گزشتہ ماہ بجرنگ دل کے لوگوں کے سامنے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے ‘محمد’ دیپک کے قتل کے لیے دو لاکھ روپے کے انعام کی پیشکش کرنے والے شخص کو بہار پولیس نے سوموار کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی پہچان بہار کے موتیہاری ضلع کے اتکرش سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر دیپک کو دھمکی دیتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
‘اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں مسلمان بزرگ کی حمایت میں ہندوتوادی ہجوم کے سامنے کھڑے ہونے والے ’محمد‘ دیپک کے جم میں مذکورہ واقعہ کے بعد 135 لوگوں نے آنا بند کر دیا ہے ۔ دیپک کا کہنا ہے،’ شہر کا آدھا حصہ میرے ساتھ ہے، لیکن اچھے کاموں پر لوگ تالیاں نہیں بجاتے۔ ایمانداری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔‘
آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔
ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کشمیری شال فروشوں پر حملوں کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے شمالی ہندوستان میں کشمیری تاجروں کے خلاف ہراسانی اور تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دہشت کا ماحول قرار دیا ہے۔
اتراکھنڈ کے کاشی پور میں 22 دسمبر کو ایک کشمیری شال فروش پر ہندو رائٹ ونگ کے کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔ معاملے میں بجرنگ دل کے کارکن اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پچھلے پندرہ دن میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب کشمیری شال فروش کو ہندو رائٹ ونگ کے کارکنوں نے نشانہ بنایا اور ہراساں کیا ہے۔