سر ڈیوڈ ایٹن برو آج اپنی زندگی کے سو سال پورے کر رہے ہیں۔ یہ محض کسی نامور دستاویزی فلمساز یا براڈکاسٹر کی سالگرہ نہیں ہے؛ یہ اس شخصیت کے سو سال ہیں، جس نے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ زمین صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے۔

دنیا میں متعدد سائنسداں ہوئے اور فلمساز بھی۔ لیکن ڈیوڈ ایٹن برو ان کے درمیان ایک نایاب کڑی ہیں۔ انہوں نے سائنس کو خشک موضوع نہیں رہنے دیا اور جذبات کو غیر سائنسی نہیں بننے دیا۔ (تصویر بہ شکریہ: بی بی سی)
جب دنیا تیزی سے شور، جنگ، بازار اور مصنوعی ذہانت کی طرف بھاگ رہی ہے، ایسے وقت میں ایک صد سالہ آواز آج بھی ہمیں جنگلوں کی نمی، سمندروں کی گہرائی، پرندوں کی پکار اور زمین کی تھکن سنانا نہیں بھولی۔ یہ آوازسر ڈیوڈ ایٹن برو کی ہے، وہ شخص جس نے کیمرے کو صرف ریکارڈنگ مشین نہیں رہنے دیا بلکہ اسے انسان اور فطرت کے درمیان اخلاقی پل بنا دیا۔
آج، 8 مئی 2026 کو سر ڈیوڈ ایٹن برو اپنی زندگی کے سو سال پورے کر رہے ہیں۔یہ محض کسی نامور دستاویزی فلمساز یا براڈکاسٹر کی سالگرہ نہیں ہے؛ یہ اس شخصیت کے سو سال ہیں، جس نے کروڑوں لوگوں کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ زمین صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ وراثت ہے۔
دنیا بھر میں ان کے سوویں یوم پیدائش کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ برطانیہ میں بی بی سی نے ان کی زندگی اور خدمات پر خصوصی نشریات تیار کی ہیں، لندن کے رائل البرٹ ہال میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی ہے، اور سائنسدانوں نے حال ہی میں دریافت ہونے والی ایک طفیلی بھڑ کی ایک نئی نوع کو بھی ان کے اعزاز میں ان کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ سب اس شخص کوخراج تحسین ہے جس نے پچھلی سات دہائیوں میں دنیا کو فطرت کے سربستہ راز سے از سر نو روشناس کرایا۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایٹن برو کے نام پر اب تک درجنوں جانوروں ،پودوں اور فوسلز کے سائنسی نام رکھے جا چکے ہیں۔ ان میں ڈائنوسار، سمندری مخلوقات، پھولدار پودے، مکڑیاں، تتلیاں اور حتیٰ کہ فوسلز بھی شامل ہیں۔ سائنسی دنیا میں کسی شخصیت کے نام پر نئی نوع کا نام رکھنا غیر معمولی احترام اور اعتراف کی علامت سمجھا جاتا ہے – اور اس اعتبار سے ایٹن برو کو ملنے والا یہ اعزاز نوبل انعام سے کم علامتی اہمیت نہیں رکھتا۔
ایک بچے سے فطرت کے داستان گو تک
ڈیوڈ فریڈرک ایٹن برو 8 مئی 1926 کو انگلینڈ کے آئل ورتھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی انہیں فوسلز، پتھروں، کیڑوں اور پرندوں میں دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے جانداروں کو گھنٹوں دیکھتے رہتے تھے۔ اسی تجسس نے بعد میں انہیں پوری دنیا میں فطرت کا سب سے معتبر داستان گو بنا دیا۔
انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے قدرتی سائنس کی تعلیم حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انہوں نے رائل نیوی میں بھی خدمات انجام دیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی بی سی نے انہیں پہلی بار ملازمت دینے سے منع کر دیا تھا کیونکہ انہیں کیمرے کے سامنے ’موزوں چہرہ‘نہیں سمجھا گیا۔ اس دور میں ٹیلی ویژن براڈکاسٹرز کے لیے ایک خاص طرح کی ’ریڈیو نما‘ آوازاور رسمی شخصیت کو ترجیح دی جاتی تھی۔ لیکن شاید تاریخ اکثر انہی لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جن کی صلاحیت فوری طور پر نظر نہیں آتی۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اپنے ابتدائی دنوں میں ایٹن برو ایڈیٹنگ، اسکرپٹنگ اور پروڈکشن کے تقریباً ہر حصے میں خود شامل رہتے تھے۔ وہ صرف اسکرین پر نظر آنے والا چہرہ نہیں تھے؛ وہ گھنٹوں بیٹھ کر فوٹیج کاٹتے، آوازیں منتخب کرتے اور سائنسی حقائق کی دوبارہ تصدیق کرتے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ1950 کی دہائی میں بی بی سی کے ساتھ ان کا سفر شروع ہوا۔ ان کی ابتدائی سیریز’زو کویسٹ‘ نے انہیں دنیا کے دور دراز کے جنگلوں تک پہنچایا۔ یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر لوگ ٹیلی ویژن پر صرف اسٹوڈیو پروگرام دیکھتے تھے۔ ایٹن برو نے پہلی بار ناظرین کو زندہ جنگلوں، قدیم معاشروں اور اچھوتے ماحولیاتی نظاموں سے متعارف کرایا۔
وہ آواز جس نے فطرت کو انسانی بنا دیا
دنیا میں بہت سے سائنسداں ہوئے اورفلمساز بھی۔ لیکن ڈیوڈ ایٹن برو ان دونوں کے درمیان ایک نایاب کڑی ہیں۔ انہوں نے سائنس کو خشک موضوع نہیں رہنے دیا اور جذبات کو غیر سائنسی نہیں بننے دیا۔
ان کی سب سے بڑی طاقت حیرت پیدا کرنا تھی۔
ان کی آواز کے بارے میں بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے۔ دنیا جس پرسکون، گہری اور مسحور کن آواز کو پہچانتی ہے، وہ مکمل طور پر فطری نہیں تھی۔ برسوں کے نشریاتی تجربے، تلفظ پر عبوراور الفاظ کے درمیان محتاط وقفوں نے انہیں ایک تفریدی پہچان عطا کی۔ ایٹن برو کا ماننا تھا کہ فطرت کو سمجھانے کے لیے چیخنے کی نہیں بلکہ سرگوشی جیسی نرمی اور حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب وہ کسی گلیشیئرکے ٹوٹنے، کسی پرندے کے ملاپ کے رقص، کسی وہیل کے نغمے یا کسی صحرائی چھپکلی کی جدوجہد کو بیان کرتے تھے، تو ناظرین صرف معلومات حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جاندار کے ساتھ ایک جذباتی تعلق قائم کرنے لگتے تھے۔
1979 میں نشر ہونے والے لائف آن ارتھ نے قدرتی دستاویزی فلموں کی دنیا بدل دی۔ اس کے بعددی لیونگ پلانیٹ، دی ٹرائلز آف لائف، پلانیٹ ارتھ، بلیو پلانیٹ، فروزین پلانیٹ اورآور پلانیٹ جیسی سیریز نے انہیں تقریباً ہر براعظم کے گھروں تک پہنچا دیا۔
آج دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پہلی بار ایمیزون کے جنگلوں، انٹارکٹیکا کی برف، افریقہ کے سوانا، گہرے سمندر کی مخلوقات اور نایاب پرندوں کا مشاہدہ ڈیوڈ ایٹن برو کی آواز کےتوسط سے کیا۔
کیمرے کے پیچھے کا انقلابی
