سال 2022 میں مودی حکومت نے بلقیس بانو کے ساتھ ریپ کرنے والے سزا یافتہ مجرموں کی رہائی کو منظوری دی تھی۔ بعد میں بلقیس کی اپیل پر سپریم کورٹ نے کیس کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اور درندوں کو واپس جیل رسید کیا تھا۔
ہندوستان کی سیر وسیاحت کے لیے آئے ایک غیر ملکی جوڑے نے جھارکھنڈ کے دمکا میں ان کے ساتھ مار پیٹ اور خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا الزام لگایا ہے۔ اس حوالے سے قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن ریکھا شرما نے ہندوستان میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے کیے گئے ایک تبصرے کو ‘ملک کو بدنام کرنے’ کی کوشش قرار دیا ہے۔
تریپورہ کے اناکوٹی ضلع میں 19 اکتوبر کو ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کیس میں پبیچیرہ سے بی جے پی ایم ایل اے اور ریاست میں وزیر محنت بھگوان داس کے بیٹے کا نام سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی وزیر کے بیٹے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر اعلیٰ خود اس معاملے سے اچھی طرح واقف ہیں، لیکن وہ خاموش ہیں۔
غازی آباد میں دہلی کی ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کی خبر 19 اکتوبر کو سرخیوں میں تھی۔ اس سلسلے میں پانچ مسلم ملزمین کی مبینہ پر گرفتاری کی بھی بات سامنے آئی تھی، جس کے بعد وشو ہندو پریشد نے ملزمین کو ‘اسلامی سیکس گینگ’ کا حصہ بتایا تھا۔
اتر پردیش کے مراد آباد ضلع کے بھوجپور علاقے کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ یکم ستمبر کو بھوجپور تھانہ حلقہ کے تحت ایک گاؤں میں پیش آیاتھا۔ متاثرہ کے رشتہ دار کی طرف سے 7 ستمبر کو درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پرایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی جمہوریت دن دہاڑے دم توڑ رہی ہے۔ پریس کو شکنجے میں لیا جا رہا ہے، لیکن اس کو ثابت قدم رہنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔
پولیس نے کہا کہ گیا کے دیلہا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ایک 23 سالہ خاتون کی جانب سے پانچ لوگوں پر لگائے گئے گینگ ریپ کے الزامات کی تحقیقات کر رہےتھے۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ جب بھی اس نے پولیس اہلکار سے اپنے کیس میں تفتیش کی پیش رفت کے بارے میں پوچھا تو پولیس اہلکارنے جنسی تعلقات قائم کرنے کامطالبہ کیا۔
اتر پردیش میں میرٹھ ضلع کے تھانہ سردھنا علاقے کا معاملہ۔ گزشتہ یکم اپریل کو دسویں میں پڑھنے والی طالبہ کو گاؤں کے ہی چار نوجوانوں نے اغوا کرکےگینگ ریپ کیا تھا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزمین نے ریپ کے بعد زہر پلایا تھا۔ وہیں پولیس کہہ رہی ہے اس کے پاس سے سوسائیڈ نوٹ ملا ہے اس لیے یہ خودکشی ہے۔
واقعہ مغربی بنگال کے جلپائی گڑی ضلع کا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمین پرریپ اور خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
ویڈیو: گزشتہ11جولائی کو بہار کے ارریہ میں گینگ ریپ متاثرہ اور دومعاونین کو کورٹ کی ہتک کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ریپ متاثرہ کو ارریہ کورٹ نے خصوصی شنوائی کرتے ہوئے ضمانت دے دی ہے۔ حالانکہ ان کی دو ساتھیوں جن جاگرن شکتی تنظیم کی کارکن تنمیہ نویدتا اور کلیانی کو ضمانت نہیں ملی ہے
