سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، وہیں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
سپریم کورٹ نے سوموار کو دہلی فسادات کے نام نہاد ‘سازش’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر شنوائی 31 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔عدالت نے ضمانت کی ان درخواستوں کا جواب نہ دینے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی ہے۔
سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ ملزمین کے وکیلوں نے بتایا کہ وہ پانچ سال سے جیل میں ہیں اور ہم نے دیوالی سے قبل سماعت کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے دہلی فسادات سازش کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ اور شفا الرحمان کی درخواست ضمانت پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔اس سے قبل 12 ستمبر کو اسی عدالت نے فائل دیر سے ملنے کا حوالہ دیتے ہوئےشنوائی ملتوی کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو فروری 2020 میں ہوئے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی درخواست ضمانت پر سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔ بنچ نے کہا کہ انہیں کیس کی فائلیں رات 2.30 بجے ملی تھیں اور وہ انہیں دیکھ نہیں سکے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات 2020 کے مبینہ ‘لارجر کانسپیریسی’ کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور سات دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ملزمین کو جنوری-ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
دہلی ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کے کارکن ندیم خان کو دشمنی کو فروغ دینے اور مجرمانہ سازش کے الزام والے معاملے میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا ہے۔ عدالت نے تحقیقات میں تعاون کے پیش نظر خان کے خلاف جاری کیے گئے غیر ضمانتی وارنٹ کو بھی رد کر دیا ہے۔
ارنب گوسوامی کے نیوز چینل ری پبلک بھارت کے ایک پروگرام میں پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین انل مسرت کو آئی ایس آئی کی کٹھ پتلی اور ہندوستان میں دہشت گردی پھیلانے والا بتایا گیا تھا، جس کے خلاف مسرت نے برطانیہ کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے برطانیہ میں ری پبلک چینل کوبراڈ کاسٹ کرنے والی کمپنی پر 35 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
برطانوی ٹی وی ریگولیٹری اتھارٹی آف کام کے مطابق ستمبر 2019 میں ری پبلک بھارت پر ارنب گوسوامی کے شو ‘پوچھتا ہے بھارت’میں مہمانوں کی جانب سے کیے گئےتبصرےپاکستانی شہریوں کے خلاف توہین آمیز اور ہیٹ اسپیچ سے بھرے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے چینل پر تقریباً20 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔
جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن میں لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اب تک یونین نوٹیفائڈ نہیں ہوئی ہے۔ وہیں، اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آئیشی گھوش نے کہا کہ 8500 اسٹوڈنٹس یونین کی آواز کو اس طرح انتظامیہ بند نہیں کر سکتا۔
لیفٹ اسٹوڈنٹ یونین اے آئی ایس اے، ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف اور ڈی ایس ایف کے مشترکہ مورچے کی امیدوار آئیشی گھوش جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کی صدر چنی گئی ہیں۔ انہوں نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے منیش جانگڑ کو ہرایا ہے۔ ایس ایف آئی کو 13 سال بعد صدر عہدہ ملا ہے۔
اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن میں کاؤنسلرکے عہدے کے لئے کھڑے دو طالب علموں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے غلط طریقے سے ان کے پرچہ نامزدگی کوخارج کیا ہے، جس کے خلاف انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی ہے۔
22 نومبر کو نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ کی لیز ختم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو لے کراے جے ایل کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