فروری 2024 تک نیوزکلک میں تقریباً سو لوگ کام کرتے تھے، جن کا گھر صرف اسی تنخواہ سے چلتا تھا۔ لیکن ادارے کے خلاف ایجنسیوں کی کارروائی اور بینک اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے نیوزکلک سے نوکری گنوانے والے تقریباً 80 فیصد ملازمین کو اب تک کوئی مستقل نوکری نہیں ملی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے نیوز کلک کے خلاف دہلی پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے معاملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاملے میں نیوز ادارے کے خلاف پولیس کی تحقیقات کو جاری رکھنے کی اجازت دینا ’قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال‘ ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی کی کارروائی میں ایسے دعوے کیے گئے ہیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے۔
گزشتہ 13ستمبر کو کوچی میں صحافی اور کارکنوں نے مئی میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کے ذریعےگرفتار کیے گئے صحافی رجاز ایم شیبا صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیٹھک کی تھی۔ اب کیرالہ پولیس نے منتظمین اور مقررین کے خلاف غیر قانونی اجتماع اور پولیس کی ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا میں ہوئے ایک پروگرام میں مختلف پریس تنظیموں نے صحافت کو دباؤ سے آزاد رکھنے کی اپیل کی۔ نیوز کلک کے ایڈیٹر پربیر پرکایستھ نے کہا کہ میڈیا کے پاس لوگوں تک سچائی پہنچانے کی ذمہ داری اور آزادی، دونوں ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یو اے پی اے معاملے میں نیوز کلک کے مدیر پربیر پرکایستھ کی گرفتاری غلط ہے کیونکہ صحیح طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔
گزشتہ دو مہینوں میں اتر پردیش پولیس کی اے ٹی ایس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سابق اور موجودہ طالبعلموں کو ملا کر 9 نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر حکومت کے خلاف جرائم کی سازش کرنے، حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے ارادے سے ہتھیار اکٹھا کرنے، دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازش کرنے وغیرہ کے الزام ہیں۔
گلوبل سول سوسائٹی الائنس ‘سی آئی وی آئی سی یو ایس’ نے کہا ہے کہ یہ پوری طرح سے ہندوستان میں پریس کی آزادی پر حملہ ہے اور نیوز ویب سائٹ نیوز کلک کی تنقیدی اور آزاد صحافت کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ یو اے پی اے کے تحت اس ویب سائٹ پر الزام عائد کرنا، آزاد میڈیا، کارکنوں اور شہریوں کو خاموش کرانے اور ہراساں کرنے کی ایک بے شرم کوشش ہے۔