ایٹن برو صرف ایک براڈکاسٹر نہیں تھے؛ وہ تکنیکی انقلاب کے علمبردار بھی رہے۔ انہوں نے وائلڈ لائف کی فلمسازی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مائیکرو کیمرے، ڈرون ٹکنالوجی، الٹرا ہائی ڈیفینیشن فلم بندی، ڈیپ سی کیمرے اور ٹائم لیپس تکنیکوں کے مقبول استعمال میں ان کی ٹیموں کا اہم کردار رہا۔
ان کی دستاویزی فلموں نے پہلی بار ناظرین کو دکھایا کہ فنگس کس طرح جنگلوں کے نیچے ایک دوسرے سے رابطہ کرتی ہیں، پرندے زمین کے مقناطیسی علاقے کو کیسے استعمال کرتے ہیں، اور سمندر کی گہرائیوں میں ایسی مخلوقات کیسے رہتی ہیں جنہیں انسان نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
انہوں نے سائنس کو بصری شاعری میں بدل دیا۔
گوریلا والا منظر اور انسان کی عاجزی
اگرڈیوڈ ایٹن بروکی زندگی کا کوئی ایک منظر منتخب کرنا ہو جو ان کی پوری میراث کو بیان کر سکے، تو شاید وہ روانڈا کے پہاڑی گوریلوں کے درمیان بسر کیاگیا لمحہ ہوگا۔

اسکرین شاٹ بہ شکریہ: بی بی سی ارتھ
جب ننھے گوریلے اُن کے کندھوں پر چڑھتے ہیں اور وہ ایک بچے کی طرح مسکراتے ہیں، تب دنیا یہ سمجھتی ہے کہ انسان اور وائلڈ لائف کے درمیان تعلق صرف مطالعہ کا موضوع نہیں بلکہ باہمی وجود کا ایک تجربہ بھی ہے۔
وہ منظر اس لیے بھی تاریخی ہےکہ اس میں فتح نہیں بلکہ عاجزی ہے۔ ایٹن برو فطرت کو فتح کرنے نہیں گئے تھے؛ وہ اُسے سمجھنے گئے تھے۔
ماحولیاتی شعور کا سب سے قابل اعتماد چہرہ
ڈیوڈ ایٹن بروکے ابتدائی پروگرام فطرت کی خوبصورتی کا جشن تھے، لیکن آہستہ آہستہ ان کی فلموں میں تشویشناک آوازیں بھی شامل ہونے لگیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے بحران، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور انواع کے معدوم ہونے پر کھل کر بات کرنا شروع کی۔
سال2017میں بلیو پلانیٹII کی نشریات کے بعد دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال پر وسیع عوامی بحث شروع ہوگئی۔ کئی ممالک نے سنگل یوز پلاسٹک پر پالیسی بناکر پابندیوں کا آغاز کیا۔ ماہرین نے اسے’ایٹن برو افیکٹ ‘کا نام دیا، یعنی ایک دستاویزی فلم کا سماجی رویے کو بدل دینا۔
سمندری پرندوں کے پیٹ میں پلاسٹک اور وہیلوں کے گرد تیرتے کچرے کے مناظر اتنے مؤثر تھے کہ برطانیہ سمیت کئی ممالک میں سپر مارکیٹ سیریزکو اپنی پیکیجنگ پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں۔ شاید بہت ہی کم ڈاکیومنٹری سازوں نے عوامی پالیسی پر اتنا براہ راست اثر ڈالا ہو گا۔
اُن کی 2020 کی فلم اے لائف آن آور پلانیٹ کسی خودنوشت سے کم نہیں تھی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں زمین کو بدلتے دیکھا ہے ، جنگلوں کا سکڑنا، انواع کا غائب ہونا اور درجہ حرارت کا بڑھنا یہ سب ان کے مشاہدے اور تجربے میں آیا۔ لیکن اس فلم میں مایوسی نہیں تھی؛ اُس میں تنبیہ کے ساتھ امید بھی موجود تھی۔

تصویر: اے پی
ایٹن برو اور نوآبادیاتی تنقید
