فروری 2020 کے دہلی فسادات کے پس پردہ مبینہ ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں پچھلے پانچ سالوں سے جیل میں بند گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان اور شفا الرحمان کو بدھ کی شام رہا کر دیا گیا۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے عمر خالد کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ ہندوستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
امریکی قانون سازوں نے عمر خالد کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے سے حراست میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واشنگٹن میں ہندوستانی سفیر ونے موہن کواترا کو خط لکھ کر ان کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔
دہلی کی عدالتوں نے 2020 کے فسادات سے متعلق کم از کم 17 معاملوں میں ملزمین کو ‘من گھڑت’ شواہد،’فرضی’ گواہ اور ‘فرضی معاملوں’ کا حوالہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ ججوں نے دہلی پولیس کی تحقیقات پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔
دہلی کی عدالت نے 2020 کے شمال -مشرقی دہلی فسادات کے دوران درج کیے گئے پانچ قتل کے مقدمات کے سلسلے میں یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وہاٹس ایپ چیٹ کو ‘معاون ثبوت’ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ٹھوس ثبوت کے طور پر نہیں۔