خالد جاوید کا ادب اردو ادب میں بالکل نئے بیانیے، نئے زاویے اور نئی طرزِ تحریر کا موجد ہے۔ وہ اپنے ادبی سفر کے آغاز سے ہی ایک شہر آشوب لکھ رہے ہیں، اردو ادب میں ڈسٹوپیا کی حکایت نا تمام لکھ رہے ہیں۔
خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ موت پر لکھ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کی موت اور ایک ہی طرح کے ’تعفن‘ پر لکھ رہے ہیں۔
خالد جاوید موت کے راگ کے موسیقار ہیں، جو ہر بار موت کا نیا راگ لے کر آتے ہیں۔ان کے ناولوں میں زندگی اور موت ایک ہی سکے کے دو پہلے ہیں۔ زندگی وہ ہے جس پر روشنی پڑ رہی ہے، اور موت وہ ہے جو اندھیرے میں گم ہے، جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔
اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