دنیا کی نظروں سے اوجھل فوجی آپریشن
ماؤ نواز تحریک ہندوستان میں محض ایک سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اقتصادی اور تہذیبی بحران کی علامت ہے۔ یہ شورش معاشرتی ناانصافی، اقتصادی استحصال، اور ریاستی بے حسی کے خلاف ایک پرتشدد ردِعمل ہے۔
ماؤ نواز تحریک ہندوستان میں محض ایک سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اقتصادی اور تہذیبی بحران کی علامت ہے۔ یہ شورش معاشرتی ناانصافی، اقتصادی استحصال، اور ریاستی بے حسی کے خلاف ایک پرتشدد ردِعمل ہے۔
نارائن پور کے جنگلات میں حال ہی میں ہوئے انکاؤنٹر میں سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سکریٹری نمبلا کیشوا راؤ عرف بسواراجو مارے گئے۔ بستر رینج کے آئی جی نے کہا ہے کہ بسواراجو پچھلے 40-45 سالوں سے ماؤنواز تحریک کا حصہ تھے اور 200 سے زیادہ نکسلی حملوں میں شامل تھے۔ اس کارروائی کو حکومت اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ماناجا رہا ہے، لیکن کیا اسے نکسل ازم کا خاتمہ سمجھا جا سکتا ہے؟ دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج سے ذیشان کاسکر کی بات چیت۔
جنوبی چھتیس گڑھ کے بیجاپورضلع میں 31 مارچ کو پولیس فائرنگ میں رینوکا کی موت ہوگئی۔ دنتے واڑہ پولیس نے اسے ‘انکاؤنٹر’ بتایا ہے، حالانکہ اس علاقے میں اس طرح کے دعووں کی سچائی ہمیشہ سے مشکوک رہی ہے۔
اسٹوڈنٹ رائٹس کےلیے کام کرنے والی مہاراشٹر کے چندرپورضلع کی کارکن کنچن نانورے کو ماؤنواز تحریک میں مبینہ شمولیت کے لیے2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سنگین بیماریوں سے جوجھ رہیں کنچن کو ضمانت نہیں دی گئی اور طبیعت بگڑنے پر 16 جنوری کو اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