سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کا فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کا اختیار صرف ووٹر لسٹ تک محدود ہے۔ لیکن عدالت نے حکومتوں کو شہری حقوق میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دی۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ ریاست میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بیانیہ کو چیلنج کرتی ہے۔ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جنہیں ‘باہری’ کہا جاتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ عرصے سے آباد ‘ٹھوس’ اور حقیقی شہری ہیں۔
منگل کو مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ایس آئی آر کے تحت ریاست کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ناموں کی فہرست جاری کی۔ اس میں سے 5,820,898 پہلے سے رجسٹرڈ ووٹر کے نام مختلف وجوہات -موت، ٹرانسفر، ڈپلی کیشن، گمشدگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ہٹائے گئے ہیں۔ متاثرہ لوگ 15 جنوری تک اپنے دعوے اور اعتراضات درج کر سکتے ہیں۔