اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوئی اموات کے معاملے میں مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی کمیٹی نے 21 اموات پر اپنی رپورٹ سونپی ہے، جس میں 15 کی وجہ الٹی اور اسہال کو مانا گیا ہے۔ اندور انتظامیہ نے آلودہ پانی پینے سے ہونے والی الٹی اور اسہال کی وجہ سے چھ اموات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پھیلی بیماری سے اب تک چھ ماہ کے ایک بچے سمیت 23 مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔
گجرات کے گاندھی نگر کے سیکٹر 24، 28 اور آدیواڑہ علاقےمیں پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کے 100 سے زیادہ مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ مبینہ طور پر کم از کم سات مقامات پر لیک ہونے سے پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی مل گیاہے۔
جمعرات کو اندور میونسپل کارپوریشن کو سونپی گئی رپورٹ کے مطابق، شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقہ سے لیے گئے پانی کے نمونوں میں سےایک تہائی میں بیکٹیریل انفیکشن پایا گیا ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے تقریباً 2800 لوگ بیمار ہو چکے ہیں اور 272 کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد چار بتائی گئی ہے، لیکن مقامی خبروں اور لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