Author Archives

افتخار گیلانی

ویوین سلور: اسرائیل میں فلسطینیوں کی آواز خاموش ہوگئی

وفاتیہ: ویوین سلور 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد غائب تھی، اور گمان تھا کہ شاید حماس کے عسکری اس کو اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں اور غازہ میں فلسطینوں میں ان کی مقبولیت اور گڈ ول کی وجہ سے وہ شاید محفوظ ہوں گی۔ ان کا موازنہ ہندوستان میں امن مساعی کے کسی داعی سے کیا جائے، تو وہ آنجہانی نرملا دیش پانڈے تھی۔ وہ ان ہی کی طرح معتدل مزاج کی مالک تھی اور انتہائی اشتعال انگیز لمحات میں بھی اپنے نرم لہجے کو برقرار رکھتی تھی اور شاید ہی ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوتی تھی۔

فلسطینی لیڈر حنان عشراوی سے بات چیت

انٹرویو: فلسطینی لیڈر حنان عشراوی کہتی ہیں کہ اسرائیل آج غزہ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے، وہ کئی دہائیوں سے کر رہا ہے۔ حالیہ اور تازہ حملوں سے قبل غزہ پر پانچ حملوں میں ہزاروں فلسطینی مارے گئے تھے۔یہ ایک منظم دہشت گردی ہے، جو اسرائیل نے برپا کر رکھی ہے۔

حماس کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق سے بات چیت

انٹرویو: حماس کے نائب سربراہ موسیٰ ابو مرزوق کہتے ہیں کہ ہم ایک آزادی کی تحریک ہیں جو مغربی ممالک کے حمایت یافتہ قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور ہم صرف آزادی چاہتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان نے برطانوی قبضے کو مسترد کر کے آخر کار اسے نکال باہر پھینکا، ہم بھی ویسی ہی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا 1857 کی جنگ جس میں ہزاروں افراد مارے گئے نا جائز تھی؟ اگر وہ جائز تھی اور اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے، تو ہماری جدو جہد بھی جائز ہے۔ اگر کوئی اس وقت کہتا کہ یہ عظیم قربانیاں ہم نہیں دینا چاہتے، تو آج تک برصغیر پر برطانیہ قابض ہوتا۔

اسرائیلی دادی اور غزہ کی کسمپرسی

حماس کی کارروائی نے دنیا کو حیرت زدہ کردیا، مگر اس خطے میں موجود صحافی، جو فلسطین کے قضیہ کو کور کررہے تھے، پچھلے ایک سال سے اس طرح کی کسی کارروائی کی پیشن گوئی کر رہے تھے۔ قالین کے نیچے لاوا جمع ہو رہا تھا۔ بس اس کے پھٹنے کی دیر تھی۔

ہندوستان – کینیڈا مناقشہ اور خفیہ ایجنسیوں کے بیرون ملک آپریشن

ایسا لگتا ہے کہ نجر کی ہلاکت سے قبل یا اس کے فوراً بعد ہی کنیڈا کی خفیہ ایجنسیوں نے ٹوہ لینی شروع کر دی تھی اور اس سلسلے میں مبینہ طور پر ہندوستانی سفارت کاروں اور ان سے ملنے والوں کے فون ٹیپ کیے جار ہے تھے۔

ٹی وی اینکرز کا بائیکاٹ: کیا چینلوں کے خلاف قدم اٹھانے کی ضرورت تھی

اینکرز کے بائیکاٹ کے بعد اپوزیشن جماعت کے اتحاد کے چند لیڈران نے چینل مالکان پر شکنجہ کسنے کی مانگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی 11 صوبوں میں حکومتیں ہیں۔ اگر وہ واقعی نفرت پھیلانے والے چینلوں کا اقتصادی بائیکاٹ کرتی ہیں اور ان کو اشتہارات دینے سے منع کرتی ہیں، تو ان مالکان کے لیے چینلوں کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔

جی – 20 اجلاس، حصولیابیاں اور ہندوستانی سفارت کاری

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ اعلامیہ میں مذہب اور عقیدے کی آزادی پر زور دینے پر مشتمل ایک پیراگراف شامل کروایا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یورپ اس اعلامیہ کے بعد مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی مسلسل بے حرمتی اور جلانے جیسے واقعات سے کیسے نپٹتا ہے اور خودہندوستان جہاں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے، کیسے اس پر عمل کرتا ہے؟

کیا ہندوستان بحیرہ روم کی ’گریٹ گیم‘ میں شامل ہو رہا ہے؟

یونان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان جی–20کے سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان جا رہے ہیں۔ اگرچہ ترکیہ اور یونان دونوں ناٹو کے رکن ممالک ہیں، مگر یہ کئی دہائیوں سے مختلف دوطرفہ مسائل پر تنازعات کا شکار رہے ہیں۔

ہندوستان کا چندریان مشن، سارا بھائی فیملی اور کشمیر

وکرم سارا بھائی نے 1955میں گلمرگ کے مقام پر ایک سائنسی لیبارٹری کا سنگ بنیا د رکھا۔ یہ دنیا کی واحد ایسی لیبارٹری ہے جو اس قدر بلندی پر واقع ہے۔ اس لیبارٹری کے علاوہ ان کا بڑا تحفہ اپنی ہمشیرہ مردولا سارابھائی کو کشمیر کے ساتھ متعارف کروانے کا ہے۔ جس نے بعد میں کشمیر کی سیاسی جدو جہد میں اہم رول ادا کیا۔ ان کی زندگی کشمیریوں کے لیے ایثار و قربانی کی ایک مثال ہے۔

اور دہلی کو تخت کا وارث مل گیا، نیرجا چودھری کی کتاب میں پاور گلیاروں سے متعلق دلچسپ واقعات …

پیش نظر کتاب کی مصنف نیرجا چودھری کا نام صف اول کے ان صحافیوں میں لیا جاتا ہے، جو سیاسی نبض پرکھنا جانتے ہیں اور ان کی رپورٹس، تجزیوں کے بین السطور میں سیاست کے اونٹ کی کروٹ کا اندازہ ہوتا رہتاہے۔ 491 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں انہوں نے اندرا گاندھی سے لے کر منموہن سنگھ کے ادوار اور ان کے کام کرنے کے اسٹائل کا احاطہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے مودی کو کیوں نظر انداز کیا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے ارد گرد کے افراد نے ان سے تعاون کرنے سے گریز کیا اور وہ فی الحال آن ریکارڈ نہیں آنا چاہتے۔

ترکیہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق

دیکھنا ہوگا کہ جب روس، یوکرین اور مغربی ممالک کے درمیان ترکیہ ایک ثالث اور مذاکرات کار کی شکل میں کردار ادا کر کے مغرب کی ضرورت بن چکا ہے، تو کیا ایسے وقت میں یورپی ممالک واقعی اس کو 27رکنی طاقتور اقتصادی اور سیاسی یونین کا حصہ بننے میں مدد کریں گے؟

ہندوستان کے فکرمند شہریوں کی کشمیر پر ایک نئی رپورٹ

فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں وکشمیر سے وابستہ اس غیر رسمی گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتی دعووں کے برعکس کشمیر کے زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کا امن و امان و سلامتی کا دعویٰ صحیح ہے، تو یہ خطہ پچھلے پانچ سالوں سے منتخب اسمبلی کے بغیر کیوں ہے؟

فسادات میں خواتین کی بے حرمتی کی داستان

پی ایم مودی کا کہنا ہے کہ منی پور ویڈیو نے قوم کو شرمسارکر دیا ہے۔ مگر گجرات میں ان کی حکومت کے دوران جو کھیل کھیلا گیا وہ شاید چنگیز و ہلاکو کو بھی شرمسار کرنے کے لیے کافی ہے۔شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ آج کے ہندوستان میں بربریت کا ہر ایک واقعہ گجرات ماڈل کا حصہ ہے۔ لنچنگ، زمینوں پر قبضہ، جمہوریت، تعلیمی اور سائنسی اداروں کو ختم کرنا، میڈیا پر کنٹرول، خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی حملے، آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملے – ان سب کا تجربہ گجرات میں کیا گیا ہے۔

آرٹیکل 370: کیا سپریم کورٹ تاریخ رقم کرنے کو ہے؟

کشمیر کے معاملے پر چاہے سپریم کورٹ ہو یا قومی انسانی حقوق کمیشن، ہندوستان کے کسی بھی مؤقر ادارے کا ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ہے، مگر چونکہ اس مقدمہ کے ہندوستان کے عمومی وفاقی ڈھانچہ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچہ اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ امید ہے کہ وہ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ داد رسی کا انتظام کر پائےگی۔

سمپت پرکاش: کشمیر کی ایک اور تاریخ خاموش ہوگئی

سمپت پرکاش ان گنے چنے کشمیری پنڈتوں میں تھے، جو اکثریتی آبادی کا دکھ درد سمجھتے تھے، اگر ان سے کوئی کشمیری پنڈتوں کی ہلاکت پر سوال کرتا، تو وہ جواب دیتے تھے کہ اگر ایک کشمیری پنڈت مارا گیا تو اس کے مقابل 50کشمیری مسلمان بھی مارے گئے اور ان کے بارے میں کسی کو کوئی تشویش کیوں نہیں ہے؟

ویگنر کی بغاوت: حکومتوں کے لیے ایک سبق

عسکری گروپ ویگنر کی بغاوت نے ایک بار پھر پرائیویٹ ملیشیاز کو سیاسی تنازعات یا جنگوں میں استعمال کرنے کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ دراصل جو حکومتیں شورش یا عوامی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں، ان کو جا ن لینا چاہیے کہ وہ ایسی عفریت پیدا کر تی ہیں، جو کسی نہ کسی وقت ان کو ہی نگل سکتے ہیں۔ حکومتوں کو ویگنر کے واقعہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

شمال–مشرقی ریاست منی پور میں تشدد کی لہر

منی پور میں ویسے تو امن کی صورتحال ہمیشہ ہی خراب رہی ہے۔ مگر وزیر اعظم نریند ر مودی اور ان کے دست راست امت شاہ نے مکر و فریب کا سہار ا لےکر ایک ایسا امن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، جو بس اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف تھا۔ حقیقی امن کے لیے کوششیں کرنے کے بجائے، مختلف گروپوں کو الجھا کر وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے کام کیے گئے۔

مودی کا دورہ امریکہ اور ہتھیارو ں کی دوڑ

اپنے امریکی دورے کے دوران کہیں کوئی ہندوستان کے اندر رونما ہونے والے ایشو نہ اٹھائے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی سودوں کی ایک طویل فہرست اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ ایشو اٹھانا بھی چاہے، تو ہندوستان سے پہلے ہتھیار بنانے والے کمپنیاں اس سے خود ہی نپٹ لیں گی۔

مودی کا دورہ امریکہ: چین بمقابلہ ہندوستان

بڑا سوال یہ ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایسی جمہوریت کے ساتھ اتحاد کرنا جائز ہے، جو ملکی سیاست اور خارجہ پالیسی میں چین کے آمرانہ نظام کی عکاسی کرتی ہو؟ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عفریت کی سرپرستی کرنا ماضی میں امریکہ کے لیے مہنگا ثابت ہوا ہے۔

کشمیر: بین الاقوامی ریڈ کراس اور انسانی حقوق کمیشن بھی بے وفا نکلے

سال 2014کے بعد ریڈ کراس کے عملہ نے جیلوں میں جانا ہی بند کردیا ہے۔ وہ اس سلسلے میں کوئی وضاحت بھی پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اگر معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے ہندوستانی حکومت ان کو جیلوں میں جانے سے روک رہی ہے، تو اس پر آن ریکارڈ آنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے۔

