیے بلڈوزر کھڑے کر دیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل 9 نومبر 2024 کو جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی سپریم کورٹ بنچ نے ایک فیصلہ سنایا تھا جسے بڑے پیمانے پر ایک تاریخی فیصلہ سمجھا گیا تھا۔
تب تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ ہندوستان میں توڑ پھوڑ کے واقعات بڑھ چکے ہیں اور مسلمان خصوصی طور پر نشانے پر ہیں۔
ایسے واقعات سے تحفظ
وکلاء کے ایک گروپ، ہاؤسنگ اینڈ لینڈ رائٹس نیٹ ورک (ایچ ایل آر این) نے 2024 کی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2017 سے ریکارڈ رکھ رہے ہیں اس کے بعد سے 2024 میں سب سے زیادہ توڑ پھوڑ کا مشاہدہ کیا گیاہے۔
اسی سال، گلوبل ایڈوکیسی گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں بی جے پی مقتدرہ چار ریاستوں میں توڑ پھوڑ کے 128 واقعات کا مطالعہ کیا گیا اور یہ پایا گیا کہ ‘ریاستی حکام اس بات کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں کہ اس طرح کی توڑ پھوڑ سے متاثر ہونے والوں کو مناسب قانونی تحفظ ملے۔’
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں پایا گیا کہ پورے خاندانوں کو سزا دی جا رہی تھی، جس میں ‘خاندان کے افراد کی من مانی حراست، اور ان کے گھروں اور کاروبار کی جگہوں کو غیر قانونی طریقے سے مسمار کرنا شامل ہے… یہ اجتماعی اور من مانی سزا کی ایک صورت ہے جو منصفانہ ٹرائل، مناسب رہائش، وقار اور مساوات کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شخص کی جائیداد کو بغیر کسی قانونی عمل کے، محض مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کی بنیاد پر مسمار کرنا، غیر آئینی ہے اور آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت دیے گئے پناہ کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس گوئی اور جسٹس وشواناتھن نے اس طرح کی مسماری پر پابندی لگا دی کیونکہ یہ غیر منصفانہ ‘اجتماعی سزا’ کے مترادف تھیں، جس سے نہ صرف ملزم بلکہ ان کے بے گناہ خاندان کے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
بہر حال، جب مالوان میں گھرمنہدم کیا گیا، توحکمران شندے شیو سینا کے ایک ایم ایل اے نیلیش رانے، جو اب مہاراشٹر حکومت میں وزیر ہیں، نے سوشل میڈیا پر انہدام کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں، اور پولیس اور میونسپل انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی فوری کارروائی کی تعریف کی۔
سال 2025میں، آرٹیکل 14 نےاپنی رپورٹ میں بتایا کہ رانے نے کس طرح مسلمانوں کو ‘پاکستانی ایجنٹ، ہرا سور، اورہرا سانپ’ کہہ کر، انہیں کپڑے اتار کرپیٹنے کی دھمکی دے کر اور ہندوؤں سے ان کا بائیکاٹ کرنے اور مساجد کو منہدم کرنے کی اپیل کرکے سیاسی طور پر سرخی حاصل کی۔ پولیس نے عدالتی احکامات پر ان کے خلاف 20 ایف آئی آر درج کیں، جن میں سے 19 گزشتہ دو سالوں میں درج کی گئیں۔
قابل ذکر ہے کہ15دسمبر 2024 کو، رانے، جو پہلے کانگریسی تھے اورجنہوں نے کبھی نریندر مودی پر تنقید کی تھی اور آر ایس ایس کا مذاق اڑایا تھا، نے کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف لیا، جونہ صرف بی جے پی کی سیاسی رواداری بلکہ نفرت انگیز تقاریر کے لیے انعام دینے کے ان کے پیٹرن کے موافق تھا۔
فروری 2025 میں، انڈیا ہیٹ لیب نے پچھلے سال اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 1,165 واقعات کو دستاویز کیا ، جس میں سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے کی تھیں – اور مسلمان سب سے زیادہ نشانے پر تھے، ریکارڈ شدہ نفرت انگیز تقاریر کے 98.5 فیصد واقعات انہی کے خلاف تھے۔
◊◊◊
