ادبستان

آشیش ساہنی: ’دی سیلر اینڈ دی شیف‘، کوئیر کہانیاں اور نانی عصمت چغتائی کی یادیں

مصاحبہ: فلمساز، مصنف اور پوڈکاسٹر آشیش ساہنی اردو کی نامور ادیبہ عصمت چغتائی کے نواسے ہیں۔ کچھ سال پہلے آشیش نے ٹرانس جینڈر اور سس جینڈر خواتین فلمسازوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے عصمت چغتائی ایوارڈ شروع کیا تھا۔ پیش ہے ان کی نئی فلم، عصمت آپا پر ان کی کتاب اور ہندوستان کی ہمعصر کوئیر سیاست پر ان سے بات چیت۔

عصمت چغتائی اپنے نواسے آشیش ساہنی کے ساتھ۔فوٹو: گوتم راجادھیکش

ممبئی:فلمساز، مصنف اور پوڈکاسٹر آشیش ساہنی اردو کی نامور ادیبہ عصمت چغتائی کے نواسے ہیں۔ مشکل بچپن کے دوران انہیں اپنی نانی کے گھر میں تحفظ اور خود اعتمادی کا ماحول میسر آیا۔ ساہنی نے اپنی زندگی میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اب وہ خود کو ایک ایسے بزرگ کوئیر کے طور پر دیکھتے ہیں جو نوجوانوں کو ان کے تخلیقی سفر میں رہنمائی اور تعاون فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔

گزشتہ دنوں’پرائیڈ منتھ‘ کے دوران 3 سے 7 جون تک ممبئی میں 17ویں کشش فلم فیسٹیول میں انہوں نے ٹرانس جینڈر اور سس جینڈر خواتین فلمسازوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے عصمت چغتائی ایوارڈ شروع کرنے کے خیال کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا۔

انہوں نے 2023 میں اس ایوارڈ کو شروع کیا، جس کے تحت ایک ٹرافی اور نقد انعام دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ اس ادیبہ کو خراج عقیدت ہے، جسے دو عورتوں کی جنسی قربت کی کہانی ’لحاف‘ لکھنے کے لیے فحاشی کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کہانی کو آج بھی اس کی ادبی معنویت، تخلیقی جرأت اور ہندوستانی ادب میں ہم جنسیت کے ابتدائی خدوخال کی ایک اہم مثال کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔

اس بات چیت میں ساہنی نے اپنی نئی فلم دی سیلر اینڈ دی شیف، عصمت چغتائی پر اپنی کتاب، نوجوانوں کی کوئیر ثقافت اورہندوستان کی ہمعصر کوئیر سیاست جیسے موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ اس بات چیت  کے بعض  اقتباس یہاں پیش کیے جا رہے ہیں –

آپ نے کشش فلم فیسٹیول میں عصمت آپا کے نام پر ایوارڈ شروع کرنے کا فیصلہ کیسے کیا؟

مجھے لگا کہ ان کے نام پر ایوارڈ شروع کرنے کے لیے کشش فلم فیسٹیول سب سے اچھی جگہ ہے، خصوصی طور پر اس لیے کہ عصمت آپا نے ہمیشہ اپنی زندگی انسان دوستی، تنوع اور شمولیت کے اصولوں کے مطابق گزاری۔ میں کشش فلم فیسٹیول میں لگاتاراپنی فلمیں دکھارہا ہوں اور پینل مباحثوں میں بولتا رہا ہوں۔ جب میں نے اس ایوارڈ کے منصوبے کے بارے میں فیسٹیول کے ڈائریکٹر شری دھر رنگایان اور آرٹسٹک ڈائریکٹر ساگر گپتا کو بتایا، تو انہیں یہ خیال بہت پسند آیا اور انہوں نے فوراًحامی بھر دی۔

آشیش ساہنی۔فوٹو: ارینجمنٹ

عصمت آپا کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کے بارے میں بتائیں۔

میرے والدین (سیما اور نوین ساہنی)، بنگلور میں مقیم تھے۔ جب میں چار سال کا تھا تو ان کی علیحدگی ہو گئی۔ اس کے بعد میں اپنی نانی کے ساتھ میرین ڈرائیو کے قریب ان کے اپارٹمنٹ  میں رہنےممبئی آ گیا۔ چار سے چودہ سال کی عمر تک میں نے ان کے ساتھ ان کا کمرہ شیئر کیا۔ اس کے بعد مجھے اپنا الگ کمرہ مل گیا۔ وہ میری زندگی کے نہایت اہم اور اثر انگیز سال تھے۔اپنی نانی کے ساتھ رہنے کے  لیے میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔ ان کا انتقال 1991 میں ہوا، یعنی وہ میرے اکیس سال کا ہونے تک بقید حیات تھیں۔

پاکستان اور تقسیم کے بارے میں ان سے کیا باتیں ہوتی تھیں؟

وہ اس بارے میں بہت صاف ستھری رائے رکھتی تھیں، وہ ہندوستان اس لیے چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں کہ ہندوستان ہی ان کا وطن تھا۔ انہیں پاکستان آنے کے لیے وہاں کی حکومت نے خوب منانے کی کوشش کی، جیسا کہ ان کے دوست سعادت حسن منٹو کے ساتھ کیا گیا۔ منٹو وہاں گئے، لیکن ان کا انجام خوشگوار نہیں رہا۔ عصمت آپا نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ آسان نہیں تھا، مگر وہ ہمیشہ اپنے فیصلے پر خوش رہیں۔ ان کے لیے پاکستان جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتاتھا۔

منٹو پر دو بایوپک بنی ہیں—ایک سرمد کھوسٹ کی 2015 کی فلم اور ایک نندیتا داس کی۔ آپ کے خیال میں عصمت آپا پر اب تک کوئی فلم کیوں نہیں بن  پائی ؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک مجھے ایسے لوگ نہیں ملے جو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں۔ آجکل جب سب کچھ کامرشیل  ہو چکا ہے اور اسٹار کےارد گرد ہی  گھومتا ہے، تو بایوپک فلمیں بنانا واقعی مشکل کام ہے۔

جب بھی ہندوستانی قصہ گوئی میں، خواہ وہ ادب ہو یا پھر سینما، خواتین کی ہم جنسی کے حوالے سےبات ہوتی ہے تو لوگوں کے ذہن میں فوراً ’لحاف‘  اور اس کہانی پر بنی دیپا مہتا کی فلم’فائر‘کا نام آتا ہے۔ اس کے وارث ہونے اور اسے آگے بڑھانے کے بارے مین آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

میرے لیے اپنی اس پہچان کو سب کے سامنے لانا اور اسے تسلیم کرنا بے حد مشکل اور جدوجہد سے بھرپور رہا، خصوصی طور پر 1990 کی دہائی میں۔ اس وقت اس حوالے سے ماحول بہت خراب تھا۔ لیکن کہیں نہ کہیں مجھے یہ احساس تھا کہ جب میری نانی، ایک مسلم خاتون ہوتے ہوئے، 1940 کی دہائی میںلحاف‘جیسی کہانی لکھ پائیں، تو میرے پاس اس وراثت سے بے وفائی کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مجھے کافی پہلے ہی یہ احساس ہو گیا تھا کہ مجھے ان کے ساتھ ایماندار رہنا ہے۔ اسی لیے مجھے خود کو سامنے لانے کا راستہ بنانا تھا۔

عصمت آپا کے دور میں ہمارے پاس جنس، جنسی پہچان، تعلقات  کے لیے وہ زبان یا اپنے بارے میں دوستوں اور خاندان سے بات کرنے کا وسیلہ نہیں تھا۔ اس وقت ہندوستان میں کوئیر کلیکٹوزیا پرائیڈ مارچ جیسی سرگرمیاں نہیں تھیں۔ جب آپ اس گھر میں بڑے ہو رہے تھے، اس وقت دوستی یا حمایت آپ کے لیے کیسی تھی؟

میں اپنے بچپن کا کچھ پس منظر آپ کو بتاتا ہوں۔ میں تھوڑا گرلی(لڑکی جیسا) لڑکا تھا، اس لیے مجھے پریشان کیا جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ مجھ سے کہا کرتی تھیں،’تم ایک الگ طرح کے لڑکے ہو۔ تم اسے قبول کرو اور اسی کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ یہ آسان نہیں ہوگا، لیکن آخرکار تم خوش رہو گے۔ اگر تم اپنے سچ کو قبول نہیں کرو گے تو تمہارے لیے زندگی مشکل ہو جائے گی۔‘

جب میں چھوٹا تھا تو یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ دراصل میری جنسی پہچان کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔ لیکن وہ صاف دیکھ سکتی تھیں کہ میں اس سانچے میں فٹ نہیں بیٹھ رہا تھا، جس کی توقع معاشرہ لڑکوں سے کرتا ہے۔  لیکن انہوں نے اپنے گھر اور اپنے دل میں میرے لیے جگہ بنائی۔

