خاص خبر

راجستھان: بھیواڑی میں مسلم نوجوان کی موت، اہل خانہ کا الزام – گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں بجرنگ دل والوں نے گولی ماری

راجستھان کے بھیواڑی میں ہریانہ کے ایک 28 سالہ مسلم نوجوان کی موت ہو گئی۔ متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں بجرنگ دل والوں نے اسے گولی مار دی۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ دو فریقوں کے درمیان جھڑپ کے دوران وہ زخمی ہوا اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی

نئی دہلی: راجستھان کے بھیواڑی میں سوموار (2 مارچ) کی علی الصبح ہریانہ کے ایک 28 سالہ مسلم نوجوان کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔

نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، مہلوک کے خاندان کا الزام ہے کہ گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں بجرنگ دل کے لوگوں نے اسے گولی مار دی۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی حقیقی  وجہ تفصیلی جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

بھیواڑی کے ڈی ایس پی کیلاش چودھری کے مطابق، چوپانکی تھانے کو صبح تقریباً 5 بجے اطلاع ملی کہ مویشیوں سے بھرا ایک پک اپ ٹپو کڑا سے تاوڑو کی جانب جا رہا ہے اور کچھ لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد سرے کلا گاؤں کے قریب دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔

جھڑپ کے دوران دونوں جانب سے مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا۔ اسی دوران ہریانہ کے اتاوڑ گاؤں کا عامر نامی نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ اسے بھیواڑی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

متاثرہ خاندان نے عامر کے گائے کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب تشدد ہوا تو وہ صرف سڑک کنارے کھڑا تھا۔

اخبار کے مطابق، عامر کے ماموں یحییٰ خان نے بتایا کہ عامر پیشے سے ڈرائیور تھا۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے خاندان میں بیوی اور دو سال کی ایک بیٹی ہے۔ خاندان کے مطابق، وہ نوح میوات کے اتاوڑ گاؤں سے سرے کلا گاؤں ایک گاڑی لینے آیا تھا اور ایک دوست کے ساتھ سڑک کنارے کھڑا انتظار کر رہا تھا، اسی دوران مویشیوں سے بھرا ایک پک اپ وہاں سے گزرا۔

یحییٰ خان نے الزام لگایا،’پک اپ گاڑی آگے نکل گئی، لیکن کچھ لوگوں نے عامر اور اس کے دوست کو گائے کا اسمگلر سمجھ لیا۔ انہوں نے اپنی گاڑی سے انہیں ٹکر مار دی۔ پانچ سے چھ راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ اسی دوران ایک گولی عامر کی آنکھ کے قریب لگی اور وہ زمین پر گر گیا۔’

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد 15 سے 20 افراد تین گاڑیوں میں سوار ہو کر بھیواڑی کی طرف فرار ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع فوراً چوپانکی پولیس کو دی گئی اور عامر کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

دوسری جانب ڈی ایس پی کیلاش چودھری نے کہا کہ سرے کلا گاؤں کے قریب مبینہ گائے اسمگلروں کی مدد کے لیے پانچ سے چھ افراد ایک پک اپ میں پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ عامر اسی پک اپ میں سوار تھا، جس میں مبینہ طور پر پتھر رکھے ہوئے تھے، اور جھڑپ کے دوران ہونے والے پتھراؤ میں وہ بھی شامل تھا۔

ڈی ایس پی کے مطابق، پتھراؤ کے دوران عامر زخمی ہو گیا اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ فائرنگ کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موت گولی لگنے سے ہوئی یا پتھراؤ کے دوران لگی چوٹوں سے، یہ جانچ کے بعد ہی واضح ہوگا۔

پوسٹ مارٹم کے بعد لاش خاندان کے حوالے کر دی گئی۔

واقعے کے بعد متاثرہ خاندان اور گاؤں کے لوگ بڑی تعداد میں چوپانکی تھانے کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ خاندان نے الزام لگایا کہ فائرنگ میں بجرنگ دل کے کچھ ارکان شامل تھے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتیاط کے طور پر علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جانچ مکمل ہونے اور فارنزک رپورٹ آنے کے بعد صورتحال اور واضح ہو پائے گی۔

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے الزامات سے جڑی تشدد کی تاریخ

راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے الزامات پر تشدد کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔

سال 2017 میں الور ضلع میں پہلو خان کے قتل کے معاملے نے ملک بھر میں غم و غصہ پیدا کیا تھا۔ اس کے بعد 2018 میں اسی ضلع میں رکبر خان کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

فروری 2023 میں ہریانہ کے نوح کے رہنے والے جنید اور ناصر کی لاشیں بھی راجستھان میں ملی تھیں۔ الزام تھا کہ ان کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی، جس کے بعد دونوں کی موت ہو گئی۔

Categories: خاص خبر, خبریں