مدھیہ پردیش کے نرمدا پورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے گزشتہ دنوں لنچنگ کے ایک معاملے میں چودہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد سے انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ان کے خلاف پروپیگنڈے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ جج کے بارے میں نا زیبا تبصرے کرنے اور انہیں دھمکیاں دینے والوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔
نرمداپورم ضلع کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے گزشتہ 12 جون کو مبینہ گئو تسکری سے جڑے ایک ماب لنچنگ معاملے میں 14 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو اور پوسٹ سامنے آئے، جن میں جج کو ان کی مذہبی پہچان کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
مرنے والے کے رشتہ دار نے گئوتسکروں کے ذریعے قتل کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔ پلول پولیس نے بتایا کہ قتل کے معاملے میں نامعلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، لیکن اب تک گئوتسکروں کے ذریعے قتل کئے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