سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے ‘میاں مسلم’ یعنی بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس کے جواب میں شرما نے مندر کے خلاف سو مقدمہ درج کرانے کی بات کہی ہے۔ اس پرمندر نے کہا کہ ان دھمکیوں سے ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ پوری طاقت سے کام کرتے رہیں گے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر سماجی کارکن ہرش مندر نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دریں اثنا، الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ شرما کے بیان شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش ہیں اور ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ‘غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں نے الیکشن کمیشن میں 5 لاکھ سے زیادہ شکایات درج کروائی ہیں، ورنہ یہ سب ‘سودیشی’ (شہری) بن جاتے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ میاں کمیونٹی کے لیے پریشانیاں پیدا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اور بی جے پی براہ راست میاں کمیونٹی کے خلاف ہیں۔