Author Archives

اپوروانند

اپوروانند کی ماسٹر کلاس: 1984 معاملے میں سجن کمارکو سزا ،2002 کے ملزموں کو وارننگ؟

دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں 34 سال بعد کانگریس رہنما سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ لیکن انصاف ایک ہی خاندان کو ملا ہے ۔ کیوں انصاف کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے اور ایک جمہوریت میں انصاف ملنا عام بات نہیں ہے ۔ کیاہم قاتل کے ساتھ رہنے کے عادی ہوگئے ہیں ؟ پروفیسر اپوروانند کی پہلی ماسٹر کلاس۔

کیا اس ملک میں اب بحث صرف اچھے ہندو اور برے ہندو کے بیچ رہ گئی ہے؟

کانگریس نے سیکولرازم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسا خیال جس میں اس پارٹی کی خاص خدمات تھیں، ہندوستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو، اب اس میں اتنا اعتماد نہیں رہ گیا ہے کہ انتخاب کے وقت اس کی بات بھی کی جا سکے۔

اب ترنگا سے سکون نہیں، جنون پیدا کیا جا رہا ہے

ترنگا لےکر آپ کانور یاترا میں چل سکتے ہیں۔ گنیش وسرجن میں بھی اس کو لہرا سکتے ہیں۔ بد عنوانی مخالف تحریک میں بڑے ڈنڈوں میں باندھ‌کر موٹرسائیکل پر دوڑا سکتے ہیں۔ ترنگا سے آپ مسلمانوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کی لاش ڈھک سکتے ہیں، لیکن اس سے آپ اپنی بےپردگی ڈھک نہیں سکتے!

ٹیچرس ڈے اور ان کی عزت افزائی کا ڈرامہ…

اساتذہ کے ساتھ توہین آمیز رویہ کوئی نئی بات نہیں۔گزشتہ 4 سالوں میں مرکزی حکومت نے ہندوستان کے فیڈرل اسٹرکچر کی تردید کرتے ہوئے جس طرح ٹیچرس ڈےکو ہڑپ لیا ہے کہ اس کے ذریعے وزیر اعظم کی امیج نکھاری جا سکے،بس اس کو یاد کر لینا کافی ہے۔

6 دسمبرکو ایودھیا میں رام بھکتی اتنی نہیں تھی جتنی مسلمانوں کے خلاف نفرت

1992 کی چھ دسمبر کو جو لاکھوں ہندو ایودھیا میں جمع ہوئے وہ کیا اچانک ہی ایک متشدد بھیڑ میں بدل گئے؟ کیا اچانک ہی ان کے اندر ابال آ گیا اور انہوں نے مسجد مسمار کردی؟ کیا یہ لمحاتی وحشت تھی؟ 6 دسمبر ہندوؤں کے لئے شرمندگی […]

دین دیال اپادھیائے:مسلم مخالف ذہنیت کوسرکاری فلاسفرکیوں بنایا جارہا ہے؟

ان کواس طرح پیش کر نے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے اس ملک میں گاندھی کے بعدوہی سب سے بڑے دانشور /فلاسفر ہوں ،جن کو پہچانا نہیں گیا۔تو پہلا سوال یہی ہے کہ وہ کس قسم کے فلاسفر ہیں،جن کو ان کے جنم کے 100ویں سال میں […]

اب سیکولر دلیلوں سے مسلمانوں کو مارنے کی کوشش ہورہی ہے: پروفیسر اپوروانند

گجرات فساد (2002) میں منہدم عبادت گاہوں کے معاوضے کو لے کر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر پروفیسر اپوروانند کا تبصرہ گجرات فساد (2002) میں عباد ت گاہوں اور مقبروں کے انہدام کے سلسلے میں ایک معاملے کی سماعت میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے […]