اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں کئی ایسے دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں مسلمانوں کے مذہبی یا ثقافتی اجتماعات یا عام شہریوں کو نشانہ بنا کر دھماکے کیے گئے۔ پولیس نے شروع میں مسلمانوں پر الزام لگائےاور انہیں جیل رسید کیا، لیکن وقت کے ساتھ -کبھی کبھی تو دہائیوں بعد – انہیں بری اور رہا کیا گیا۔ اس کے بعد نئی جانچ شروع ہوئی، جس میں ’ہندوتوا‘ تنظیموں کے ممبران کے خلاف الزامات دائر کیے گئے۔
الزام ہے کہ اجین کے بیگم باغ علاقے میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کی ریلی میں مبینہ طور پر فرقہ وارانہ نعرے لگانے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے پتھربازی کر دی تھی۔ مدھیہ پردیش میں شدت پسند ہندوگروپس کی جانب سے ایسی ریلیوں کے دوران کئی جگہوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ ریلیاں رام مندر تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کے مقصد سے نکالی جا رہی ہیں۔
مہاراشٹر میں بی جے پی-شیوسینا اتحاد کے لئے انتخابی تشہیر کی شروعات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں کیا ایک بھی مثال ہے، جہاں ہندو دہشت گردی میں شامل رہے ہوں؟