خاص خبر

وزارت داخلہ کا ’سہیوگ‘پورٹل مودی حکومت کی ڈیجیٹل سنسرشپ کا نمونہ ہے

دی وائر نے حکومت کے اب تک منظر عام پر نہیں لائے گئے ’سہیوگ‘ پورٹل (آئی ٹی انٹرمیڈیئری) کے یوزر مینوئل کا تجزیہ کیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے آن لائن مواد ہٹانے سے متعلق مکمل طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے۔ مینوئل بتاتا ہے کہ آن لائن مواد ہٹانے کے احکامات یکطرفہ ہوتے ہیں، جہاں اسٹیک ہولڈرز میں حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان گفت وشنید ہوتی ہے، جبکہ اصل مواد لکھنے یا بنانے والا ندارد ہوتا ہے۔

سہیوگ پورٹل کے یوزر مینوئل سے پتہ چلتا ہے کہ نئے قواعدباضابطہ سنسرشپ کے نظام کو قائم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہیں، جس میں وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی کو پس پشت ڈال کر وزارت داخلہ  کلیدی رول میں ہے۔(السٹریشن : پری پلب چکرورتی / دی وائر)

نئی دہلی: دی وائر کو سہیوگ پورٹل (آئی ٹی انٹرمیڈیئری) کا یوزر مینوئل حاصل ہوا ہے، جس میں مرکزی حکومت کی جانب سے آن لائن مواد ہٹانے کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

بتادیں کہ یہ مینوئل کبھی منظر عام پرنہیں لایا گیا۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مواد ہٹانے کے احکامات یکطرفہ ہوتے ہیں، جہاں سرکاری ایجنسیاں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمزاور ٹیلی کام کمپنیوں جیسے انٹرمیڈیئریز کے درمیان براہ راست بات ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں صحافیوں یا کانٹینٹ کریٹرز کو ’اسٹیک ہولڈرز‘  یعنی فریقین  کی تعریف میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ کسی مواد کو ہٹانے سے پہلے آزادانہ  طور پر جائزہ لینے کے کسی عمل کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

واضح ہو کہ اکتوبر 2024 میں وزارت داخلہ کی جانب سے شروع کیے گئے سہیوگ پورٹل کا مقصد مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کو، آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعہ 79(3) (بی) اور ’انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز‘ 2021 کے قاعدہ 3(1) (ڈی)کے تحت مواد ہٹانے کے نوٹس بھیجنے کےعمل کو خودکار (آٹومیٹ)بنانا بتایا گیا تھا۔ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اےخصوصی طور پر بلاکنگ احکامات سے متعلق ہے، لیکن اسے پس پشٹ ڈالتے ہوئے اس پورٹل کے ذریعے مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے جانے پر کافی تنقید ہوئی ہے۔ اس عمل کی شفافیت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ اس سے سرکاری سنسرشپ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

گزشتہ10فروری کو وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی نے انفارمیشن ٹکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا اخلاقی ضابطہ) ترمیمی قواعد 2026 جاری کیے، جن میں مواد ہٹانے کی مدت 24 سے 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی گئی ہے۔ یہ قواعد 20 فروری سے لاگو ہوئے ہیں، یہ وہی دن  ہےجب نئی دہلی میں اے آئی انڈیا سمٹ اختتام پذیر ہوئی تھی۔

سہیوگ پورٹل کو وزارت داخلہ کے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی)نے تیار کیا ہے۔ اس سے پہلے کسی مواد کو بلاک کرنے کے لیے تحریری حکم جاری کرنا ہوتا تھا، وجوہات بتانی پڑتی تھی، متاثرہ فریق کو نوٹس دیا جاتا تھا اور ایک عدالتی کمیٹی کے ذریعے جائزہ لینا ضروری ہوتا تھا۔

دی وائر کے دیکھے گئے مینوئل سے اشارہ ملتا ہے کہ نئے قواعد ایک سرکاری سنسرشپ کے نظام کوقائم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہیں، جن میں وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی کو پس پشت ڈالتے ہوئے  وزارت داخلہ کلیدی رول میں ہے۔

اسٹیک ہولڈرز میں متاثرین شامل نہیں

قابل ذکر ہے کہ جن کا مواد ہٹایا جائے گا، انہیں مینوئل میں بطور اسٹیک ہولڈر / فریق شامل نہیں کیا گیا ہے۔ فریقین میں وزارت داخلہ، آئی 4 سی، وزارت الکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی، محکمہ ٹیلی کمیونی کیشن، مرکزی حکومت کی مجاز ایجنسیاں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نوڈل افسران اور انٹرمیڈیئریز کو شامل کیا گیا ہے۔

انٹرمیڈیئریز سے مراد وہ آن لائن پلیٹ فارمز ہیں جو صارفین کو مواد بنانے، اپلوڈ کرنے، شیئر کرنے، ترمیم کرنے یا رسائی حاصل کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ اس میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر، سرچ انجن، ویب ہوسٹنگ سروسز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم شامل ہیں۔

مینوئل میں سہیوگ پورٹل کے مکمل ورک فلو یعنی اس کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس کے مطابق، مرکزی یا ریاستی مجاز ایجنسیاں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے، ویب مواد سے غیر قانونی یا نقصاندہ معلومات ہٹانے کے لیے سہیوگ پورٹل کے ذریعے اپیل کریں گے۔ یہ درخواست متعلقہ انٹرمیڈیئری یا انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر (آئی ایس پی) کے پاس  مواد ہٹانے یا اس تک رسائی بند کرنے کے لیے بھیجی جائے گی۔ سوشل میڈیا انٹرمیڈیئری کے معاملے میں نوٹس براہ راست بھیجا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کے معاملے میں درخواست پہلے محکمہ ٹیلی کمیونی کیشن کو جائے گی اور وہاں سے آگے آئی ایس پی کو بھیجی جائے گی۔

آئی ٹی انٹرمیڈیئری اور آئی ایس پی کی جانب سے کی گئی کارروائی کی ’ایکشن ٹیکن رپورٹ‘ نیشنل ڈیش بورڈ پر فریقین کو نظر آئے گی۔ یہاں انٹرمیڈیئریز اضافی معلومات یا ثبوت طلب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ حکم کی تعمیل کرنے سے قاصر  ہوں تو اس کی وجہ بتاتے ہوئے اپنی معذوری کو درج کر سکتے ہیں۔

تاہم، حتمی فیصلہ مجاز افسر کا ہوگا۔ اگر افسر وجوہات سے متفق ہو تو درخواست بند کر دی جائے گی، اور اگر متفق نہ ہو تو اضافی تبصرہ کرتے ہوئے تعمیل کے لیے کہہ سکتا ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے اور آئی ٹی (انٹرمیڈیئری) قواعد 2021 کے قاعدہ 7 کے تحت مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فریقین یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کسی ریاست میں مواد ہٹانے سے متعلق کتنی درخواستیں کی گئیں، کتنی زیر التوا ہیں اور کن یو آر ایل پر مواد ہٹایا گیا۔ اس کے علاوہ، کتنے عمل میں ہیں، کن کی تعمیل ممکن نہیں ہے، کن کے بارے میں اضافی معلومات طلب کی گئی یا کون سی زیر التواء ہیں۔ کسی بھی کارروائی کی وجوہات صرف انہی فریقین کو نظر آئیں گی۔

وسیع اختیارات، آزادانہ جائزہ نہیں

مینوئل کے مطابق سہیوگ پورٹل دفعہ 79(3) (بی)کے تحت نوٹس بھیجنے کے عمل کو خودکار(آٹومیٹ) بناتا ہے تاکہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہونے والی معلومات، ڈیٹا یا کمیونی کیشن لنک کو ہٹایا یا اس تک رسائی روکی جا سکے۔ مجاز ایجنسیاں خود یا کسی عدالت کی ہدایت پر نوٹس جاری کر سکتی ہیں۔

دفعہ 79(3)(بی)کے تحت کارروائی کا دائرہ وسیع ہے، جس میں نہ صرف غیر قانونی معلومات ،بلکہ ایسی کسی بھی معلومات، ڈیٹا یا لنک کو ہٹایا جا سکتا ہے جو غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال ہو رہا ہو۔

اس میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، خود کو نقصان پہنچانے والا مواد، جعلی پہچان، فیک نیوز، غیر قانونی ایڈلٹ مواد، بغیر رضامندی کے نجی تصویریں، فحش یا پورن مواد، فرضی ایپ یا یو آر ایل، غلط معلومات، سائبر بُلنگ، کاپی رائٹ اور دانشورانہ املاک کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی قمار بازی، منی لانڈرنگ، ڈاکسنگ، ہیکنگ، میلویئر، ڈیٹا لیک، کسی ذات، مذہب یا جنس کو نشانہ بنا کردھمکی دینا یا ہراسانی، فشنگ، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی بھرتی، فرضی بینک اکاؤنٹ یا سم کارڈ کی خرید و فروخت، منشیات اور اسلحہ کی غیر قانونی تجارت اور دھوکہ دہی والے اشتہارات شامل ہیں۔

یوزر مینوئل سے واضح ہے کہ مواد ہٹانے کے ایسے ’ٹیک ڈاؤن‘ احکامات کے لیے کسی آزادانہ طور پر کسی جائزہ عمل کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔ احکامات براہ راست حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا انٹرمیڈیئری یا ٹیلی کام کمپنیوں کو بھیجے جاتے ہیں اور مواد بنانے والے فرد کو اس کی اطلاع بھی نہیں دی جاتی۔

پہلے کے نظام میں بھی آزادانہ جائزے کا الگ سے اہتمام نہیں تھا۔ دفعہ 69 اےکے تحت بلاکنگ درخواست حکومت کو بھیجی جاتی تھی اور اگر مناسب سمجھی جاتی تو سینئر افسران کی کمیٹی کے پاس جاتی تھی۔ متعلقہ پلیٹ فارم کو جواب دینے کا موقع ملتا تھا، لیکن حتمی چیلنج صرف عدالت میں ہی دیا جا سکتا تھا۔

سہیوگ کے خلاف اعتراضات

اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 19 آن لائن پلیٹ فارمز، جن میں وہاٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگرام شامل ہیں، کو 2,300 سے زائد بلاکنگ احکامات بھیجے گئے۔ یہ معلومات آر ٹی آئی کے تحت حاصل اعداد و شمار کی بنیاد پر انڈین ایکسپریس نے دی ہے۔

سہیوگ کو قانونی چیلنج بھی دیا گیا۔ ایکس کارپ نے حکومت کی جانب سے اس پورٹل کے استعمال کو چیلنج کیا، لیکن ستمبر میں کرناٹک ہائی کورٹ نے درخواست خارج کر دی اور سہیوگ کو ’عوامی مفاد کا وسیلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہریوں اور سوشل میڈیا انٹرمیڈیئری کے درمیان تعاون کی ایک مثال ہے۔

یہ پورٹل آن لائن خبروں کے پھیلاؤ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایکس کارپ کے معاملے میں دائر مداخلتی درخواست میں ڈیجیٹل پبلشرز کی تنظیم ڈیجی پب نے انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے وکیلوں کی مدد سے کہا کہ ایکس جیسے پلیٹ فارم معلومات کی ترسیل کا ذریعہ ہیں اور آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت آزادی اظہار میں معلومات فراہم کرنا، تنقید کرنا اور رائے عامہ کی تشکیل میں حصہ لینا شامل ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سہیوگ پورٹل کی واضح قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69اےمیں دی گئی محدود بلاکنگ اختیارات سے آگے جاتا ہے۔ 2015 میں سپریم کورٹ نے شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا معاملے میں دفعہ 69اے کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیےکلک کریں۔