JCB Prize

موت کی پانچویں کتاب کا پیش لفظ

اِکیس ایک سو بائیس کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بے چین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔

موت کی کتاب: ایک حقیقی ادبی تخلیق

فرانسیسی نقاد پیترک ابراہم کا تبصرہ: خالد جاوید کا ناول ’موت کی کتاب‘ اپنی گہری تاریکی اور معنوی تہہ داری کے باعث ایک عظیم تخلیقی شہ پارہ ہے۔ یہ ہمیں ہماری اپنی داخلی تاریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں اس بات کے لیے مجبور کرتا ہے کہ اس کا مطالعہ بار بار کیا جائے۔

’میلان کنڈیرا کی موت سے ناول کا عظیم الشان قلعہ مسمار ہوگیا‘

خالد جاوید لکھتے ہیں ؛ میلان کنڈیرا کو دائیں بازو یا بائیں بازو کے جھگڑے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کنڈ یرا دنیا کے لیے جو سب سےبڑا خطرہ سمجھتا ہے، وہ آمری حکومت کا وجود ہے۔خمینی، ماؤ، اسٹالن یہ سب کون ہیں؟ یہاں دائیں بازو اور بائیں بازو کا فرق کیا معنی رکھتا ہے ؟