جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات -انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔
کشمیر گھاٹی کے باندی پورہ قصبہ کے رہنے والے صحافی ساجد رینا نے سال 2006 میں ایک ناؤ حادثے میں ہلاک ہوئے 22 بچوں کی تصویر اپنے وہاٹس ایپ پر لگاتے ہوئے انہیں‘وولر جھیل کے شہید’ کہا تھا، جس کو لےکر ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
الزام ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی سےمتعلق ایک واقعہ کور کرنے گئے کارواں میگزین کےتین صحافیوں پر بھیڑ نےحملہ کیا۔مارپیٹ کرنے کےعلاوہ ان پرفرقہ وارانہ تبصرےکیے گئےاورخاتون صحافی کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ تینوں صحافیوں نے اس سلسلے میں دہلی پولس سے شکایت کی ہے، لیکن پولیس نے اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