امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیرینہ ’دوست‘ رہے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور مفادات کے ساتھ ’غداری‘ کے مترادف ہے۔
فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
اتر پردیش کی حکومت نے پریاگ راج کے ایک ایکٹوسٹ کی فیملی کے گھر کو منہدم کر دیا، جنہوں نے بغیر کسی جرم کے 21 ماہ جیل میں گزارے۔ جب وہ پولیس کی حراست میں ہسپتال میں تھے، تب بلڈوزر سے گھر کو توڑا گیا، یہ گھر ان کی اہلیہ کا تھا۔
’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے۔’
لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہوئے دھماکے کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، متعدد متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دہلی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے بعد اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے۔ حکومت نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، مستقل طور پر معذور ہونے والے متاثرین کو 5 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو 2 لاکھ روپے اور معمولی زخمی ہونے والوں کو 20,000 روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔
چھتیس گڑھ حکومت نے یوم تاسیس کی تشہیر پر تقریباً 6 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ ریاست کے سوامی آتمانند اسکولوں کے لیے سالانہ فنڈنگ میں تقریباً 64 فیصد کی کمی کر دی گئی ہے۔ اسکولوں کے سامنے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سمیت بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
دہلی میں خواتین کے تحفظ کے خدشات کے درمیان دہلی خواتین کمیشن ڈیڑھ سال سے بند پڑا ہے۔کمیشن کی آخری چیئرپرسن سواتی مالیوال تھیں، جنہوں نے جنوری 2024 میں راجیہ سبھا میں جانے کے لیے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سال فروری میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے خواتین کے تحفظ کے بارے میں تمام طرح کے دعوے کیے تھے، لیکن آج تک کمیشن کے دفتر پر لگا تالہ کھل نہیں سکا ۔
اگر ہندوستانی حکومت کے پچھلے چھ سالوں کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے، تو ان کا ایک ہی مقصد معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار بناکر مجبور بنایا جائے۔
ہندوستان کی مقتدر شخصیات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ سال قبل لیے گئے اس فیصلہ نے جموں و کشمیر کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے حکومت قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا قدم انتہائی غیر معمولی ہوگا، کیونکہ ماضی میں اس سے بھی خراب حالات میں انتخابات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
ٹھیک 6 سال پہلے 5 اگست 2019 کو مرکز کی بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو آزاد ہندوستان میں شامل کرنے کی شرط کے طور پر آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تبدیل کر دیا تھا۔
’وقت کے ساتھ میں نے اپنی شناخت کو چھپانا شروع کر دیا ہے۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں، تو میں کہتی ہوں – یہیں دلی سے۔‘
پانچ اگست 2019 کے بعد کا کشمیرہندوستان کے لیے آئینہ ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کا کشمیرائزیشن تیز رفتاری سے ہوا ہے۔ شہریوں کے حقوق کی پامالی، گورنروں کی ہنگامہ آرائی ، وفاقی حکومت کی من مانی۔
فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں وکشمیر سے وابستہ اس غیر رسمی گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتی دعووں کے برعکس کشمیر کے زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا امن و امان و سلامتی کا دعویٰ صحیح ہے، تو یہ خطہ پچھلے پانچ سالوں سے منتخب اسمبلی کے بغیر کیوں ہے؟
ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں ملی جانکاری کے مطابق، ملک میں سب سے زیادہ بندوق لائسنس ہولڈرز والا صوبہ اتر پردیش ہے۔ اس کے بعد جموں کشمیر اور پنجاب ہے۔
ویڈیو: منی پور میں گزشتہ دو ماہ سے اکثریتی میتیئی کمیونٹی اور کُکی برادری کے درمیان نسلی تشدد جاری ہے۔ اب آر ٹی آئی کے تحت یہ جانکاری ملی ہے کہ شمال–مشرقی ریاستوں میں منی پور حکومت نے پچھلے 7 سالوں میں سب سے زیادہ بندوق کے لائسنس جاری کیے ہیں۔
