سپریم کورٹ نے اپنے شوہر کو کھوچکی خاتون کو سسر کی طرف سے دیے جانے والے گزارہ بھتہ سے متعلق ایک کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے منو اسمرتی کے اس اشلوک کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ماں، باپ، بیوی اور بیٹے کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اور جو بھی ایسا کرتاہے اسے سزا ملنی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے مطلقہ بیوی کو گزارہ بھتہ دینے کی ہدایت کے خلاف ایک مسلم مرد کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے بعد بیوی کی کفالت سے متعلق سی آر پی سی کی دفعہ 125 تمام شادی شدہ خواتین پر لاگو ہوتی ہے، خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔
ہائی کورٹ نے مسلم خواتین کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ طلاق شدہ مسلم خواتین کو بھی سی آر پی سی کی دفعہ 125 کے تحت شوہر سے نان ونفقہ حاصل کرنے کا حق ہے اور وہ عدت کے بعد بھی اسے حاصل کر سکتی ہیں۔ تاہم، انہیں یہ حق صرف اس وقت تک حاصل ہے جب تک کہ وہ دسری شادی نہیں کرلیتی۔
عورت اپنے شوہر سے الگ رہتی ہے اور اس نے ہندو میرج ایکٹ کی دفعہ 24 کے تحت گزارہ بھتہ کی مانگ تھی۔