ترکیہ کے انتخابی نتائج: مغرب کے لیے ایک سبق

مغرب کے لیے یہ انتخابات ایک اہم سبق ہیں۔ نہ صرف ان کی بے جا مداخلت نے ترکیہ میں قوم پرست جذبات کو ابھارابلکہ بیرون ملک ترکوں کے ووٹنگ کے انداز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیلجیم، فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور ہالینڈ یعنی جو ممالک اسلامو فوبیا کا شکار ہیں، میں اردوان کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس برطانیہ، امریکہ، نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں جہاں اسلاموفوبیا کے کم واقعات رونما ہوتے ہیں، کلیچ داراولو کو اکثریت ملی۔

ترکیہ صدارتی انتخابات: کون جیتا، کون ہارا 

رائے عامہ اور تجزیہ کاروں کی یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی کہ انتخابات دوسرے راؤنڈ میں چلے جائیں گے۔ مگر اکثر کا خیال تھا کہ کلیچ داراولو کو سبقت حاصل ہوگی، کیونکہ گرتی ہوئی معیشت اور اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے عوام خاصے نالاں تھے۔اردو ان اور ان کے قریبی حریف کے درمیان تقریباً 25 لاکھ ووٹوں کا فرق ہے۔ اس کو پاٹنا اپوزیشن امیدوار کے لیے اب نہایت ہی مشکل امر ہے۔

دورہ بلاول اور ہندوستان کی مہم جو مجلس ثلاثہ

پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اس مہم جو مجلس ثلاثہ نے مودی حکومت کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے پاس آپشن انتہائی محدود ہیں۔اس صورتحال میں بات چیت کی بحالی تقریباً ناممکن نظر آرہی ہے کیونکہ جہاں نئی دہلی کے لیے سخت گیر موقف سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں وہاں پاکستان کے لیے کشمیرکے حوالے سے اختیارکردہ موقف سے پیچھے ہٹنا سیاسی اور سفارتی خودکشی سے تعبیر ہوگا۔

ترکیہ کے انتخابات: کون لے گا بازی

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اردوان اور کلیچی داراولو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ مگر ابھی تک ہوئے دس جائزوں میں دونوں میں کوئی بھی آئین کی طرف سے مقرر 50فیصد جمع ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے ۔ دونوں کلیدی امیدواروں کے ووٹوں کا تناسب 42 اور 43 فیصد کے آس پاس ہی گھوم رہا ہے۔

محقق کشمیر الیسٹر لیمب: ایک عہد، تحقیق اور تاریخ کا اختتام

لسٹر لیمب کو ممتاز تاریخ دانوں میں شمار کیا جائےگا۔ اسکالر ایان کوپلینڈ کے مطابق ان کو مکمل تحقیق اور تفصیل حاصل کرنے میں ملکہ حاصل تھا۔ پرشوتم مہرا نے انہیں امتیازی اور عظیم مؤرخ قرار دیا ہے، جن کا کام مکمل اور محنت سے پر تھا۔مصنف وکٹوریہ شوفیلڈ کے مطابق لیمب نے کامیابی کے ساتھ اہم مسائل اور غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیمب کا کام حقائق سے اتنا بھرا ہوا ہے کہ ہر باب کے ساتھ اضافی نوٹ فراہم کیے گئے ہیں۔

سابق گورنر ستیہ پال ملک کے ہوشربا انکشافات

پلوامہ کے علاوہ ہندوستانی پارلیامان پر حملہ، 2008 میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ، 1995میں کشمیر کے پہلگام علاقہ سے پانچ مغربی سیاحوں کا اغواء، اسی سال یوم جمہوریہ یعنی26 جنوری کو اس وقت کے کشمیر کے گورنر کے وی کرشنا راؤ پر قاتلانہ حملہ، ایسے چند واقعات ہیں، جن کی بھر پور پیشگی اطلاعات حکومت کے پاس تھیں ،مگر ان کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔کیا یہ سبھی فالس فلیگ آپریشن تھے؟ کیا ان کا مقصد صرف پاکستان کو عالمی منظر نامے میں کٹہرے میں کھڑا کرنا تھا؟

