لندن میں مقیم ڈاکٹر اور یوٹیوبر سنگرام پاٹل، جو بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف سخت تنقید کے لیے معروف ہیں، کو اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران ہتک عزت کے مقدمے سے لے کر لک آؤٹ سرکلر اور حتیٰ کہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیے جانے تک کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
این آئی اے کے متاثر کن کنوکشن ریٹ یعنی سزا یابی کی اعلیٰ شرح کے تناظر میں ملزمین، ان کے وکیل اور ایجنسی سے وابستہ رہے ایک شخص نے دی وائر کو بتایا کہ آخر کیوں این آئی اے کے اتنے سارے معاملے ملزمین کے اقرار جرم کی درخواستوں کے بعد انہیں قصوروار تسلیم کرلینے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب ہندوستان کو اقتصادی، سائنسی، سماجی اور اخلاقی طور پر آگے بڑھنے کے بارے میں بات کرنی چاہیے، یہ افسوسناک ہے کہ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار ’انتقام‘ کی بات کر رہا ہے۔ این ایس اے کا کردار حقیقی خطرات کے خلاف ملک کو متحد کرنا ہے، نہ کہ تاریخ کے زخموں کو کرید کر معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنا۔
بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی اننت رائے (مہاراج) نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جائیں گے، انہیں ان حراستی کیمپوں میں رکھا جائے گا اور ان سے ان کا ڈومیسائل ثابت کرنے کو کہا جائے گا۔ مغربی بنگال بی جے پی نے ایم پی کے اس تبصرے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد الیکٹورل ٹرسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو ملنے والا کارپوریٹ چندہ 2024-25 میں تین گنا بڑھ کر 3,811 کروڑ روپے پہنچ گیا ہے۔ نو الیکٹورل ٹرسٹوں نے مجموعی طور پر3,811.37 کروڑ کا چندہ دیا ہے، جس میں سے مرکز میں حکمراں بی جے پی کو3,112.50 کروڑ روپے ملے، جو کل چندے کا تقریباً 82 فیصد ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی آے) کی جانب سے 100 فیصد سزایابی کی شرح کا دعویٰ کرنے کے ایک سال بعد دی وائر کی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ طویل مدتی حراست، ضمانت سے انکار اور تفتیش کاروں کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں ملزمین، جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اپنا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو مجرم مان لینے کو مجبور ہو رہے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں مدھیہ پردیش، بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش اور جموں و کشمیر میں فلسطینی پرچم لہرانے پر متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ سری نگر میں محرم کے جلوس کے دوران فلسطین کی حمایت اور اسرائیل مخالف نعرے لگانے پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ بھی درج کیا گیا۔