آج ہندوستان اور ایران کے تعلقات کا ذکر عموماً تیل اور اسٹریٹجک تناظر میں کیا جاتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے گجرات کے تاجر ہرمز اور بندر عباس تک جاتے تھے۔ مصالحے، کپڑے، نیل اور جواہرات مغرب کی طرف جاتے اور گھوڑے اور دھاتیں مشرق کی طرف آتے۔ سمندر کوئی سرحد نہیں تھا، بلکہ ایک پل تھا۔ آج کا چابہار بندرگاہ اسی قدیم سمندری منطق کی ایک جدید شکل ہے-ایسا راستہ جو جغرافیہ کو سیاست سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

ایران کےتہران میں امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران تباہ ہوئی عمارتیں۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
سرحدوں کے جب نام نہیں تھے، یا جب سرحدیں اس قدر جنگجو اور غیر انسانی نہیں بنی تھیں، ہندوستان اور ایران کے تعلقات کی گہری تاریخ اس وقت سے مسلسل ہے۔ ان دونوں ملکوں کی تہذیبوں نے انسانیت کے دریچوں پراب تک نہ جانے کتنے چراغوں سےنسبت دکھائی اور جب جب چراغ جل نہ سکے تو وقت کے طوفانوں نے نہ جانے کتنے بجھائے۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا ہےکہ بہت سارے لوگ جنگ کا استقبال کر رہے ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں۔ سچ میں یہ وقت ہی ایسا ہے کہ لوگ اپنے سینوں سے نہ جانے کتنے عالم وحشت لگائے ہوئے بیٹھے ہیں۔
کبھی کبھی تاریخ سرحدوں سے نہیں، آوازوں سے شروع ہوتی ہے۔ کبھی تہذیبیں جنگوں سے نہیں، لفظوں سے جنم لیتی ہیں۔ ہندوستان اور ایران آج دو جدید ریاستیں ہیں۔ یہ دونوں ملک دراصل اس زمانے کے ہم سفر ہیں جب نہ پاسپورٹ تھے، نہ قومی ترانے اور نہ ہی قوموں کے پرچم۔ ان کے درمیان کھڑے ہیں ہندوکش کے پہاڑ، بلوچستان کے ریگستان، اور سندھ اور ہلمند کی ندیاں۔ لیکن اگر ہم جغرافیہ سےتھوڑا اوپر اٹھیں؛ گویا زمین کو خلا سے دیکھیں تو یہ فاصلے نہیں، ایک پل دکھائی دیتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات بتاتے ہیں کہ ہم’ تاروں کی دھول’ سے بنے ہیں۔ شاید تہذیبیں بھی ‘یادوں کی دھول’ سے بنتی ہیں۔ ایک دوسرے سے مستعار لیے گئے الفاظ، مشترکہ اساطیر، مہاجر عبادتیں اور ترجمہ کی گئی نظمیں ہمیں اپنے ماضی کے گیت سناتی ہیں اور ہندوستان اور ایران کا تعلق انہی گہری تہوں میں پوشیدہ ہے۔ رگ وید کے منتر اور زند اوستا کے اشلوک ایک ہی شعور انسانیت کے دھاگوں کو بُنتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب زبان ہی پل ہوا کرتی تھی-خصوصی طور پر اگر ہم تین ہزار سال پیچھے چلیں تو۔ نہ آج جیسا ہندوستان تھا اور نہ آج جیسا ایران۔ کم از کم ان ناموں میں نہیں، جن سے ہم انہیں آج جانتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے گرین لینڈ کے لوگ جنوب اور مغرب کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ اپنے ساتھ مویشی، اگنی یگیہ کی روایت اور چند مقدس الفاظ لے کر آئے۔ وہ لفظ آج بھی زندہ ہیں۔
ہندوستان میں وہ رگ وید کی رچاؤں میں محفوظ رہے، اور ایران میں اوستا کے منتروں میں۔ ماہرین لسانیات نے پایا کہ ویدک سنسکرت اور اوستائی زبان آپس میں جڑواں بہنوں کی طرح ہیں۔ متروہاں متھر بن جاتا ہے۔سوم وہاں ہوم ہو جاتا ہے، اور یم وہاں یما کے روپ میں موجود ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس زمانے کی یاد ہے جب دونوں روایتیں ابھی الگ نہیں ہوئی تھیں۔ جب مذہب فرقوں میں تقسیم نہیں ہوا تھا، ایک وسیع روحانی افق تھا۔ دراصل تہذیبیں پہلے مکالمہ ہوتی ہیں، بعد میں قوم بنتی ہیں۔
چھٹی صدی قبل مسیح میں عظیم بادشاہ داریوش کے کتبوں میں ہندوش نامی ایک صوبے کا ذکر ملتا ہے، جو آج کے شمال-مغربی ہندوستان کا حصہ تھا۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک شاہی تلفظ نے اس لفظ کی بنیاد رکھی، جس سے آگے چل کر ‘ہندو’ اور ‘ہندوستان’ بنے۔ واضح ہے کہ تہذیبوں کے نام بھی ہجرت کرتے ہیں۔
ایران ہی سے تو ‘ہندو’ کا لفظ آیا تھا-ایک تلفظ جس نے پوری ایک تہذیب کا نام گھڑ دیا۔ اور یہ لفظ اتنا دل نشین ثابت ہوا کہ اس نے پرانے تمام الفاظ کو راندہ درگاہ کر دیا، ملک اور مذہب دونوں کی بنیاد رکھ دی، اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ کبھی کبھی تاریخ صرف آوازوں کی تبدیلی سے بھی بدل جاتی ہے۔
دریائے سندھ، جسے مقامی لوگ سندھو کہتے تھے، جب فارسی سلطنت کے ریکارڈ میں درج ہوا تو ایک صوتی تبدیلی ہوئی۔ قدیم فارسی میں لفظ کے شروع میں ‘س’ کا تلفظ اکثر ‘ہ’ میں بدل جاتا تھا۔ یوں ‘سندھو’ بن گیا’ہندو’۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندو لفظ سندھ کے کناروں سے نکل کر گنگا کے کناروں تک جا پہنچا اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا۔
ہندی کتھا کار ادے پرکاش کا اس بارے میں ایک قصہ بڑا دلچسپ ہے؛ گنگا کے کنارے والے گنگو! گنگو ہندوستان میں، ہندو پاکستان میں۔ ہندو پاکستان میں-کیونکہ دریائے سندھ تو آج پاکستان میں ہی بہتا ہے!
کبھی ہندوستان اور فارس ایک ہی سلطنت کا حصہ بھی رہے ہیں۔ پانچویں صدی قبل مسیح کی اخمینی سلطنت، جو اناطولیہ سے لے کر سندھ تک پھیلی ہوئی تھی، انسانی تاریخ کی پہلی عظیم عالمی سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے دارالحکومت پرسپولیس کی دیواروں پر بنے نقوش میں دور دراز علاقوں کے سفیروں کو تحفے لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان میں ہندوش کے نمائندے بھی شامل ہیں سونا، کپڑے اور نایاب اشیاء لے کر ۔ یونانی مؤرخین نے ہندوستانی تیر اندازوں کا بھی ذکر کیا ہے جو فارسی فوج کا حصہ تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب شمال-مغربی ہندوستان اور ایران ایک ہی انتظامی ڈھانچے میں جڑے ہوئے تھے۔ سڑکیں، ٹیکس کا نظام اور فوجی اتحاد انہیں ایک ساتھ باندھے رکھتے تھے۔ یہ تعلق صرف جنگ کا نہیں تھا بلکہ حکمرانی اور تجارت کا بھی تھا۔
