دہلی میں منعقدہ پیپلز ٹریبونل میں ملک بھر میں عیسائیوں پر ہورہے حملے- عبادت گاہوں ، پادریوں پر حملے، سماجی اور معاشی بائیکاٹ، تدفین کے حق سے محروم کیے جانے اور گاؤں دیہات سے بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ مقررین کا یہ بھی ماننا تھا کہ حالیہ دہائیوں میں عدالتی اور قانون سازی کی پیش رفت کئی معاملوں میں کمزور اقلیتوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے گورا گاؤں میں یکم جنوری کو مبینہ تبدیلی مذہب کو لے کر عیسائی خاندانوں پر ہوئے حملے میں ایک پولیس افسر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اگلے دن 2 جنوری کو نارائن پور میں تبدیلی مذہب کے خلاف ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس کے بعد ہجوم نے شہر کے ایک اسکول میں واقع چرچ میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس سے پہلے اس معاملے میں بی جے پی لیڈروں سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
بستر ڈویژن کے نارائن پور ضلع میں کلکٹریٹ کے باہرسینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کلکٹر کو دیے گئے میمورنڈم میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ آر ایس ایس اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کے اکساوے پر عیسائیوں کے خلاف تشددکیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کی جائے۔