Author Archives

غضنفر

معید رشیدی: میری جاں عشق نہیں، میں نے قیامت کی ہے

معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔

تخلیقی سرگزشت: ’مجھے لکھنے کی بھوک لگتی ہے اس لیے لکھتا ہوں‘

چند بڑی طاقتیں احساس دلانا چاہتی ہیں کہ عام انسانوں کی محنت اور کوشش انہی کی طرح حقیر ہیں۔ انہیں اندیشہ لگا رہتا ہے کہ اگر پیاسے انسان کو آبیاژوں سے بہلایا نہ گیا تو پیاس کی شدت صبرو تحمل کا بند توڑ سکتی ہے اور اگر بند ٹوٹا تو ان کے پاؤں کے نیچے سے پانی کھسک سکتا ہے۔ میں اور میرے عہد کی تخلیقی سرگزشت کی اس قسط میں پڑھیے شاعر،ناقد اورمعروف فکشن نویس غضنفر کو۔