ساتویں صدی میں جب اسلامی فتوحات نے ایران کی مذہبی ساخت کو بدل دیا، تو کچھ زرتشتی برادریوں نے اپنی روایت کو بچانے کے لیے ہجرت کی۔ وہ سمندر پار کر کے گجرات پہنچے۔ ان کی داستان قصہ سنجان میں ملتی ہے، جہاں مقامی حکمرانوں نے انہیں بسنے کی اجازت دی، بشرطیکہ وہ مقامی ثقافت کا احترام کریں۔ آج کے پارسی اسی ہجرت کی نسل ہیں۔ ممبئی اور گجرات میں ان کے آتش کدے اس قدیم ایرانی روایت کی شمع کو زندہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی معاشرے میں گھل مل کر بھی اپنی شناخت محفوظ رکھی؛ یہ ثقافتی بقائے باہمی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔
ایک زمانہ تھا جب ہندوستان کی عدالتوں میں فارسی بولی جاتی تھی۔ فارسی اس ملک میں ایک مقبول زبان تھی۔ مغلیہ دور میں فارسی صرف ایک غیر ملکی زبان نہیں تھی؛ وہ انتظامیہ اور اعلیٰ ادب کی زبان تھی۔ شاہی فرمان، درباری تاریخیں اور عشقیہ شاعری سب فارسی میں لکھی جاتی تھیں۔ دہلی، لاہور اور آگرہ ایک ایسے فکری جغرافیے کا حصہ تھے جہاں شیراز اور اصفہان سے خیالات کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اردو اسی سنگم سے پیدا ہوئی-فارسی الفاظ، عربی رسم الخط اور ہندوستانی قواعد کا ایک حیرت انگیز امتزاج۔
اس زمانے میں ہندوستان ایران کے باہر فارسی تحریر کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔ زبان نے سلطنتوں سے زیادہ پائیدار پل بنائے۔ صوفی راستہ بنا اور دل سے دل تک راہیں قائم ہوئیں۔ خراسان سے اجمیر تک ایک روحانی راستہ تھا، جو کسی نقشے پر نظر نہیں آتا۔ صوفی سنت اپنے ساتھ محبت، ہمدردی اور خدا سے براہ راست مکالمے کا تصور لے کر آئے۔ چشتی روایت نے فارسی روحانیت کو ہندوستانی بھکتی جذبے سے جوڑ دیا۔ اجمیر کی درگاہوں میں جو قوالی گونجتی ہے، اس میں فارسی کی لے اور ہندوستانی جذباتیت کا حسین امتزاج ہے۔
جب تہذیبیں روحانی سطح پر ملتی ہیں تو وہ موسیقی تخلیق کرتی ہیں، تصادم نہیں۔ تہذیب کی جینے کی خواہش ہی جنگ کی پیاس سے بچاتی ہے۔
ایران کے بڑے مذہبی اور سیاسی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے تعلقات ہندوستان سے رہے ہیں۔ شیعہ روابط اصفہان سے حیدرآباد تک آج بھی زندہ ہیں۔ سولہویں صدی میں صفوی سلطنت نے ایران میں شیعہ مسلک کو ریاستی مذہب قرار دیا۔ اس کا اثر دکن کے سلاطین تک پہنچا۔ گولکنڈہ اور حیدرآباد میں محرم کی روایات، طرز تعمیر اور دینی تعلیم میں ایرانی اثر واضح نظر آتا ہے۔ یہ صرف مذہبی رشتہ نہیں تھا؛ یہ ثقافتی اور سیاسی مکالمہ بھی تھا۔ایک مشترک مذہبی جغرافیہ جو سرحدوں سے ماورا تھا۔
