کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔
اتر پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ) نے بتایا کہ ایک جنوری 2020 سے آٹھ جون 2020 تک اتر پردیش انسداد گئو کشی ایکٹ کے تحت 867 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر دیےگئے ہیں، جبکہ 44 معاملوں میں این ایس اے اور 2197 معاملوں میں گینگسٹر ایکٹ اور 1823 معاملوں میں غنڈہ ایکٹ لگایا گیا ہے۔
اتر پردیش انسداد گئوکشی(ترمیم)ایکٹ،2020 کے مطابق گئو کشی کے لیےزیادہ سے زیادہ 10 سال قید بامشقت کے ساتھ پانچ لاکھ روپے تک کا جرمانہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت گائے اور مویشیوں کےغیرقانونی نقل و حمل کے معاملے میں ڈرائیور،آپریٹر اور گاڑی کے مالک پر بھی الزام طے کیا جائےگا۔
مدھیہ پردیش حکومت نے گئوکشی ممنوعہ قانون 2004 میں ترمیم کو منظوری دی ہے۔ اس بل کو حکومت اسمبلی کے مانسون سیشن میں پیش کر منظور کرانا چاہتی ہے۔