بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر ’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘کرنے کی تجویز کو فی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ فیکلٹی، طلبہ اور اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت نیز وی سی کے استعفیٰ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس قدم کو روک دیا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم بھی نام کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھا۔
مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی ہندوستان کی تحریک آزادی کے ان سرکردہ اور صف اول کے انقلابی رہنماؤں میں تھے، جنہوں نے بیرون ملک برطانوی حکومت کے خلاف مہم چلائی۔ اب ان کے نام سے منسوب برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدل کر’ماں واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘ کیے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس پر مقامی لوگوں میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو خط بھیجا ہے۔ ان 40 گاؤں میں ہمایوں پور، یوسف سرائے، مسعود پور، زمرد پور، بیگم پور، فتح پور بیری، حوض خاص اور شیخ سرائے وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ان کے نام مغلیہ دور کے ہیں جو غلامی کی یاد دلاتے ہیں۔