پی ایم کیئر فنڈ سے 31 مارچ 2025 کو ختم ہوئے مالی سال کے دوران 87 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ 31 مارچ 2025 تک اس فنڈ کے اکاؤنٹس میں 8,452 کروڑ روپے تھے۔ پی ایم کیئر فنڈ کا قیام مارچ 2020 میں کووڈ-19 وبا کے پھیلاؤ کے دوران ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ فنڈ کی آڈٹ رپورٹس عوامی طور پر دستیاب نہ ہونے پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔
ای ڈی نے انل امبانی کے ریلائنس گروپ کی کمپنیوں کے منی لانڈرنگ معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ یس بینک کی طرف سے دیے گئے تقریباً 3000 کروڑ روپے کے قرضوں میں بھاری گڑبڑی، رشوت اور دھوکہ دہی کے الزامات ہیں۔ ای ڈی نے 50 کمپنیوں اور 35 سے زیادہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے کی ہے۔
سرکاری ملازمین کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں شامل ہونے پر عائد پابندی کو مرکزی حکومت نے 9 جولائی کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کی منسوخی سے متعلق فیصلہ سرکاری ویب سائٹس پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے، لیکن اس فیصلے کو پاس کرنے والی فائل کو ‘خفیہ’ فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔
سال 2017 میں سی بی آئی نے این سی پی لیڈر پرفل پٹیل کے خلاف شہری ہوابازی کے وزیر کے طور پر عہدے کا غلط استعمال کرنے اور بڑی تعداد میں ہوائی جہاز کرایہ پر دینے کا کیس درج کیا تھا۔ اب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی میں شامل ہوئے پٹیل کے خلاف اس معاملے میں کلوزر رپورٹ داخل کی گئی ہے۔