Author Archives

اپوروانند

مسلمان کا سوال کیا صرف ان کا سوال ہے؟

ویڈیو: شہریت ترمیم قانون کی مخالفت میں پورے ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کا غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور پر مسلم کمیونٹی پورے ملک میں اس قانون کی مخالفت کر رہی ہے ،وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔اس بارے میں اپوروانند کا نظریہ۔

’ایودھیا  کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے عدالت‘

ویڈیو: سپریم کورٹ کے متنازعہ زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج کرتے ہوئے ہندو فریق کو زمین دینے کو کہا ہے ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ہندوستان کی سیاست اور سما ج میں کیا تبدیلی آئے گی ۔ اس بارے میں اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں پروفیسر اپوروانند۔

یہ اقبال کی نظم پر نہیں بلکہ ہندو سماج کی تنگ ہوتی ذہنیت پر اظہار افسوس کا وقت ہے

وشو ہندو پریشد نے پیلی بھیت کے ایک پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر پر قومی ترانے کی جگہ اقبال کی دعا پڑھوانے کا الزام لگایا ۔ ان سے شکایت نہیں لیکن ضلع مجسٹریٹ سے ہے ۔ انہوں نے جس دعا کے لیے ہیڈ ماسٹر کو سزا دی ، کیا اس کے بارے میں ان کو کچھ معلوم نہیں ؟ کیا ب ہم ایسی انتظامیہ کی مہربای پر ہیں جو وشو ہندو پریشد کا حکم بجانے کے علاوہ اپنے دل اور دماغ کا استعمال بھول چکے ہیں ؟

کیا درگا کی آڑ میں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا؟

درگا اب راشٹر واد کی غلام بنا لی گئی ہیں۔ پھر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے، جو کبھی ڈرپوک-فریبی دیوتاؤں نے ان کی آڑ میں مہیشاسر پر وار کرکے لیا تھا۔اب درگا کی آڑ میں حملہ مسلمانوں پر کیا جا رہا ہے اور ہم، جو خود کو درگا کا بھکت کہتے ہیں، یہ ہونے دے رہے ہیں۔

اپوروانند کی ماسٹر کلاس: میاں جب خود کو میاں کہتے ہیں تو کس کو غصہ آتا ہے؟

ویڈیو: نظم کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالے جانے کے بعد ’میں میاں ہوں‘نظم کے تخلیق کار حافظ احمد سمیت 10 لوگوں پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان لوگوں پر اپنی نظموں کے ذریعے آسام کے این آر سی اور آسام کے لوگوں کے تئیں نفرت اور تعصب رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔آج کی ماسٹر کلاس میں اس مدعے پر پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

اپوروانند کی ماسٹر کلاس: جئے شری رام کا نعرہ تشدد کا بہانہ ہے

ویڈیو: جھارکھنڈ میں کچھ دن پہلے چوری کے شک میں تبریز انصاری کو بھیڑ کے ذریعے پیٹا گیا، جس کے بعد ہاسپٹل میں ان کی موت ہوگئی۔ان سے مبینہ طور پر جبراً جئے شری رام اور جئے ہنومان کے نعرے بھی لگوائے گئے تھے۔اس واقعہ پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

اسرائیل جیسی طاقتور ریاست کے تشدد پر بات نہیں کرنا  جرم  عظیم ہے…

یوم نکبہ: فلسطین-ہماری آنکھوں کے آگے گم ہوتے ہوئے ایک ملک کا نام ہے۔فلسطین کے زخم سے خون آہستہ آہستہ ٹپک رہا ہے۔ لیکن وہ ہماری روح کو نہیں چھوتا۔ ابھی جو لاکھوں فلسطینی جلاوطن ہیں، کیا ان کو اپنے ملک لوٹنے کا حق نہیں ہے؟ کیا ہم اسرائیل کے جھوٹ کو سچ مان لیں‌گے۔

جئے شری رام کا نعرہ رام کی عظمت کا اقرار نہیں، غنڈہ گردی  کا اعلان ہے

لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ ان کی رام تحریک مذہبی نہیں تھی۔ وہ رام نام کے پس پردہ مسلمانوں سے نفرت والےسیاسی ہندو کو تیار کرنے کی تحریک تھی۔ جئے شری رام اسی گروپ کا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس نعرے کا رام سے اور رام کے احترام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں۔ آپ جب جئے شری رام سنیں تو مان لیں کہ آپ کو جئے آر ایس ایس کہنے کی اور سننے کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔

عدالت نے اپنے مکھیا کی حفاظت میں عدلیہ  پر عوام کے بھروسے  کا قتل کر ڈالا

جنسی استحصال کے معاملوں میں سب سے ضروری مانا جاتا ہے کہ اگر ملزم کسی ادارہ میں فیصلہ کن حالت میں ہے، تو وہاں سے اس کو ہٹایا جائے۔ گزشتہ دنوں ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے سامنے آئے جن میں ادارہ کے چیف کو کام سے بری کیا گیا۔ غیر جانبداری کی یہ پہلی شرط مانی جاتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ سے جڑے اس خاص معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

سادھوی پرگیہ کو امیدوار بنا کر بی جے پی دیکھنا چاہتی ہے کہ ہندوؤں کو کتنا نیچے گھسیٹا جا سکتا ہے

لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس انتخاب میں بی جے پی کا بھروسہ  چھوٹ رہا ہے، اس نے سادھوی کو لاکر برہماستر چلایا ہے۔ یہ امتحان اصل میں بی جے پی کا نہیں ہے، یہ ہندوؤں کا امتحان ہے۔ کیا وہ مذہب کے اس مطلب  کو قبول کرنے […]

کیوں پنیہ پرسون باجپئی جیسے لوگوں کو عوام کی نگاہ سے الگ کرنا ضروری ہے؟

آخر کیا بات ہے کہ زراعتی معاملہ ہو، اقتصادیا ت کے دوسرے پہلوہوں، یونیورسٹی ہوں یا اسکول، ہندی اخباروں یا چینلوں سے ہمیں نہ تو صحیح جانکاری ملتی ہے، نہ تنقیدی تجزیہ؟ کیوں ساری ہندی میڈیا حکومت کی جئے جئے کار میں مصروف ہے؟