میرا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ناکافی تھا، کیونکہ اس فیصلے میں اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا کہ توڑ پھوڑ کے بہت سے حالیہ واقعات غیر قانونی اور غیر آئینی تھے، نہ صرف اس وجہ سے کہ مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا — جو کئی دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے — بلکہ اس لیے بھی کہ یہ بنیادی طور پر صرف ایک کمیونٹی، یعنی ہندوستانی مسلمانوں کو نشانہ بناتا تھا۔
جیسا کہ ہم اس سیریز میں دیکھیں گے، مرکزی حکومت اور بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں ایگزیکٹو، سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، انتقامی اور صریح جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، بنیادی طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان غیر قانونی مسماریوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں سیاسی قیادت کی ناکامی
میرا استدلال ہے کہ سپریم کورٹ کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ کم از کم میرے اس مضمون کولکھنےکے وقت تک، اس نے سینئر سیاسی قیادت کو ان سرکاری غیر قانونی کاموں سے روکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، جو ان کاموں کا حکم دیتے ہیں اور ریاست کی انارکی پر جشن مناتے ہیں ، انہیں سزا دینا تو دور کی بات ہے۔
دراصل، 3 جون، 2025 کو، ماریشس یونیورسٹی میں پہلا سر ماریس راولٹ میموریل لیکچر دیتے ہوئے جسٹس گوئی نے غیر قانونی انہدام کے بارے میں اپنے 2024 کے فیصلے کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا،’صرف قانونی ہونےسےغیر جانبداری یا انصاف کا حصول نہیں ہوتا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی چیز کے صرف قانونی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح ہے۔’
جسٹس گوئی نے کہا، ‘تاریخ اس دردناک سچائی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔ قانون کی حکمرانی صرف قواعد کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک اخلاقی ڈھانچہ ہے جو مساوات کو برقرار رکھنے، انسانی وقار کے تحفظ اور متنوع اور پیچیدہ معاشرے میں حکمرانی کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ ہندوستانی عدالتی نظام قانون کی حکمرانی کے تحت کام کرتا ہے، نہ کہ بلڈوزر راج کے تحت۔’
جب توڑ پھوڑ کا استعمال اینٹی مسلم الٹرا نیشنلزم کی حمایت کے لیے کیا جاتا ہے تو ان کا خاص طور پر جشن منایا جاتا ہے۔22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں 26 شہریوں کی ہلاکت کے بعد اس دہشت گردانہ حملے سے منسلک ہونے کے شبہ میں ریاستی حکومت نے’کنٹرولڈ دھماکے’ کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم آٹھ لوگوں کے گھروں کو منہدم کر دیا ۔
ایسی انتقامی کارروائیاں صرف کشمیر تک محدود نہیں تھیں۔ مثال کے طور پر، قومی راجدھانی کے علاقے گروگرام میں بھی، غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے 300 بنگالی بولنے والے مسلمان مہاجر مزدوروں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا، اور انہیں صرف ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے مشتبہ طور پردہشت گردانہ حملے سے جوڑا گیا۔
◊◊◊
اس طرح کےسرکاری حملوں کوچھ ماہ بعد پھردہرایا گیا، جب 10 نومبر کو ملک کے دارالحکومت کے پرانے شہر میں تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک کار بم دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے۔
مرکزی حکومت نے اعلان کیا کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکے والی کار کو ڈاکٹر عمر نبی چلا رہے تھے، کیونکہ دھماکے کی جگہ سے لیے گئے ڈی این اے کے نمونے ڈاکٹر عمر کی والدہ کے نمونے سے میچ ہو گئے ہیں۔
جلد ہی، انتقامی کارروائی میں، حکام نے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں کلیدی ملزم ڈاکٹر نبی کے خاندان کےگھر کو دھماکے سے اڑا دیا۔ گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا اور دھماکے سے قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے لیے شاید یہ فخر کی بات رہی ہوگی کہ انہوں نے گھر کو تباہ کرنے سے پہلے اہل خانہ کو کوئی نوٹس بھی نہیں دیا۔
