پرکالا پربھاکر سے اشعر نجمی تک: نئے ہندوستان کی مخدوش جمہوریت کا نوحہ
اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔
اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔
وی-ڈیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا میں 92 آمریت والے ممالک اور 87 جمہوری ممالک موجود تھے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ’انتخابی آمریت‘ یعنی الیکٹورل آٹو کریسی بنا ہوا ہے، اس زمرے میں وہ 2017 میں شامل ہوا تھا۔ 179 ممالک میں ہندوستان لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ پچھلے سال یہ 100 ویں مقام پر تھا۔
‘ڈیموکریسی وننگ اینڈ لوزنگ ایٹ دی بیلٹ’ کے عنوان سے وی — ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی ڈیموکریسی رپورٹ-2024 میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں ہندوستان ایسے 10 سرفہرست ممالک میں شامل رہا، جہاں بذات خود بالکلیہ تاناشاہی یا آمرانہ نظام حکومت ہے۔