AK Party

ترکیہ: ایردوان کی آق پارٹی کے پچیس برس

ایک بڑا سوال  یہ ہے کہ سویلین حقوق کی طویل لڑائیوں کے دوران عوام کی جو بے پایاں وفاداری اور عقیدت آق پارٹی کو حاصل ہوئی تھی، اس عظیم سیاسی ورثے کو ایردوان کے بعد کون سنبھالے گا؟وہ کون سا ایسا رہنما ہو گا جو بیک وقت اناطولیہ کے ایک چھوٹے دکاندار، استنبول کے جدید کاروباری بلڈر، بحیرہ اسود کے مذہبی قدامت پسند اور وسطی اناطولیہ کے سخت گیر قوم پرست ووٹر کے دل کو چھو سکے اور ان سب کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکے گا؟

ترکیہ میں پندرہ جولائی کی اہمیت

پندرہ جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک گروہ نے سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک منظم مگر ناکام کوشش کی تھی۔یوں اس بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، جن میں کم از کم 40,000 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ان میں 10,000 سے زائد فوجی اور 2,745 جج شامل تھے۔

ترکیہ کے بلدیاتی انتخابی نتائج: دورس اثرات کے حامل

ان انتخابات کے نتائج نے ترکیہ کے مستقبل کی ممکنہ سمت کی ایک جھلک پیش کی ہے۔ یہ انتخابات اقتصادی پالیسی میں تبدیلی اور عالمی سطح پر ترکیہ کے ایک نئے کردار کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کا بیانیہ صرف قیادت میں تبدیلی سے متعلق نہیں ہے۔ یہ ملک کے سیاسی اور سماجی تانے بانے میں ایک گہری تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