سال2024میں کوئیر بیٹ میں دھیرین بوریسا اور اکھل کاتیال کا ایک تنقیدی مضمونکاسٹ انڈر کلٹ‘شائع ہوا تھا۔ اس میں یہ بحث کی گئی ہے کہ کیسے ’لحاف‘کے انگریزی تراجم نے اردو کی اصل کہانی میں ذات پات اور خواہشات کے باہمی تعلق پر دیے گئے زور کو منظم انداز میں کمزور کر دیا گیا، یہاں تک کہ ذات  پات سے متعلق کئی اشارے بھی مبہم کر دیے گئے ہیں۔ اس تنقیدی مطالعہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

میں نے تقریباً دس سال پہلے اردو سیکھنا شروع کی۔ اس   کے بعد جب میں نے اپنی نانی کی کہانیوں کو پڑھا ، تو میں یہ دیکھ پایاکہ انگریزی تراجم میں ذات پات کے پہلو کو مبہم کردیا گیا ہے۔ کیوں کہ اگر آپ براہ راست اردو میں ’لحاف‘پڑھیں تو وہاں اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ دونوں عورتیں، بیگم جان اور ربو، دو مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک مراعات یافتہ اعلیٰ طبقے اور اعلیٰ ذات (اشرافیہ) سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ دوسری کے بارے میں واضح طور پر کہا جا سکتاہے کہ وہ اس طبقے اور اعلیٰ ذات کی نہیں ہے۔

ہندوستان میں کوئیر حقوق کی تحریک کے اندر بھی کئی دھڑے بن چکے ہیں، کیونکہ کوئیر دلت اور کوئیر مسلم پہچان کئی لوگوں کے لیے بے چینی اور عدم تحفظ کا باعث ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اکثریتی نظریات سے وابستہ ہیں اور جن کے رویے دلتوں اور مسلمانوں کے لیے نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں’ لحاف‘کو دوبارہ پڑھنے اور اس کی نئی تعبیر کرنے کی ضرورت کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

میرے خیال میں ہمیں اس کہانی کو کھلے ذہن اور فراخ دلی سے پڑھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک غیر معمولی تخلیق ہے جو شناخت کی کئی پرتوں کو سمجھنے کا وسیلہ فراہم کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے ایک جامع اور ہمہ گیر کہانی سمجھتے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کے بعض پہلوؤں پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے بڑھاپے تک میری نانی کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہیں گالیاں دیں، نفرت آمیز خطوط بھیجے، بلکہ ’لحاف‘ لکھنے کی وجہ سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ لوگوں نے میری پٹائی کرنے کے لیے لحاف کو اپنا ڈنڈا بنا لیا ہے۔

کیا قارئین کو یہ بھی لگتا تھا کہ ان کے چاہنے والوں میں عورتیں بھی شامل ہیں؟

ہاں، میرا خیال ہے کہ ان کی سیکسوئلٹی کے حوالے سے کافی تجسس رہا ہے، کیونکہ ان کی تعلیم خواتین کے ادارے ازابیلا تھوبرن کالج، لکھنؤ میں ہوئی، اور اپنی خودنوشت تحریروں میں بھی انہوں نے عمر میں بڑی لڑکیوں کو پسند کرنے اور ان پر فریفتہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ لوگوں نے ان باتوں سے مختلف معنی اخذ کیے ہیں۔ تاہم، ان کی کوئی خاتون محبوبہ تھی یا نہیں، یہ ہمیشہ ایک راز ہی رہے گا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا لوگ ’ہم جنسی‘پر بات کرنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس اصطلاح کو انیسویں صدی کے اواخر میں وضع کیا گیا تھا اور حال تک اسے میڈیکل یاپیتھالوجیکل تناظر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن جنوب ایشیائی ثقافت میں ہم جنس میلان، کشش، چھیڑ چھاڑ اور رومانوی تعلقات کے تجربات اور ان کے بیانیے صدیوں سے موجود رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اپنی جنسی شناخت (اورینٹیشن) کو عوامی طور پر قبول کرنا بااختیار ہونے کا وسیلہ بن سکتا ہے، لیکن کیا اس سے یہ احساس بھی پیدا نہیں ہوتا کہ انسان ایک مخصوص لیبل میں قید ہو گیا ہے؟

بالکل۔ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ لوگ بعض اوقات اپنے اوپر کوئی لیبل لگانے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تکثیریت ہماری ثقافت اور تاریخ کا بنیادی حصہ ہے۔

سال  1946 میں لاہور ہائی کورٹ میں عصمت آپا پر فحش نگاری  کا مقدمہ چلا ، کیونکہ لوگوں کو ان کی یہ کہانی ناگوار گزری تھی۔ لیکن تقریباً دو سال پہلے پینگوئن کے چلڈرن امپرنٹ نے ممتا نینی اور برکھا لوہیا کی کتاب ریبل ود اے کاز: ہاؤ عصمت چغتائی ری روٹ دی رولز فار گرلز‘ شائع کی۔ اس کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

میں اسے دنیا میں آئی تبدیلیوں کی نشانی کے طور پردیکھتا ہوں، اور یہ بہت خوبصورت واقعہ ہے، ہے نا! آج انہیں ایک نئے زاویے سے دیکھا جاتا ہے، اس لیے اب بچوں کو بھی ان کی کہانی پڑھنے کا موقع ملے گا۔ درحقیقت، میں خود بھی بچوں کی ایک کتاب پر کام کررہا ہوں۔ یہ کتاب ان کے بچپن، ان کے ساتھ جڑی میری بچپن کی یادوں، اور ایک فلمساز کے طور پر میرے کیریئر میں ان سے ملنے والی تحریک کے بارے میں ہے۔

یہ انہی کا اثر ہے کہ میں ہمیشہ یہ محسوس کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ میں اتنی صلاحیت ہے کہ آپ فن پارہ تخلیق کر سکتے ہیں، تو اس میں سماجی تبصرے کی پرت بھی شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آپ نے ایک دستاویزی فلم سیلر اینڈ دی شیف بھی بنائی ہے، جس کا پریمیئر اس سال کشش فلم فیسٹیول میں ہوا۔ آپ نےتیس سالوں سے ساتھ  رہنے والے ان ہم جنس  مردوں کی تلاش کیسے کی   اور ان پر فلم بنانے کا خیال کیسے آیا؟

جب میں اپنی عمر کی ساٹھویں دہائی میں داخل ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ ایک فلمساز کے طور پر میری توجہ ایل جی بی ٹی کیو+ کمیونٹی کے مختلف پہلوؤں پر رہی ہے، لیکن بزرگ آبادی کی طرف میرا دھیان نہیں گیا۔ اس لیے میں نے اپنی کمیونٹی کے بزرگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی کہانیاں سننا شروع کیں۔

اسی دوران میری ملاقات پیوش سے،جو اس ٹائٹل کا ’سیلر‘ہے اور سشیل سے ہوئی جو’شیف ‘ہے۔ ان کی کہانی سچ مچ پیاری ہے۔ دونوں ایک معمولی متوسط طبقے سےتعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہانی ان کی اتفاقیہ ملاقات، دوستی اور اپنے لیے ایک چھوٹی سی خوبصورت دنیا بنانے، اپنے خاندانوں کو اپنے بارے میں بتانے اور شادی کے سوال سے تصادم کے بارے میں ہے۔ مجھے یہ سب بہت متاثر کن لگا۔

پیوش کو دل کا دورہ پڑا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں ورزش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی دوران سشیل نے کہاتھا،’ہم ڈانس کیوں نہیں شروع کرتے ہیں؟‘ انہیں اس میں اتنا لطف آیا کہ انہوں نے باقاعدہ رقص سیکھنا شروع کر دیا، اور اب وہ مقامی کمیونٹی پروگراموں میں شوقیہ رقص بھی پیش کرتے ہیں۔ لوگ انہیں’ڈانسنگ ڈیڈیز‘کہتے ہیں۔ وہ اس فلم میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا توانائی لے کر آتے ہیں۔

کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ ہندوستان میں اور شاید دنیا بھر میں کوئیر ثقافت عمومی طور پر نوجوانوں پر مرکوز ہے؟ کیا یہی اس فلم کو بنانے کی ایک وجہ بھی تھی؟

جی ہاں، بالکل۔ نوجوانوں پر مرکوز ہونے کے علاوہ، کوئیر ثقافت کئی سطحوں پر فاشسٹ بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ہم جنس پرست مردوں (گے) کی کمیونٹیز میں۔ یہاں بہت کچھ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ کیسے لگتے ہیں،آپ کے سکس پیکس ہیں، آپ کون سے برانڈ کے کپڑے پہنتے ہیں اور آپ کی لائف اسٹائل کیسی ہے۔ وہاں شرمندہ کرنےکا رجحان بہت عام ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو موٹے لوگ، فیم (روایتی نسوانی انداز اپنانے والی ہم جنس پرست یا کوئیر شخصیت) یا عمر رسیدہ لوگوں کا خیرمقدم نہیں کرتے۔

سنیما میں سیلرکا جو کردار ہے، ہم جنس پرست مردوں میں، ساتھ ہی پورنو گرافی میں بھی، اس کو لے کرایک خاص کشش پائی جاتی ہے۔ کیا سیلر اینڈ دی شیف بناتے وقت آپ کے ذہن میں اس کاتاریخی تصور بھی تھا؟

میں رائنر ورنر فاس بائنڈر کی فلم ’کوریل‘کے بارے میں سوچ رہا تھا، جو ژاں ژنے کے ناول’کوریل دی بریسٹ‘پر مبنی ہے۔ اس میں ایک بیلجیئن سیلر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ میں ژاں ژنے کا بہت بڑا مداح ہوں۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایل جی بی ٹی کیو+ لوگ اپنے خاندان اور دوستوں کے سامنے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے اس وقت تک انتظار کرتے ہیں جب تک وہ مالی طور پر محفوظ نہ ہو جائیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مراعات یافتہ طبقوں اور موروثی امیر خاندانوں میں پیدا ہونے والے بہت سے لوگ خول میں بند رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنی بہتر حالت اور آواز کو اپنی کمیونٹی کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ آپ نے اپنے لیے صحیح راستے کا انتخاب کیسے کیا؟

آپ کے سوال نے مجھے اپنی نانی اور اپنے بچپن کے دوست ریاض واڈیا کی یاد دلا دی، جو ایک ہندوستانی فلمساز ہیں، جنہوں نے ’بام گے‘(1996) بنائی  ہے۔ ہم اس موضوع پر اکثر گفتگو کیا کرتے تھے۔ شروع میں جب میں نے کام کرنا شروع کیا تو مجھے خوف محسوس ہوتا تھا۔ میں ایک فلم ڈائریکٹر بننے کے لیے اپنی کوئیر شناخت کو چھپانا چاہتا تھا۔ اس وقت ایسے فلمساز نہیں تھے جواپنی کوئیر شناخت ظاہر کر چکے ہوں۔ البتہ کوئیر میک اپ آرٹسٹ، فیشن ڈیزائنر اور ڈانسر تھے۔ گویا کوئیر کو چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔

میرے پاس طبقاتی، ذات اور تعلیم کی مراعات بھی تھیں۔ اس کے علاوہ میرے پاس ہندو-مسلم ازدواجی رشتے سے وابستہ پہچان تھی۔ میرے پاس یہ  ساری مختلف پہچان ایک ساتھ آ گئی ہیں۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میں نے مرد سیکس ورکرز پر ’ہیپی ہوکرز‘(2006) اور’کمنگ آؤٹ اسٹوریز‘ (2016)  جیسی فلمیں بنائیں، اور نیٹ فلکس کی چھ ایپی سوڈ پر مشتمل ڈاکیومنٹری سیریز’بگ ڈے‘(2021) کا سیریز ڈائریکٹر بھی رہا، جس کا ایک مکمل ایپی سوڈ ایک ہم جنس پرست (گے) جوڑے کی شادی پر مبنی ہے۔

مجھے زویا اختر اور ریما کاگتی کے شو ’میڈ ان ہیون‘پر بھی فخر ہے، جس میں میں نے اداکاری کی۔ یہ شو کوئیر تعلقات کو انتہائی حساس انداز میں پیش کرتا ہے۔ میں نے ایسی کہانیاں بھی لکھی ہیں جو مینل حضرت والا کے مرتب کردہ مجموعہ’آؤٹ! اسٹوریز فرام دی نیو کوئیر انڈیا‘(2012) اور پون ڈھل کے مرتب کردہ مجموعہ’کوئیر پوٹلی: میموریز، امیجینیشن اینڈ ری امیجینیشنز آف اربن کوئیر اسپیسز ان انڈیا‘میں شائع ہوئی ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کی مجھے کوئی قیمت چکانی پڑی یا نہیں۔ شاید ہاں، شاید مجھے کام کانقصان ہوا ہو۔ میری زیادہ تر فلمیں سیلف فنڈیڈ ہیں۔ لیکن میں ایک مطمئن انسان کے طور پرقبر میں جاؤں گا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو میرے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔

(چنتن گریش مودی ایک مصنف، استاد اور ناقد ہیں۔ ان کی تحریریں بارڈرلائنس: جلد اول(2015)، کوئیر ہولڈ بلڈ (2019) اور بینٹ بک (2000) سمیت کئی مجموعوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان سے انسٹاگرام اور ایکس پر @chintanwriting پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