ہندوستان جیسے معاشی طور پر غیر مساوی معاشرے میں جب ایثار و قربانی یا ترک آسائش کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ قربانی کون دے گا؟ وہ جو پہلے ہی راشن، کرایہ، فیس اور ای ایم آئی کے جال میں گرفتار ہے، یا وہ جو دولت کو کپڑے کی طرح زیب و تن کر سکتا ہے؟ یہاں سوال حسد کا نہیں، اخلاقی توازن کا ہے۔ اور یہ تعصب نہیں بلکہ عوامی انصاف کا سوال ہے۔
جمہوریہ میں نصف نمائندگی صرف فیمنسٹ اصرار نہیں بلکہ جمہوری منطق کا فطری انجام ہے۔ آدھی دنیا کو ایک تہائی پر محدود کر دینا نمائندگی کی اصلاح ہے، انصاف نہیں۔ اگر بی جے پی واقعی ’ناری شکتی وندن‘کی سیاست کرتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وندن کا اخلاقی مطلب علامت نہیں ،شراکت ہے؛ اور شراکت کا مطلب 33 نہیں بلکہ 50 ہے۔
فاشسٹ یا نیم فاشسٹ سیاست سے لڑنے کا پہلا قاعدہ یہ ہے کہ آپ اپنے حقیقی اور ثانوی حریف کے درمیان فرق بنائیں رکھیں۔ کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو شکست دینے کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے؛ مگر راہل گاندھی کی زبان اسٹریٹجک ہوشمندی کا اشارہ نہیں دے رہی۔ ایل ڈی ایف کو آر ایس ایس کے مساوی قرار دینا سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک نوع کی ناسمجھی اور بے صبری کا اظہارہے۔
آج ہندوستان اور ایران کے تعلقات کا ذکر عموماً تیل اور اسٹریٹجک تناظر میں کیا جاتا ہے۔ لیکن صدیوں پہلے گجرات کے تاجر ہرمز اور بندر عباس تک جاتے تھے۔ مصالحے، کپڑے، نیل اور جواہرات مغرب کی طرف جاتے اور گھوڑے اور دھاتیں مشرق کی طرف آتے۔ سمندر کوئی سرحد نہیں تھا، بلکہ ایک پل تھا۔ آج کا چابہار بندرگاہ اسی قدیم سمندری منطق کی ایک جدید شکل ہے-ایسا راستہ جو جغرافیہ کو سیاست سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
شیبو سورین کی کہانی کسی افسانوی ہیرو کا قصہ نہیں۔یہ اس ہندوستان کے درد و کرب کا نغمہ ہے، جسے مرکزی دھارے کی سیاست اور میڈیا نے اکثر نظر انداز کیا۔ ایک ایسا ہندوستان جو جنگل میں سانس لیتا ہے، جو زمین سے وابستہ ہے اور بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ’وکاس‘ کس کا ہوتا ہے۔
راجستھان میں آ رہے سولر پاور پلانٹس کی وجہ سے قدرتی نباتات تباہ ہو رہی ہیں، چراگاہیں ختم ہو رہی ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ راجستھان کا فخر سمجھے جانے والے کھیجڑی کے درخت بڑے پیمانے پر کاٹے جا رہے ہیں۔
انگلینڈ کے لیڈر الیکشن ہارنے کے بعد سبکدوش ہو جاتے ہیں، آخر ہندوستانی سیاست کب بدلے گی کہ جو ہار جائے، وہ وداع ہوجائے اور اپنی پارٹی کے اندر سے نئی صلاحیتوں کو موقع دے۔
دیانند سرسوتی کہتے تھے کہ اول تو مورتی پوجا ناجائز ہے اور دوسرا یہ ملک کی ایکتا کے لیے خطرناک ہے۔