اپوروانند کی ماسٹر کلاس: کیاایودھیا تنازعے میں بی جے پی سپریم کورٹ کو وارننگ دے رہی ہے؟
ویڈیو: بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد کےایودھیا تنازعے پر حالیہ بیان کو لے کر پروفیسر اپوروانند کا تبصرہ۔
ویڈیو: بی جے پی رہنما اور مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد کےایودھیا تنازعے پر حالیہ بیان کو لے کر پروفیسر اپوروانند کا تبصرہ۔
ویڈیو:پبلک پلیس میں نماز پڑھنے کو لے کر حالیہ تنازعے پر پروفیسر اپوروانند کی ماسٹر کلاس۔
دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں 34 سال بعد کانگریس رہنما سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ لیکن انصاف ایک ہی خاندان کو ملا ہے ۔ کیوں انصاف کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ایک جمہوریت میں انصاف ملنا عام بات نہیں ہے ۔ کیاہم قاتل کے ساتھ رہنے کے عادی ہوگئے ہیں ؟ پروفیسر اپوروانند کی پہلی ماسٹر کلاس۔
ویڈیو: 25 نومبر کو ایودھیا میں ہندو تنظیموں کے اجتماع پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔
کانگریس نے سیکولرازم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسا خیال جس میں اس پارٹی کی خاص خدمات تھیں، ہندوستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو، اب اس میں اتنا اعتماد نہیں رہ گیا ہے کہ انتخاب کے وقت اس کی بات بھی کی جا سکے۔
ترنگا لےکر آپ کانور یاترا میں چل سکتے ہیں۔ گنیش وسرجن میں بھی اس کو لہرا سکتے ہیں۔ بد عنوانی مخالف تحریک میں بڑے ڈنڈوں میں باندھکر موٹرسائیکل پر دوڑا سکتے ہیں۔ ترنگا سے آپ مسلمانوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کی لاش ڈھک سکتے ہیں، لیکن اس سے آپ اپنی بےپردگی ڈھک نہیں سکتے!
اساتذہ کے ساتھ توہین آمیز رویہ کوئی نئی بات نہیں۔گزشتہ 4 سالوں میں مرکزی حکومت نے ہندوستان کے فیڈرل اسٹرکچر کی تردید کرتے ہوئے جس طرح ٹیچرس ڈےکو ہڑپ لیا ہے کہ اس کے ذریعے وزیر اعظم کی امیج نکھاری جا سکے،بس اس کو یاد کر لینا کافی ہے۔
یشپال ہوں یا اکرم یا رشیدی، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ قاتلوں کو معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اس لئے ان کو معاف کر دیا جائے۔ وہ قتل اور تشدد کے لئے انصاف کے عمل کو ملتوی […]
برقع اور ٹوپی کو مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بتانے والوں کو اپنے تعصبات کے پردے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
شور کے اس دور میں سمجھ دار، خاموش لیکن نیلابھ جیسی توانا آواز کا خاموش ہو جانا بہت بڑا خسارہ ہے لیکن زندگی میں لطف لینے اور اس کو قبول کرنے والے دوست کا نہ رہنا جو شکایتی نہ ہو، زیادہ بڑا نقصان ہے۔
آزادی کے بعد دلی میں خون خرابے کا سلسلہ جاری تھا ۔اس کی مخالفت میں گاندھی جی نے 12جنوری 1948کو اعلان کیا کہ وہ اگلے دن یا 13جنوری کو اپواس شروع کریں گے
1992 کی چھ دسمبر کو جو لاکھوں ہندو ایودھیا میں جمع ہوئے وہ کیا اچانک ہی ایک متشدد بھیڑ میں بدل گئے؟ کیا اچانک ہی ان کے اندر ابال آ گیا اور انہوں نے مسجد مسمار کردی؟ کیا یہ لمحاتی وحشت تھی؟ 6 دسمبر ہندوؤں کے لئے شرمندگی […]
ان کواس طرح پیش کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے اس ملک میں گاندھی کے بعدوہی سب سے بڑے دانشور /فلاسفر ہوں ،جن کو پہچانا نہیں گیا۔تو پہلا سوال یہی ہے کہ وہ کس قسم کے فلاسفر ہیں،جن کو ان کے جنم کے 100ویں سال میں […]
ہادیہ اس ملک کی جائیداد نہیں ہے۔ اور سپریم-کورٹ اس کی مرضی کے خلاف اس کا سرپرست نہیں بن سکتا۔ بہتر ہو کہ اس غلطی کی اصلاح کر لی جائے۔ ورنہ اس ملک کے مسلمان اب عدالتوں تک آنے سے بھی ہچکیںگے جن پر اب تک ان کو […]
گجرات فساد (2002) میں منہدم عبادت گاہوں کے معاوضے کو لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر پروفیسر اپوروانند کا تبصرہ گجرات فساد (2002) میں عباد ت گاہوں اور مقبروں کے انہدام کے سلسلے میں ایک معاملے کی سماعت میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے […]