ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جاری جنگ گیارہویں دن میں اور سنگین ہو گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں کے دگنا ہونے، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، نئے فوجی حملوں اور آس پاس کے ممالک کی سکیورٹی تیاریوں کے درمیان معاشی اور انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کا منظر۔ یہ تصویر 5 مارچ 2026 کو لی گئی تھی۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: 28 فروری سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جاری جنگ اب گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازعہ کا اثر صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے خطے کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور عام لوگوں کی زندگی پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس نے کہا ہے کہ اس جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو گئی ہیں اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ امریکہ ایران کے تیل اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
عمان کی وارننگ
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان عمان نے سمندر میں جانے والے جہازوں اور ملاحوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔ عمان نے کہا ہے کہ اس وقت جی پی ایس نیوی گیشن سسٹم میں مداخلت یا سگنل میں رکاوٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے ملاحوں کو صرف جی پی ایس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
حکومت نے مشورہ دیا ہے کہ سمندر میں طویل سفر سے پہلے متبادل نیوی گیشن ذرائع ساتھ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر روایتی مقناطیسی کمپاس استعمال کریں۔ عمان کی یہ وارننگ اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز (سمندری راستہ) اور شمالی بحیرہ عرب کے قریب واقع ہے، جو دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
ترکی نے میزائل دفاعی نظام تعینات کر دیا
دوسری جانب بڑھتے علاقائی تناؤ کے پیش نظر ترکی نے اپنی مشرقی سرحد کی سکیورٹی مضبوط کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ ترک حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شہر ملاتیا میں پیٹریاٹ ایئر اور میزائل دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ہے اور اسے جلد پوری طرح سے فعال کر دیا جائے گا۔
پیٹریاٹ نظام بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جنگی طیاروں کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہندوستان میں قدرتی گیس کی فراہمی پر کنٹرول
مغربی ایشیا میں بڑھتے بحران کا اثر ہندوستان تک بھی پہنچ رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے ضروری اشیا ایکٹ 1955 کے تحت قدرتی گیس کی فراہمی کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ 9مارچ کو جاری حکم نامے میں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے کہا کہ ایل این جی اور ری گیسیفائیڈ ایل این جی سمیت قدرتی گیس کی پیداوار، تقسیم اور مختلف شعبوں میں اس کی فراہمی کو کنٹرول کیا جائے گا تاکہ ترجیحی شعبوں کو گیس کی مناسب سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔
حزب اللہ کے راکٹ حملے
ادھر لبنان واقع تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے شمالی اسرائیل میں کئی مقامات پر راکٹ داغے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، تنظیم نے لبنان کے ایتارون علاقے کے سامنے واقع المالکیہ فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ اس نے جنوبی لبنان کے العباد علاقے کے قریب موجود اسرائیلی فوجیوں اور توپ خانے کی پوزیشن پر بھی راکٹ داغے۔ اس کے علاوہ خیام شہر کے جنوب میں واقع تل الحمامس علاقے میں بھی حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: 46 ایرانی بحری جہاز ڈبو ئے
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ساڑھے تین دن کے اندر ایران کے 46 جدید بحری جہاز ڈبو دیے۔ ٹرمپ نے کانگریس میں ریپبلکن ارکان سے بات چیت کے دوران کہا کہ انہوں نے فوجی حکام سے پوچھا تھا کہ جہازوں کو قبضے میں لینے کے بجائے ڈبو کیوں دیا گیا۔ ان کے مطابق ایک افسر نے جواب دیا کہ ‘انہیں ڈبونا زیادہ مزیدار تھا۔’
لبنان میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث خطے میں خوراک اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے انسانی بحران کے مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق، صرف لبنان میں تقریباً سات لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جن میں تقریباً دو لاکھ بچے شامل ہیں۔ اس سے پہلے بھی خطے میں تنازعات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے تھے۔
ایران میں اسکول پر میزائل حملے کی رپورٹ
ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے وسطی ایران کے شہر خومین میں واقع ڈاکٹر حافظ خمینی اسکول پر میزائل حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں اسکول کے آس پاس کے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، تاہم فی الحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ رپورٹ اس واقعہ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر میزائل حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر طالبات بتائی جا رہی ہیں۔ اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
مسلسل بڑھتے فوجی حملوں، علاقائی عدم استحکام اور انسانی بحران کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے اور اس کے اثرات دور دور تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں
