Lok Sabha polls

نتیش کمار کے بیٹے کو فلیٹ گفٹ کرنے پر اپوزیشن کا للن سنگھ پر حملہ: ’فلیٹ فار منتری پد‘ کہہ کر اٹھائے سوال

دی وائر کی رپورٹ میں اس انکشاف کے بعد کہ جے ڈی یو لیڈر اور مرکزی وزیر للن سنگھ نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو پٹنہ میں عالیشان فلیٹ گفٹ کیا ہے، اپوزیشن نے ریاستی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نتیش کمار پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سُشاسن بابو کے بیٹے کو للن سنگھ نے تحفے میں دیا پٹنہ میں عالیشان گھر، اس کے فوراً بعد ملا مرکز میں وزارتی عہدہ

گفٹ ڈیڈ کے مطابق، للن سنگھ بچپن سے ہی  نشانت کمار سے گہرا لگاؤ ​​اور انس رکھتے آئے ہیں۔ نشانت کے حسن سلوک سے خوش ہو کر للن سنگھ نے پٹنہ کے سب سے مہنگے علاقے میں واقع ایک عالیشان گھر وزیر اعلیٰ کے بیٹے کو تحفے میں دیا  ہے۔

لوک سبھا انتخابات میں 538 سیٹوں پر ڈالے گئے ووٹوں اور گنے گئے ووٹوں میں تضاد: اے ڈی آر

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 538 انتخابی حلقوں میں کل 589691 ووٹوں میں فرق پایا گیا۔ 362 سیٹوں پر ڈالے گئے ووٹوں کے مقابلے میں گنے گئے ووٹوں کی تعداد کم تھی، جبکہ 176 سیٹوں پر یہ تعداد زیادہ تھی۔

’لوک سبھا کی 79 سیٹوں پر ووٹ کے حتمی فیصد میں اضافہ این ڈی اے کی جیت کے مارجن سے زیادہ‘: رپورٹ

مہاراشٹر واقع تنظیم ووٹ فار ڈیموکریسی نے انتخابی عمل میں کچھ واضح خامیوں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ تین اہم دعوے کیے ہیں، جو الیکشن کمیشن کے طریقہ کارپر سوال قائم کرتے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات: مسلم رائے دہندگان کو ہراساں کرنے کا الزام، اپوزیشن نے کہا – بی جے پی ووٹنگ کو متاثر کر رہی ہے

اترپردیش میں سماج وادی پارٹی سے لے کر گجرات میں کانگریس تک نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر ووٹنگ کو متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایس پی کا کہنا ہے کہ یوپی کے سنبھل سمیت کئی علاقوں میں مسلم ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

انتخابات کے دوران آئی ٹی – ای ڈی کی کارروائیوں پر سابق سی ای سی نے اٹھائے سوال، کہا — کمیشن مداخلت کرے

موجودہ لوک سبھا انتخابات کے دوران مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے درمیان تین سابق چیف الیکشن کمشنروں نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں مداخلت ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ایجنسیوں سے بات کرنی چاہیے کہ وہ الیکشن ختم ہونے تک انتظار کیوں نہیں کر سکتے۔

کرناٹک میں کانگریس کی جیت لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھ سکتی ہے

بی جے پی کی اینٹی کرپشن والی امیج دھیرے دھیرے ٹوٹ رہی ہے اور 2024 تک حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ دوسر لفظوں میں کہیں تو، اگر کانگریس کرناٹک میں اچھی جیت درج کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو 2024 کے انتخابی موسم کی شروعات سے پہلےکرناٹک قومی اپوزیشن کے لیےامکانات کی راہیں کھول سکتا ہے۔