امت شاہ، شاردا پیٹھ کاریڈور اور پاکستانی کشمیر کی اسمبلی

جولوگ اس علاقہ کو ہندو زائرین کے لیے کھولنے کی وکالت کرتے ہیں، انہیں جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی ہندوستان کے صوبہ اترا کھنڈ کے چار مقدس مذہبی مقامات بدری ناتھ،کیدارناتھ، گنگوتری اوریمنوتری کی مذہبی یاترا کو سیاست اور معیشت کے ساتھ جوڑنے کے مضمرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ایک دہائی قبل تک امرناتھ یاترا میں محدودتعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے لیکن اب ہندو قوم پرستوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس کی یاتراکو فروغ دینے کے پیچھے کشمیر کو ہندوؤں کے لیے ایک مذہبی علامت کے طور پر بھی ابھار نا ہے، تاکہ ہندوستان کے دعویٰ کو مزید مستحکم بناکر جواز پیدا کرایا جاسکے۔

پاکستانی توشہ خانہ بمقابلہ ہندوستانی توشہ خانہ

میرے پاس اس وقت ہندوستانی توشہ خانہ کی 2013سے اپریل 2022 تک کی 4660 تحائف کی لسٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر ہندوستانی سیاستدانوں اور افسران کی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔ان کو غیر ملکی حکمراں اونے پونے تحائف دے کر ہی ٹرخا دیتے ہیں۔اس لسٹ میں بس درجن بھر ہی ایسے تحائف ہیں، جن کی مالیت لاکھوں میں یا اس سے اوپر ہوگی۔ اکثر تحفے معمولی پیپرویٹ، وال پینٹنگ، پین، کم قیمت والے کارپیٹ وغیر ایسی چیزوں پر مشتمل ہیں۔

زلزلے کی تباہ کاریوں کے درمیان ترکیہ میں قبل از وقت انتخابات کیوں دنیا کا اہم ترین الیکشن ہونے والا ہے؟

گراؤنڈ رپورٹ: اردوان نے انتخابات کو قبل از وقت یعنی مئی میں ہی منعقد کرانے کا اعلان کرکے سبھی کو چونکا دیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق زلزلہ سے چونکہ ایک بڑی آبادی اور وسیع علاقہ متاثر ہوا ہے، اس لیے باز آباد کاری کے لیے ضروری تھا کہ ایک مستحکم حکومت قائم ہو، تاکہ اس کو سخت فیصلے لینے میں آسانی ہو اوراس کے لیےعوام کا بھر پور منڈیٹ بھی حاصل ہو۔

ہندوستان میں سسکتی جمہوریت اور مغربی دنیا

مغربی دنیا بشمول امریکہ کو احساس ہے کہ ہندوستان میں جمہوری قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے، مگر یہ اس وقت چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم مہرا ہے، اس لیے اس کو پریشانی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے بڑی حد تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

بے آسرا ہیں مصیبت زدہ شامی

زلزلہ کی وجہ سے مقامی آبادی پریشان حال تو تھی ہی کہ اسی دوران شامی حکومتی افواج اور باغی افواج کے درمیان حلب کے نواح میں معرکہ آرائی ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے کے اوپر خوب گولہ باری کی۔ جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔

ترکیہ کا زلزلہ سبق ہے دہلی اور لاہور کے لیے

ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں خاص طور پر گنجان آباد شہروں دہلی اور لاہور کے حکام کو اس زلزلہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ ترکیہ کے شہروں کی طرح سرگودھا، لاہور اور دہلی کی پٹی زلزلہ کے لحاظ سے حساس زون میں شمار کی جاتی ہے۔ اس لیے ان علاقوں میں بلڈنگ کوڈ کو وضع کرنے اور اس کا سختی کے ساتھ اطلاق کرنے کی ضرورت ہے۔

جنرل پرویز مشرف اور کشمیر

پاکستانی ان کو ملک میں دہشت گردی کی لہر اور اپنے ہی لوگوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے سپرد کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، مگر ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ ہندوستان کے ساتھ امن مساعی کے نام پر انہوں نے ایک ماحول تیار کرنے میں مدددی تھی، جس کی وجہ سے کشمیر میں سیاسی جماعتوں بشمول حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند گروپوں کو سانس لینے کا موقع تو ملا۔