اس مسماری پر تنقید کرتے ہوئے، سری نگر کے ایم پی آغا سید روح اللہ مہدی نے 14 نومبر 2025 کوایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ ‘گھروں کو مسمار کرنے سے ‘سزا’ نہیں ملے گی، وہ صرف ‘عوامی مصائب’ کا باعث بنیں گے۔
مہدی نے اپنی پوسٹ میں لکھا،’کشمیر کی سخت سردی میں بغیر کسی ثبوت/ عدالتی حکم یا قانون کے، جو انہیں واقعے سے جوڑتا ہو، پورے خاندان کو بے گھر کرنا سفاکی ہے۔ اس سے دہشت گردانہ حملے میں ضائع ہونے والی معصوم جانوں کو انصاف نہیں مل جاتا ہے، اور نہ ہی اس سے انصاف کا مقصد پورا ہوتا ہے۔’
مہدی نے لکھا،’حقیقی مجرموں کو قانونی تحقیقات کے ذریعے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، جبری پوچھ گچھ، اور غیر قانونی مسماری سے امن نہیں آئے گا؛ یہ کشمیر کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیں گے۔’
کیا گھر کو اجاڑنے سے دہشت گردی رک گئی؟
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی لال قلعہ دھماکے کے ملزم کے گھر کو منہدم کیے جانے پر تنقید کی۔ 14 نومبر 2025 کو انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا، ‘اگر اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردی کو روک سکتیں، تو یہ اب تک رک چکی ہوتی۔ پہلگام حملے کے بعد کتنے گھر اڑا دیے گئے؟ کیا یہ (دہشت گردی) رک گئی؟ مجھے ڈرہے کہ ایسی کارروائیاں غصے کو اور بھڑکا سکتی ہیں۔’
جموں و کشمیر میں یہ توڑ پھوڑ کوئی استثنیٰ نہیں تھا۔
انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز- جو پچھلے چار سالوں سے جیل میں ہیں –کی قیادت والے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی اور لیگل فورم فار کشمیرنے 2020 اور 2024 کے درمیان فوج یا نیم فوجی دستوں کے ذریعے فوجی آپریشن یا دہشت گردی کے تشدد کے ملزم کشمیری مردوں کے خلاف بدلے کی کارروائی کے بہانےکم از کم 1,172 شہریوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا ریکارڈ درج کیا ہے۔
قومی یا بین الاقوامی قانون میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو قانونی طور پر اس طرح کی تباہی کی منظوری یا سفارش کرتی ہو۔
مسماری کے بارے میں 2024 کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ریاست کے میونسپل اور لینڈ ریگولیشن قوانین کا جائزہ لیا گیا، جس میں پتہ چلا کہ وہ پہلے ‘حقیقی’ مشاورت، مناسب نوٹس، معاوضہ، اور متبادل تصفیہ کے معاملے میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات سے کافی نیچے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے،’ریاستی حکام تخریب کاری کی ایسی کارروائیوں کو انجام دیتے ہوئے ملکی قوانین میں بتائے گئے بنیادی طریقہ کار پر بھی عمل کرنے میں ناکام رہے۔’
◊◊◊
مسلح گارڈکی نگرانی میں جاوید کو جس ہاسپٹل وارڈ میں داخل کیا گیا تھا، وہاں ایک بڑا ٹیلی ویژن تھا۔ اتوار، 12 جون، 2022 کو، انہوں نے نیوز رپورٹ سنی جن میں انہیں جمعہ کے احتجاجی مظاہروں کا’ماسٹر مائنڈ’ بتایا گیا تھا۔
اتوار کی صبح، انہوں نے دیکھا —جیسا کہ انہوں نے بیان کیا، وہ حیران اور افسردہ تھے — کہ بلڈوزر ان کے گھر کو گرا رہے تھے۔ اپنے رشتہ داروں کے گھر میں، ان کی اہلیہ اور بیٹیوں نے بھی ٹیلی ویژن پر دیکھا کہ بلڈوزر ان کے گھر کو گرا رہے ہیں۔

منہدم ہونے سے پہلے (بائیں)اور بعد میں جاوید محمد کا گھر۔ (تصویر بہ شکریہ: ہرکارہ)
دو منزلہ مکان اور جس زمین پر یہ بنایا گیا تھا وہ جاوید کی اہلیہ پروین کی ملکیت تھی۔ اگر جمعہ کے احتجاجی مظاہروں میں جاوید کے مبینہ کردار کی وجہ سے انہیں سزا دینے کے لیےگھر گرایا جا رہا تھا، تو انتظامیہ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ گھر کے مالک وہ نہیں تھے۔
میونسپل حکام نے دعویٰ کیا کہ مکان غیر قانونی طور پر بنایا گیا تھا اور 25 مئی کو نوٹس بھیجا تھا۔ خاندان نے اس سے انکار کیا۔ حکام نے گھر کےدروازے پر نوٹس صرف ایک رات پہلے چسپاں کیا تھا، جب گھر کےہر شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا یا وہ گھر سے چلے گئے تھے۔
میونسپلٹی سالوں سے گھر سے ٹیکس وصول کر رہی تھی، لیکن اس نے کبھی بھی نہیں کہا کہ بلڈنگ غیر قانونی ہے۔ انہوں نےاستدلال کیا،’اور اگر یہ مکان واقعی غیر قانونی طور پر بنایا گیا تھا، تو اسی گلی اور دوسری گلیوں میں موجود درجنوں دیگر مکانات کو کیوں نہیں گرایا گیا، حالانکہ ان کی قانونی حیثیت پروین فاطمہ کے گھر جیسی ہی تھی۔’
بلڈوزر سے گھر کو منہدم کرنے سے پہلے حکام نے پڑوسیوں سے کہا کہ ان کے پاس گھر سے قیمتی سامان ہٹانے کے لیے صرف چند منٹ ہیں، وہ جو سامان نکال سکتے ہیں نکال لیں۔ اکثر پڑوسی اتنے خوفزدہ تھے کہ ہل بھی نہیں پائے۔ کچھ پڑوسی بھاگ کر گھر کےاندر گئے اور جو بھی قیمتی سامان انہیں ملا، انہیں باہر نکال لائے۔
اس کے بعد، ایک بڑے ہجوم اور ٹیلی ویژن کیمرے والے نامہ نگاروں کے سامنے گھر کو مسمار کر دیا گیا۔
کچھ ٹیلی ویژن رپورٹر، لائیو رپورٹنگ کرتے ہوئے، اپنی آنکھوں کے سامنے مکان کو گرتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ ایک نے کہا،’یہ کسی آدمی کا گھر نہیں ہے۔ یہ ایک فسادی کا گھر ہے، اور اسے وہی ملا ہے جس کا وہ حقدار تھا۔’ دوسرے نے کہا،’دیکھو اس کے پاس کتنی کتابیں ہیں۔ اسے دہشت گرد بننے کے بجائے کتابیں پڑھنی چاہیے تھیں!’
گھر گرا دیا گیا، بلڈوزر چلے گئے، صحافی چلے گئے، اور پھر لوگ ملبے کو چھاننے آئے تاکہ لوٹنے لائق کوئی چیز تلاش کی جا سکے۔
جاوید نے اس لمحے کو یاد کیا اور مجھے بتایا کہ ہسپتال کے بستر پر لیٹے اپنے گھر کو تباہ ہوتے دیکھ کر انہیں کیسا لگ رہا تھا۔
انہوں نے کہا،’ اندر ہی اندر میری روح رو رہی تھی۔ میں رونے لگا، اور جلد ہی میرے اردگرد موجود لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسوآ گئے۔ انہوں نے مجھ سے نہ دیکھنے کے لیے کہا، لیکن میں کیسےنظریں ہٹا سکتا تھا؟ ہماری ساری زندگی کی جمع پونجی ملبے کا ڈھیر بن گئی تھی۔ میں نے سوچا-کیا میرا خاندان میری سماجی خدمت کی وجہ سے یہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے؟’
‘میری اہلیہ اور چھوٹی بیٹی نے مجھ سے کئی بار یہ سب کچھ ترک کر کے گھر میں رہنے کی گزارش کی تھی۔ اگر میں ان کی بات مان لیتا تو وہ بے گھر نہ ہوتے۔’

جاوید کے گھر پر بلڈوزر کی کارروائی۔
‘اپنا گھر ٹوٹنے سے بڑا کوئی درد نہیں ہے’
جاوید کی اہلیہ اور بیٹیوں کے پاس سچ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں وہ جا سکیں۔ کچھ رشتہ داروں نے انہیں چند راتوں کے لیے پناہ دی۔ لیکن سب کو ڈر تھا کہ اگر وہ انہیں زیادہ دیر تک اپنے اردگرد رکھیں تو بلڈوزر ان کے گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
بیٹیوں نے روتے ہوئے کہا، ‘اپنے گھر کے ٹوٹنے سے بڑا کوئی دکھ نہیں ہوتا، جیل بھی اتنی بری نہیں ہوتی۔’
پریاگ راج میں لوگ انہیں گھر کرایہ پر دینے سے بھی ڈر رہے تھے۔ آخر کار ایک دور کے رشتہ دار نے انہیں شہر کے مضافات میں ایک چھوٹا سا مکان کرایہ پر دے دیا۔ نو دن بعد، انہیں معلوم ہوا کہ جاوید اور کچھ دوسرے قیدیوں کو 320 کلومیٹر دور دیوریا کی ایک اور جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے ان کے خاندان کے لیے جیل میں ان سے ملاقات کرنا اور بھی مشکل ہو گیا۔
ان کی بیٹی نے مجھے بتایا،’جیل بہت مہنگی جگہ ہے، جب بھی ہم ان سے ملنے جاتے تھے، تو پیسے خرچ ہوتے تھے۔ ہم انہیں ماہانہ اخراجات کے لیے پیسے دیتے تھے، اور پھر کرایہ بھی دینا ہوتاتھا، لیکن ہمارا گھر اور ہمارا سارا سامان برباد ہو چکاتھا۔ ہمارے والد جیل میں تھے، ہر مہینے کمانے والا کوئی نہیں تھا، اور کمیونٹی کے لوگ ہماری مدد کرنے سے گریزاں تھے کہ کہیں ان کی شناخت نہ ہو جائے۔ وہ مہینے بہت مشکل مہینے تھے۔’
جاوید پر سب سے پہلے جمعہ کی نماز کے بعد ہوئے مظاہروں اور تشدد سے متعلق پانچ جرائم کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کے بعد، ان پر این ایس اے کے تحت الزام لگایا گیا۔ اس قانون کے تحت تشکیل دیے گئے ایک ایڈوائزری پینل کے سامنے اپنا دفاع کرنے کے لیے انہیں وکیل کی مدد لینے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے ان کی ضمانت کے امکانات ختم ہو گئے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی حفاظتی نظر بندی کے خلاف ان کی درخواست کی سماعت کے لیے 10 ماہ کا وقت لیا، لیکن فوری طور پر کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
اس کے بعد ان کے خلاف مزید تین فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ اس کے بعد ان پر گینگسٹرزاور اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (روک تھام) ایکٹ، 1986 کے تحت الزام لگایا گیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بالآخر انہیں ضمانت دیے جانے کے بعد، اتر پردیش پولیس نے ان پر آرمزایکٹ، 1959 کے تحت الزام لگایا۔
اس بار، الزام یہ تھا کہ پولیس نے انہدام کے بعد ان کے گھر سے ایک 12 بور اور ایک 315 بور کا پستول برآمد کیا۔ انہدام کے وقت بہت سے لوگ اور صحافی ہوں موجود تھے لیکن انہدام کے دوران یا اس کے بعد کسی کو بھی پستول نظر نہیں آئی۔ جاوید نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کے پاس کوئی پستول تھی۔
آخرکار، 21 ماہ کے بعد اور سخت قوانین کے تحت متعدد مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے کے بعد، انہیں رہا کر دیا گیا۔
جاوید کے خلاف ان مقدمات کی سماعت کرنے والی مختلف عدالتوں کے نتائج کیا تھے؟ ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججوں نے پایا کہ جاوید کا نام ملزم کے طور پردرج نہیں تھا۔ اگرچہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ جاوید کی مجرمانہ تاریخ ہے، لیکن وہ اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کر سکے کہ انہیں کب اور کن جرائم کے لیے سزا ملی۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس وکرم ڈی چوہان نے 5 فروری 2024 کو جاوید کو ضمانت دیتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ پولیس کے الزامات ‘غیر واضح’ تھے اور ان کی ‘ٹھوس بنیاد’ نہیں تھی۔ پولیس نے یہ ثابت کرنے کے لیے ‘کوئی ٹھوس ثبوت’ فراہم نہیں کیاجس سے ثابت ہو سکے کہ وہ کسی گینگ کے سرغنہ یا آرگنائزر تھے۔
جسٹس چوہان نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ محمد جاوید نے تشدد میں ‘اہم کردار’ ادا کیا یا ہجوم کو اکسایا۔ جسٹس چوہان نے کہا، ‘آئین ہند کے آرٹیکل 21 کی روشنی میں، بغیر کسی ٹھوس معلومات اور ثبوت کے درخواست گزار کے خلاف لگائے گئے عام الزامات، بذات خود، درخواست گزار کی ضمانت سے انکار کی بنیاد نہیں بن سکتے۔’
جسٹس اجئے بھنوٹ نے جاوید کو پوری طرح بری کر دیا۔
جسٹس بھنوٹ نے کہا، ‘وہ قانون کا احترام کرنے والا شہری ہے جو ملک کے اتحاد اور مختلف برادریوں کے درمیان بھائی چارے کو اپنے دل کے بہت قریب رکھتا ہے۔ درخواست گزار نے ایسا کوئی پیغام پوسٹ نہیں کیا ہے اور نہ ہی کرے گا جس سے معاشرے میں سماجی ہم آہنگی خراب ہو۔ جمعہ کی نماز کے بعد بہت سے لوگ جمع ہوئے، جس کے لیے درخواست گزار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ نہ ہی درخواست گزار کچھ لوگوں کی طرف سے کیے گئے تشدد کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے لیے قصوروار ہے۔’
(ہرش مندر سماجی کارکن اور مصنف ہیں۔ اس مضمون کے لیے عمیر خان نے ان کی تحقیقی معاونت کی ہے۔ اس مضمون کو ڈائسپورا ان ایکشن فار ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس کے تعاون سے کیا گیا ہے۔)
ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
