ایران پر امریکہ–اسرائیل حملوں کے 31 ویں دن تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ خلیجی ممالک تک حملے پھیلنے کے درمیان کویت میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے۔ ٹرمپ کے تیل پر قبضے والے بیان سے تنازعہ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنگ کا اثر ہندوستان میں ایندھن کے بحران کی صورت میں واضح طور پرنظر آنے لگا ہے، جہاں گھریلو ضروریات کے لیے مٹی کے تیل کی عارضی واپسی ہوئی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا 29واں دن جاری ہے۔ جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے بعد ایران نے’بھاری قیمت‘چکانے کی وارننگ دی ہے۔ وہیں، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک پروگرام میں نیٹو کو’کاغذی شیر‘قرار دیتے ہوئے اس کے رخ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 28واں دن بھی بمباری کے ساتھ جاری ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن مؤخر کرنے کی بات کہی ہے، جبکہ امن مذاکرات کے دعوے جاری ہیں۔ ایران نے امریکی ’امن تجویز‘ کو ’یکطرفہ اور غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔
ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی تشدد کے ساتھ جاری ہے، اصفہان میں شدید حملوں کی خبرہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت نے پی این جی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس دستیاب ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایل پی جی کی سپلائی بند کی جا سکتی ہے۔
ایل پی جی بحران کے درمیان سورت کی ٹیکسٹائل صنعت میں کام کرنے والے مزدور گیس سلنڈر بھروا نہیں پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور مزدوروں کی کمی کے باعث کئی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک یا دو دن بند رہنے لگی ہیں۔