Economist

ڈاکٹر منظور عالم: ادارہ سازی اور میراث کی ایک کہانی

ڈاکٹر منظور عالم ان رہنماؤں میں نہیں تھے جو ہر مسئلے کا حل محض شکایت، احتجاج یا وقتی ردعمل میں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے شعوری طور پر شکایت کی سیاست کو ترک کیا تھا اور فکر کی تشکیل، ادارہ سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اداروں اور مسلسل محنت سے بنتی ہیں۔

رویش کا بلاگ : جب ہارورڈ کی گیتا ہارڈورک والے  مودی سے ملیں‌گی، تو بیک گراؤنڈ میں نوٹ بندی کی اسپیچ بجے گی!

نریندر مودی نے کم سے کم ایک ایسا اقتصادی سماج تو بنا دیا ہے جو نتیجے سے نہیں نیت سے تجزیہ کرتا ہے۔ حماقت کی ایسی اقتصادی جیت کب دیکھی گئی ہے؟ گیتا گوپی ناتھ جیسی ماہر اقتصادیات کو نیت کا ڈیٹا لےکر اپنا نیا ریسرچ کرنا چاہیے ۔