اے بی وی پی ممبر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کے ایک گروپ نے میدنی پور واقع ودیاساگر یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہو کر ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے، اس دوران بنگال نشاۃ ثانیہ کی دو عظیم شخصیات – ایشور چندر ودیاساگر اور رابندر ناتھ ٹیگور کی تصاویر، جو بند طلبہ یونین دفتر کے اندر آویزاں تھیں، مبینہ طور پر اتار کر پاؤں تلے روند دی گئیں۔
فیک نیوز راؤنڈ اپ: کیا بنگال میں پولیس نے ایک مسلم شخص کوگرفتار کیا جو بھگوا پوشاک اور تلک لگاکر تشدد میں ملوث تھا؟ راہل گاندھی کے ٹوئٹ میں نئے لفظ MODILIE کی حقیقت کیا ہے؟ کیا بی ایچ یو کے کنووکیشن میں طلبانے از خودگاؤن کو ترک کر کے ہندوستانی لباس میں اسناد قبول کیا؟
اتر پردیش کے کسی شہر میں امت شاہ کا روڈ شو لوگوں کے دل میں ڈر اور خوف پیدا کر سکتا ہے، لیکن مغربی بنگال یوپی نہیں ہے۔
کولکاتہ میں گزشتہ منگل کو اپنے روڈ شو کے دوران ہوئے تشدد کے میڈیا کوریج سے مجروح کیوں ہیں بی جے پی صدر امت شاہ؟
ودیاساگر کالج کے پرنسپل گوتم کنڈو نے کہا، ‘بی جے پی حامی پارٹی کا پرچم لئے ہمارے دفتر کے اندر گھس آئے اور ہمارے ساتھ بد سلوکی کرنے لگے۔ انہوں نے دستاویز پھاڑ دیے، دفتروں میں توڑپھوڑ کی اور جاتے وقت ودیاساگر کا مجسمہ توڑ دیا۔ انہوں نے دروازے بند کر دیے اور موٹرسائیکل کو آگ کے حوالے کر دیا۔ ‘