کوشامبی ضلع کے ایک گاؤں میں تین مسلم خواتین کو ’گائے کا گوشت‘ پکانے کے شبہ میں ان کی رسوئی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم، جس گوشت کو’گائے کا گوشت‘ بتاتے ہوئے پولیس نے کارروائی کی، اس کے بارے میں تصدیق نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والا گوشت کس جانور کا تھا۔ خواتین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ گاؤں کے ایک شخص نے پرانی رنجش کی وجہ سے انہیں سازش کے تحت پھنسایا ہے۔
راجستھان کی الور پولیس کے مطابق، یہ مقدمہ بی جے پی کے سابق ایم ایل اے گیان دیو آہوجہ کے ضلع کے گووند گڑھ میں چرنجی لال سینی کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد وائرل ہونے والے ویڈیو کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ سینی کو مبینہ طور پر میو مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے ٹریکٹر چوری کے شبہ میں مارا پیٹاتھا، جس کے بعد اس کی موت ہوگئی تھی۔
راجستھان کے الور ضلع کاواقعہ۔ 20 جولائی2018 کو رکبر خان اور ان کے ایک ساتھی پر گائے کی اسمگلنگ کے شک میں گئورکشکوں کی بھیڑ نے حملہ کر دیا تھا۔ بے رحمی سے پٹائی کے بعد رکبر کی موت ہو گئی تھی جبکہ ان کے ساتھی بچ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔
گڑگاؤں پولیس کے پی آر او سبھاش بوکن نے کہا کہ متاثرین کو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہاسپٹل سے چھوٹنے کے بعد دونوں کو گرفتار کر لیا جائےگا۔ بر آمد کئے گئے میٹ کو ٹیسٹ کے لئے لیب میں بھیج دیا گیا ہے۔
گئو تسکری کے شک میں اکبر خان کے ساتھ بھیڑ کے ذریعے مارپیٹ کے معاملے میں میو پنچایت نے دعویٰ کیا کہ ایم ایل اے آہوجا نے واقعہ کے بعد اشتعال انگیز بیان دئے اور ملزمین کی حمایت کی، اس لئے ان کو سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