دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں جاری نوجوانوں کی تحریک کے دباؤ کے درمیان وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات دیر گئے پہلی بار اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ دو ماہ میں پیپر لیک کوروکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔اس پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پی ایم پر طلبہ کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔
گزشتہ20 جولائی کو نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ایک چوتھا شخص بھی پیلٹ جیسی چوٹوں کا علاج کرا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق ڈاکٹروں نے زخمی ہوئے 19 سالہ اس شخص کے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی واپس آنے کا صرف ’ایک فیصد امکان‘ہے۔
سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک نیٹ پیپر لیک اور مختلف امتحانات میں گڑبڑی کو لے کر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے مطالبے کے درمیان پہلی بار وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے نوجوانوں کا مفاد اور ان کا مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے۔ تاہم، اس کے جواب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور سی جے پی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگا ہے۔
سوموار کو ’سنسد مارچ‘ کے دوران زخمی ہونے والے 25 سالہ شیخ ارشاد منصوری کی لیڈی ہارڈنگ اسپتال میں سرجری ہوئی ہے۔ ان کے دوست نے دعویٰ کیا کہ انہیں ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار کی جانب سے چلائے گئے پیلٹ گن جیسے ہتھیار سے چوٹ لگی۔ تاہم، دہلی پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
‘وسط دہلی میں مظاہرہ پر پابندی لگانے والے مرکزی حکومت کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے کہا ‘جب انتخاب کے دوران رہنما ووٹ مانگنے کے لئے عوام کے درمیان جا سکتے ہیں تو انتخاب کے بعد مظاہرہ کرنے کے لئے لوگ ان کے دفتروں کے پاس کیوں نہیں آ سکتے؟۔
وسط دہلی میں مخالفتی مظاہرہ روکنے کے لئے لگی دفعہ 144 کے خلاف پی آئی ایل پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اڈیشنل سالسیٹر جنرل نے مرکزی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