ویڈیو: ہندوستانی فضائیہ میں ونگ کمانڈر رہیں انوما آچاریہ کو بی جے پی نے اتنامتاثر کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پارٹی کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن کچھ عرصے میں ہی وہ پارٹی سے مایوس ہو گئیں۔ انوما آچاریہ کی مودی پرستار سے مودی نقاد بننے کی کہانی۔
میں نریندر مودی سے متاثر تھی، گجرات میں رہتے ہوئے میں نے اچھی سڑکیں، چھوٹی صنعتیں دیکھی تھیں، ان کی تعریف بھی سنی تھی۔ سیاست میں جانے کا سوچنے کے بعد میں نے بی جے پی سے رابطہ بھی کیا اور پارٹی کے لیے کام بھی کیا۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں رونما ہوئے واقعات نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں میری رائے بدل کر رکھ دی۔
واقعہ بیتول ضلع کا ہے۔ متاثرہ اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل سے گھر لوٹ رہی تھی کہ جب سات لوگوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ متاثرہ کے بھائی کو ایک کنویں میں پھینک کر انہوں نے پاس کے جنگل میں لے جاکر لڑکی کے ساتھ ریپ کیا۔
طالبہ نے الزام لگایا ہے کہ پہلے بھی وکیل کولڈڈرنک میں نشہ آورگولیاں دےکر اس کے ساتھ ریپ کر چکا ہے۔
معاملہ روہتاس ضلع کے راموڈیہہ گاؤں کا ہے، جہاں 4 لوگوں نے اتوار کی صبح ایک نابالغ سے ریپ کی کوشش کی۔ منگل کو خود کو میڈیا اہلکار بتا کر ملزمین کے رشتہ دار متاثرہ کے گھر پہنچے اور اس کو گولی مار دی۔
ایسے میں جب ملک میں خواتین کی کوئی حقیقی نمائندگی ہی نہیں بچی اور حکومت میں ویمن پاور کی مثال مانی جانے والی نام نہاد رہنما بی جے پی رہنماؤں یاحامیوں کے ذریعے کئےاستحصال کے کئی معاملوں پر منھ سلکر بیٹھ چکی ہیں، تو کیسےحکومت سے کسی انصاف کی امید لگائی جائے؟
مظفر نگر ضلع کے بیہڑی گاؤں کی 24 سالہ گینگ ریپ متاثرہ سے تقریباً ایک سال پہلے تین لوگوں نے ریپ کیا تھا اور تب سے ملزمین ضمانت پر ہیں ۔ خودکشی کرنے سے پہلے متاثرہ نے اپنے ہاتھ پر ملزمین کے نام لکھے تھے۔
یہ معاملہ جھارکھنڈ کے جمشیدپور کا ہے۔ 26 جولائی کو ٹاٹانگر اسٹیشن سے بچی کو اغوا کیا گیا تھا۔ بچی کے غائب ہونے کے پانچویں دن منگل رات 9 بجے رام دھین باغان سے اس کی سر کٹی ننگی لاش بر آمد کی گئی۔ بچی کا سر ابھی نہیں ملا ہے۔
گاؤں والوں نے متاثرہ اور اس کے باپ کو پنچایت کے ذریعے معاملے کو نپٹانے کے لیے کہا۔ لیکن معاملہ درج ہونے کے بعد لڑکی کو میڈیکل جانچ کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
دو اور ملزمین کو پکڑنے کے لیے کئی جگہوں پر چھاپے ماری جاری ہے، جس میں ایک ملزم آرمی کا جوان ہے ۔ متاثرہ کی فیملی نے الزام لگایا ہے کہ ان کی شکایت پر پولیس مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ہریانہ کے ریواڑی میں 19 سالہ اسٹوڈنٹ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نوح ضلع کی ایس پی نازنین بھسین کو اس معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کا ملزموں نے مبینہ طور پر بدھ کو اغوا کیا۔ ملزمین جو کار میں تھے متاثرہ کو جھجر ضلع کے پاس لے گئے اور اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔
لڑکیوں کے بیان کی بنیادپر صدر پولیس تھانے میں ایک معاملہ درج کیا گیاتھا۔ملزموں نے اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ نئی دہلی : جھارکھنڈ کے لوہر دگا میں مبینہ طور پر دو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ گینگ ریپ کے الزام میں 11لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ڈی ایس […]