آج ہندوستان اور ایران کے تعلقات کا ذکر عموماً تیل اور اسٹریٹجک کے تناظر میں ہوتا ہے۔ مگر صدیوں پہلے گجرات کے تاجر ہرمز اور بندر عباس تک جاتے تھے۔ مصالحے، کپڑے، نیل اور جواہرات مغرب کی طرف جاتے اور گھوڑے اور دھاتیں مشرق کی طرف آتے۔ سمندر سرحد نہیں تھا؛ وہ ایک پل تھا۔ آج کا چابہار بندرگاہ اسی قدیم سمندری منطق کی جدید شکل ہے۔ایک ایسا راستہ جو جغرافیہ کو سیاست سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
مشترکہ اساطیری ڈھانچے بھی کم نہیں ہیں۔ ایران کے شاہنامہ اور ہندوستان کے مہابھارت میں ہیرو، دھرم اور انتشار کے خلاف جدوجہد کی کہانیاں کتنی ملتی جلتی ہیں۔ محققین نے ان میں مشترک ساختی عناصر کی نشاندہی کی ہے۔ روشنی اور تاریکی کی کشمکش، وقت کے اختتام کا تصور اور ہیرو کی اخلاقی آزمائش ایک ہی جیسے تو ہیں۔ یہ مماثلتیں ہمیں اس مشترکہ ثقافتی سرچشمے کی یاد دلاتی ہیں جہاں سے دونوں روایات نکلیں۔ دراصل تہذیبیں تاروں کی مانند ہوتی ہیں۔ایک ہی کہکشاں سے جنم لے کر پھر مختلف سمتوں میں پھیلتی ہوئی۔
جب ہم جدید سفارت کاری کو دیکھتے ہیں تو قدیم یادیں ہمیں بے چین کرتی ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہندوستان اور ایران کے تعلقات پیچیدہ ہیں۔ پابندیاں، جوہری معاہدے، عالمی اتحاد اور نہ جانے کتنی پرتیں ہیں۔ ہندوستان امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ توازن قائم کرتا ہے جبکہ ایران اپنے علاقائی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ آج کی اس جنگی فضا میں ایک صدیوں پرانے ملک کے ساتھ کھل کر کھڑے نہ ہو پانے کا یہ بحران نئی جغرافیائی سیاست کا ایک انتہائی تکلیف دہ پہلو ہے۔ ان سب کے باوجود توانائی میں تعاون، ثقافتی تبادلے اور اسٹریٹجک منصوبے یہ اشارہ دیتے ہیں کہ مکالمہ نہ ختم ہوا ہے اور نہ ہی ختم ہو سکتا ہے۔
تاریخ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی؛ وہ دائرے بناتی ہے۔کبھی قریب، کبھی دور۔ اب نہ جانے نئے دائرے بننے میں کتنی دوری اور کتنی دیری ہے۔ لیکن اگر ہم زمین کو خلا سے دیکھیں تو ہندوستان اور ایران کے درمیان کوئی دیوار نظر نہیں آئے گی۔ صرف پہاڑ، صحرا اور سمندر دکھائی دیں گے، جو کبھی راستے تھے۔ مشترک الفاظ، مشترک دیوتا، مشترک آگ اور مشترک شاعری—ان سب نے دونوں معاشروں کو گہرائی سے جوڑ رکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاست عارضی ہوتی ہے، تہذیبیں دیرپا۔ ہندوستان اور ایران کا رشتہ صرف سفارتی نہیں بلکہ یادداشت کا رشتہ ہے۔ سندھ کی آواز میں، پارسی آگ میں، فارسی شاعری میں اور چابہار کے ساحل پر کھڑے جہازوں میں ماضی کی وہ مدھم گونج اب بھی سنائی دیتی ہے۔ شاید یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ ہم اتنے الگ کبھی نہیں تھے جتنا ہمیں بتایا گیا، اور اتنے جڑے ہوئے ہمیشہ رہے ہیں جتنا ہمیں یاد نہیں۔
اور اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ ہم آج اس جنگجویانہ دور میں اس ضروری یاد کو بھلا بیٹھے ہیں۔
تریبھون سینئر صحافی ہیں۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں, فکر و نظر
