‘وکاس’ کا یہ کون سا ماڈل ہے، جو جوشی مٹھ ہی نہیں بلکہ پورے ہمالیائی خطہ میں دراڑیں پیدا کر رہا ہے اور انسانوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے؟ سرکاری ‘وکاس’ کی اس وسیع ہوتی دراڑکو اگر اب بھی نظر انداز کیا گیا تو پوری انسانیت ہی اس کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے۔
جوشی مٹھ بچاؤ سنگھرش سمیتی نے اتراکھنڈ حکومت کے کاموں میں مطلوبہ ‘مستعدی اور تیزی ‘ نہیں ہونے کا الزام لگایا ہے۔دریں اثنا، سپریم کورٹ نے لینڈ سلائیڈنگ کو قومی آفت قرار دینے کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ریاستی ہائی کورٹ اس سے متعلق تفصیلی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے، اس لیے اصولی طور پر اس کوہی اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے۔