گزشتہ ماہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے کہا تھا کہ ہندوستانی پاسپورٹ کو شہریت ثابت کرنے والے دستاویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اب وزارت خارجہ نے منگل کے روز اپنے سابقہ رخ سے الگ اس بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایک ایسا دستاویز ہے، جو ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے عمل کو منظم کرتا ہے۔
کم و بیش ایک دہائی پہلے تک سرکاری خدمات سب کے لیے یکساں طور پر دستیاب تھیں اور کسی کی شہریت پر سوال نہیں اٹھتا تھا۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستانی شہریوں کو من مانےڈھنگ سے حق رائے دہی، سرکاری فلاحی اسکیموں کے فائدےحتیٰ کہ ڈومیسائل سے متعلق حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جب ہندوستانی بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو پاسپورٹ ان کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک سفری دستاویز ہے شہریت کا دستاویز نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ پھر شہریت کا ثبوت کون سا دستاویز ہے؟
ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کے پرتیچی (انڈیا) ٹرسٹ سے وابستہ ایک محقق صابر احمد نے آر ٹی آئی درخواست میں بنگال کے تمام میڈیکل کالجوں سے ان کے طلباء، اساتذہ اور انتظامی عملے کے سماجی طبقے سے متعلق ڈیٹا طلب کیا تھا۔ جواب میں ریاستی پبلک انفارمیشن آفیسر نے انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کو کہا۔
قابل ذکر ہے کہ 62 سالہ قمر کو اگست 2011 میں میرٹھ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ویزے کی مدت سے زیادہ ملک میں رہنے پرقصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ 6 فروری 2015 کو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد انہیں 2015 میں دہلی کے حراستی مرکز میں پاکستان ملک بدری کے لیےبھیجا گیا۔ تاہم پاکستان نے ان کی ملک بدری کو قبول نہیں کیا اور وہ اب بھی حراستی مرکز میں ہیں۔
دنیا بھر میں چین کے بعد ہندوستان دوسرے نمبر ہے، جس کے ارب پتی شہریت چھوڑ دیتے ہیں۔ 2015 اور 2017 کے درمیان 17000 امیر ترین ہندوستانیوں نے پیارے ہندوستان کو چھوڑ دیا۔