حالیہ برسوں میں ڈیوڈ ایٹن بروکے کام کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی برطانوی قدرتی دستاویزی فلموں میں نوآبادیاتی نقطۂ نظر جھلکتا تھا، جہاں فطرت کو ’کھوج‘اور’دریافت‘کی چیز کی طرح پیش کیا جاتا تھا۔ یہ تنقید اہم ہے، کیونکہ جدید ماحولیاتی مباحث صرف وائلڈ لائف کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ مقامی برادریوں، قبائلی علم اور ماحولیاتی انصاف کی بھی بات کرتے ہیں۔
لیکن ایٹن برو کی خصوصیت یہ رہی کہ وہ وقت کے ساتھ بدلتے گئے۔ انہوں نے کھل کر تسلیم کیا کہ انسانی تہذیب زمین پر عدم توازن پیدا کر رہی ہے، اور تحفظ صرف محفوظ علاقوں سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے سماجی اور سیاسی تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔
ہندوستان اور ایٹن برو
ہندوستان کے ساتھ اُن کا تعلق بھی گہرا رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی جنگلوں، مانسون، گنگا، ہمالیہ اور انڈین وائلڈ لائف پر کئی اہم سیریز بنائیں۔ ہندوستان کےمتعدد وائلڈ لائف کے سائنسداں، پرندوں کے ماہرین اور تحفظ ماحول کے کارکن تسلیم کرتے ہیں کہ بچپن میں ایٹن برو کے پروگرام دیکھ کر ہی ان میں فطرت سے دلچسپی پیدا ہوئی۔
آج ہندوستان میں جو نوجوان کیمرہ لے کر پرندوں، سانپوں، کیڑوں اور جنگلوں کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں، اُن میں کہیں نہ کہیں ایٹن برو کا اثر موجود ہے۔ راجستھان کے ریگستانوں سے لے کر انڈمان کے سمندروں تک، ہندوستان کی نئی نسل نے دنیا کو دیکھنے کی زبان انہی سے سیکھی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 100 برس کی عمر میں بھی ڈیوڈ ایٹن برو سرگرم ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے سمندروں، حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی بحران پر نئے منصوبوں میں حصہ لیا ہے۔ ان کے اعزاز میں دنیا بھر کے عجائب گھروں، تحفظ ماحول کی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے خصوصی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
ایٹن برو ہمیشہ ٹکنالوجی کے حوالے سے بھی متجسس رہے۔ 90 برس کی عمر پار کرنے کے بعد بھی وہ فلم سازی کی نئی تکنیکوں، ڈرون کیمروں اور الٹرا ہائی ڈیفینیشن سنیماٹوگرافی کے تجربات میں شامل رہتے تھے۔ اُن کے ساتھیوں کے مطابق، وہ شوٹنگ کے دوران سب سے پہلے لوکیشن پر پہنچنے والوں میں ہوتے تھے۔
آج جب سوشل میڈیا کی دنیا میں معلومات چند سیکنڈز میں پرانی ہو جاتی ہیں، تب ایٹن برو کا صبروتحمل ہمیں ایک مختلف قسم کی صحافت اور کہانی سنانے کے فن کی یاد دلاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کسی پرندے کو سمجھنے کے لیے کئی بار گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے؛ کسی جنگل کو سمجھنے کے لیے موسموں کی تبدیلی کا صبر درکار ہوتا ہے۔
ڈیوڈ ایٹن برو کے نام پر رکھی گئی چند قابل ذکر انواع
دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ٹیکسونومسٹس نے فطرت کے تحفظ اور سائنسی ابلاغ میں ان کی غیر معمولی خدمات کے احترام میں کئی نئی انواع کے نام ڈیوڈ ایٹن برو کے نام پر رکھے ہیں۔ ان میں چند نمایاں مثالیں یہ ہیں؛
ایٹن بروآریون روبیکنڈس- اسپین میں دریافت کی گئی ایک نایاب سلگ کی نوع۔
میٹرپیسکس ایٹن بروئی-آسٹریلیا میں دریافت ہونے والی ایک قدیم فوسل مچھلی کی نوع۔
کونیکوفرونٹیا ایٹن بروئی- افریقہ میں پائی جانے والی ایک پتنگے کی نوع۔
پریتھوپالپس ایٹن بروئی-انڈونیشیا میں دریافت کی گئی انتہائی چھوٹی مکڑی کی نوع۔
یوپٹیشیا ایٹن بروئی-ایمیزون کے علاقے کی ایک تتلی کی نوع۔
ایٹن بروسورس کونیبئری-سمندری رینگنے والے جانور کی ایک معدوم نسل، جس کا نام اُن کے اعزاز میں بدلاگیا۔
کٹینوکیلائڈس ایٹن بروئی-مڈغاسکر کے علاقے میں دریافت کیا گیا جھینگے جیسا سمندری جاندار۔
لاجینیوڈیلفس ہوسئی ایٹن بروئی- ڈولفن کی ایک ذیلی نوع۔
ایٹن بروانکولس ٹاؤ- 2026 میں دریافت کی گئی ایک انتہائی چھوٹی طفیلی بھڑ کی نوع، جس کا نام ان کی 100ویں سالگرہ کے اعزاز میں رکھا گیا۔
ایٹن بروئی پیچر پلانیٹ-فلپائن میں دریافت ہونے والا ایک گوشت خور پودا، جس کا سائنسی نام نیپینتھیز ایٹن بروئی ہے۔
یہ انواع کی فہرست محض ایک سائنسی اعزاز نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی میں زمین کی کتنی دنیاؤں کا لمس حاصل کر سکتا ہے۔
کیا انسان زمین کے لائق ہے؟
شاید ڈیوڈ ایٹن برو کا سب سے بڑا سوال یہی ہے۔ انہوں نے کبھی جارحانہ سیاسی تقاریر نہیں کیں، لیکن اُن کی فلموں میں ایک اخلاقی اپیل ہمیشہ موجود رہی – کیا ہم اُس سیارے کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں جس نے ہمیں زندگی دی؟
ان کی آواز میں نہ حکم ہوتا ہے، نہ احساس جرم۔ اس میں ایک پُرسکون اپیل ہوتی ہے۔ جیسے کوئی بزرگ ہمیں سمجھا رہا ہو کہ یہ زمین صرف ہماری نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی ہے۔
ڈیوڈ ایٹن برو نے ہمیں صرف جانور نہیں دکھائے۔ انہوں نے ہمیں عاجزی سکھائی۔ انہوں نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ایک تتلی، ایک وہیل، ایک درخت اور ایک برفانی تودہ – سب زمین کی مشترکہ کہانی کے کردار ہیں۔
شاید اسی لیے وہ صرف برطانیہ کے ایک براڈکاسٹر نہیں، بلکہ پوری زمین کے داستان گو بن گئے۔ اُن کی سوویں سالگرہ پر دنیا انہیں خراج تحسین پیش کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا خراج شاید وہ ہوگا جب انسان اُن کی کہی ہوئی سب سے سادہ بات سمجھ لے کہ فطرت سے کٹ کر کوئی تہذیب زندہ نہیں رہ سکتی۔
جب آنے والی صدیاں 20ویں اور 21ویں صدی کو دیکھیں گی، تو ممکن ہے کہ وہ سیاستدانوں، جنگوں اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان ایک پرسکون آواز کو بھی یاد رکھیں- ایک ایسی آواز جس نے ہمیں زمین سے محبت کرنا سکھایا۔
اور شاید یہی کسی انسان کی سب سے بڑی حصولیابی ہے۔
(مردل ویبھو وائلڈ لائف فوٹوگرافر، اسنیک ریسکیور اور ماحولیات کے ماہر ہیں۔)
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں, فکر و نظر