خصوصی رپورٹ: ایک آر ٹی آئی کے جواب میں دی وائر کو موصولہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ تشدد سے جوجھ رہےمنی پور میں اس وقت 35117 ایکٹو گن لائسنس ہیں۔ دسمبر 2016 میں یہ تعداد 26836 تھی۔
سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ اور گجرات میں یکساں سول کوڈ کو لاگو کرنے کے لیے کمیٹیاں قائم کرنے کے ان ریاستی حکومتوں کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ آئین ریاستوں کو ایسی کمیٹیاں قائم کرنے کا حق دیتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو پولیس سربراہ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے کشمیر میں نسبتاً امن و امان قائم کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے کچھ غلط نہیں ہے۔ مگر یہ قبرستان کی پر اسرار خاموشی جیسی ہے۔خود ہندوستان کے سیکورٹی اور دیگر اداروں میں بھی اس پر حیرت ہے کہ کشمیریوں کی اس خاموشی کے پیچھے مجموعی سمجھداری یا ناامیدی ہے یا یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔
کیب اور آٹو ڈرائیوروں نے دہلی میں سی این جی کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کرایے پرنظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں 18 اپریل سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں سی این جی کی قیمت میں 13.1 روپے فی کیلو گرام کا اضافہ ہوا ہے۔
بی جے پی نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت پر حملہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی، حالانکہ اس نے اقتدار میں آتے ہی پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اس کے لیے بین الاقوامی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرانے لگی۔
ہریانہ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے آئے یوگا گرو بابا رام دیو جب صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کر رہے تھے تو ایک صحافی نے ان کو ان کاپرانا بیان یاد دلایا،جس میں انھوں نے ایسی حکومت کے لیے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی ، جس کے دور اقتدار میں پٹرول 40 روپے فی لیٹرہو۔ صحافی کا سوال سن کر رام دیو برہم ہوگئے اور انہوں نے اس کو دھمکی دے ڈالی۔
گزشتہ نو دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 5.60 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، سرکاری کمپنیوں کو ‘بیچنا’ اور کسانوں کو ‘لاچار’ کرنا ان کا روز کا کام ہو گیا ہے۔
سنیچر کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ تیل کمپنیاں خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہیں۔ اب تک چار بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3.20 فی لیٹر اضافہ […]
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بتایا کہ یکساں سول کوڈ کا دائرہ کا یہ ہوگا کہ شادی، طلاق، زمین وجائیداد، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات میں تمام شہریوں کے لیےیکساں قوانین نافذ کیے جائیں، چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں۔
گزشتہ سال اکتوبر کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ پہلا اضافہ ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اتر پردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل 4 نومبر 2021 سے مستحکم تھیں ۔ قیاس آرائیاں تھیں کہ 10 مارچ کو انتخابی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہی اضافے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اب حکومت لگاتار قیمتوں کا ‘وکاس’ کرے گی۔
مدھیہ پردیش کے ہائر ایجوکیشن منسٹر موہن یادو نے کہا کہ جب نئی ایجوکیشن پالیسی کے تناظر میں نیا نصاب لایا جا رہا ہے تو ہم اپنے شاندار ماضی کو بھی سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ناسا کی ایک تحقیق میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ رام سیتو لاکھوں سال پہلےانسانوں کے ذریعے بنایا گیا پل تھا۔
ویڈیو: ہندوستان کی عوام مہنگائی کی مارجھیل رہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل،رسوئی گیس کی قیمت لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔اس سال جنوری سےستمبر تک رسوئی گیس کے دام 190روپے تک بڑھ گئے، وہیں پٹرول کے دام 100 کے پار بھی گئے۔اس بیچ بی جے پی کے رہنماؤں اوروزیروں کے عجب و غریب بیان آتے رہے۔سرکار میں آنے سے پہلے اور بعد میں بی جے پی وزیروں اوررہنماؤں کے بیانات کو سنا جانا چاہیے۔
جہاں ریاست کی سرکاری اور قومی زبان اردو کا جنازہ نکال دیا گیا، کشمیری کا اسکرپٹ تبدیل کیا گیا، اسی طرح خطے کو وازوان کی انفرادیت سے بھی محروم کرنے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔
ریاستی حکومت نے کووڈ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے پہلی سے 10ویں جماعت کےنصاب کو محدود کرنے کے لیے اسلام، عیسائی مذہب اورٹیپو سلطان سے متعلق ابواب ہٹانےکی تجویز رکھی تھی۔ اس پر اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ سرکار اپنے رائٹ ونگ ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔
مدھیہ پردیش پولیس نے گھر بیٹھے ہوئے ہی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سوموار کو ‘ایف آئی آر آپ کے دوار’اسکیم کی شروعات کی۔اس کے تحت شکایت ملتے ہی ڈائل 100 شکایت گزارکے گھر جاکر ایف آئی آر درج کرےگا۔
بی جے پی کی رمن سنگھ حکومت نے 2008 میں ایمرجنسی کےدوران جیل میں بند رہے میسا قیدیوں کے لیے لوک نایک جئے پرکاش نارائن اعزازی فنڈاسکیم بنایا تھا، جس کے تحت چھتیس گڑھ میں تقریباً 300 لوگوں کو پنشن مل رہا تھا۔
وزیر مملکت برائے وزارت محنت و روزگارجتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ گزشتہ سال مارچ تک مرکزی حکومت کے مختلف محکمہ جات کے کئی زمروں میں کل 683823 خالی عہدے تھے۔ سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ سی بی آئی میں ایک ہزار سے زیادہ عہدے خالی ہیں۔
بی جے پی کرناٹک نے کہا ہے کہ ، ‘ٹیپو جینتی’ کی عوامی تقریبات کا خاتمہ کرکے ، ہمارے وزیر اعلی نے ریاست کی عزت بحال کی ہے۔اب اگلے قدم کے طو رپرہمارے بچوں کے سامنے اصلی ٹیپو سلطان کو سامنے لانے کے لیے درسی کتاب کوپھر سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ان کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ٹیپو نے ہندوؤں کے خلاف ظلم کیا اور وہ کنڑ مخالف تھا۔
وزیر تعلیم نے افسروں سے کہا ہے کہ وہ متنازعہ حکمراں ٹیپو سلطان پر مشتمل باب کو تاریخ کی نصابی کتابوں سے ہٹانے کے بی جے پی ایم ایل کے مطالبے پر غور کریں اور تین دن میں رپورٹ دیں ۔
کشمیری لسانی منظرنامے سے اردو کو ہٹانے سے اردو بولنے والوں اور دیگرزبان کے بولنے والوں میں شورِش پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، جبکہ کشمیری پہلے ہی بہت چوٹ کے شکار بن چکےہیں۔ کیایہ ایک مناسب وقت ہے کہ کسی زبان کی بحث کے ذریعے ان زخموں پر ابلتے ہوئے تیل کو پھینک دیا جائے، جس کے خطرات ابھی پوری طرح ماپے نہیں گئے ہیں؟
مظفر نگر ضلع کے بیہڑی گاؤں کی 24 سالہ گینگ ریپ متاثرہ سے تقریباً ایک سال پہلے تین لوگوں نے ریپ کیا تھا اور تب سے ملزمین ضمانت پر ہیں ۔ خودکشی کرنے سے پہلے متاثرہ نے اپنے ہاتھ پر ملزمین کے نام لکھے تھے۔
ویڈیو: ہریانہ اسمبلی الیکشن سے پہلے ریاستی کانگریس میں مچی کھینچ تان کے بعد گزشتہ دنوں پارٹی نے دو بار وزیراعلیٰ رہے بھوپیندر سنگھ ہڈا کو ریاستی الیکشن کمیٹی کی ذمہ داری سونپی ہے۔ آئندہ انتخابات کے مد نظر دی وائر کی ڈپٹی ایڈیٹر گورو بھٹناگر سے ان کی بات چیت۔
کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تحویز اس سے قبل دو بار 2003اور پھر 2016 میں ہندوستان کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی۔ مگر ریاستی حکومت نے اس پر سخت رخ اپنا کر اس کو رد کردیا۔
موری گاؤں بی جے پی آئی ٹی سیل کے سکریٹری نیتو بورا نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت مہاجر مسلموں سے مقامی آسامیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔
چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی سہ رکنی بنچ نے یہ معاملہ آئینی بنچ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ کسی ادارے کو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ دیے جانے کے معیار کیا ہوں گے اس کو واضح کیا جائے۔