ہندوستانی موسیقی کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کا اتوار کو ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 92 برس کی تھیں۔ کم عمری میں گانے کا آغاز کرنے والی آشا جی اپنی تجرباتی صلاحیت اور شوخ آواز کی بدولت کئی دہائیوں تک سننے والوں کے درمیان مقبول رہیں۔ وہ بھلے ہی جسمانی طور پر ہماری دنیا میں نہیں رہیں، لیکن ان کے گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
قارئین کی نذر لتا جی کو معنون شیراز راج کی نظم ، شیراز نے یہ نظم کچھ برس پہلے کہی تھی اور لتا جی کی وفات پر اس نوٹ کے ساتھ شیئر کیا کہ، آج کا دن ہے لتا جی کی شکر گزاری کا، انہیں سیس نوانے کا۔
شہرہ آفاق گلوکارہ لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شریک ہوئے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کو دعا کرتے ہوئے اور کچھ دیر کے لیے ماسک اتار کر پھونک مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے اس ‘پھونک’کو ‘تھوک’بتایا تھا۔ فرقہ پرستی کا الزام لگاتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے ایسے لیڈروں کی مذمت کی ہے۔
لتا منگیشکرہندوستان کی مایہ ناز اورعظیم گلوکارہ تھیں۔ ہندوستانی موسیقی میں ان کی خدمات کے لیے انہیں ‘بلبل ہند’، ‘سور کوکیلا’ اور ‘کوئین آف میلوڈی’جیسے خطابات سے نوازا گیا تھا۔