Ghaziabad police

رام مندر میں چڑھاوا چوری کی خبر کرنے والے صحافی کے خلاف یوپی پولیس کی متعدد ایف آئی آر ، ’پریشان کرنے‘ کا الزام

صحافی ابھشیک اپادھیائے نے الزام لگایا ہے کہ غازی آباد پولیس انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پریشان کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس دیر رات ان کے گھر پہنچی، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات اور درج ایف آئی آر کی مکمل جانکاری انہیں ٹھیک سے نہیں دی جا رہی ہے۔ اپادھیائے ان صحافیوں میں ہیں، جو ایودھیا رام مندر میں بدعنوانی اور چڑھاوا چوری کے الزامات کو سامنے لائے تھے۔

وشو ہندو پریشد نے جس مبینہ گینگ ریپ کو ’اسلامک‘ جرم بتایا، وہ زمین قبضہ کرنے کی چال تھی: یوپی پولیس

غازی آباد میں دہلی کی ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کی خبر 19 اکتوبر کو سرخیوں میں تھی۔ اس سلسلے میں پانچ مسلم ملزمین کی مبینہ پر گرفتاری کی بھی بات سامنے آئی تھی، جس کے بعد وشو ہندو پریشد نے ملزمین کو ‘اسلامی سیکس گینگ’ کا حصہ بتایا تھا۔

یوپی: لونی ’انکاؤنٹر‘ کی جانچ کے خلاف اترے بی جے پی ایم ایل اے اور ہندوتوا گروپ

گیارہ نومبر کو غازی آباد کے لونی بارڈر پر ہوئے‘انکاؤنٹر’میں سات مسلمانوں کو غیرقانونی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرنے سے پہلے گولی چلائی گئی تھی، جو تمام لوگوں کے پاؤں پر تقریباً ایک ہی جگہ لگی تھی۔ معاملے میں لونی تھانے کے ایس ایچ او کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے اور جانچ کےآرڈر دیے گئے ہیں۔