الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔
معاملہ اتر پردیش کے گونڈہ ضلع کا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تینوں فقیر کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس بات کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ تینوں فقیر کون لوگ تھے اور کس وجہ سے اس گاؤں میں آئے تھے۔
بی جے پی کے رکن پارلیامنٹ ساکشی مہاراج نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں ٹوپی لگائے ایک مخصوص مذہب کے نوجوانوں کے ہجوم کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ، ایک دن یہ بھیڑ آپ کے گھر میں داخل ہوجائے گی، تب پولیس بچانے نہیں آئے گی۔ اس لیے خو دانتظام کر لیجیے۔