دی وائر کا طنزیہ اینیمیٹڈ کارٹون، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور کنیسٹ میں انہیں دیے گئے ’میڈل‘ سے متعلق ہے، کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایکس پر دی وائر کے 13 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو اب اس ویڈیو کو نہیں دیکھ سکتے۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی جانب سے دی وائر کے انسٹاگرام پیج سے وزیراعظم پر بنے کارٹون کو ہٹانے کے فرمان کی مذمت کی ہے۔ گلڈ نے کہا کہ بغیر واضح وجہ کے مواد ہٹانا اور پیج بلاک کرنا اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
دی وائر کے 52 سیکنڈ کے طنزیہ کارٹون ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کی ‘درخواست’ پر کارروائی کے بعد ہوئی سماعت میں دی وائر کا حکومت کو دیا گیا بیان۔
اداریہ: ملک کے ’محبوب رہنما‘ کے لیے ہنسی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے کہ ’مجاز حکام‘ کو ان پر بنائے گئے کارٹون کو بلاک کرنے کا فرمان صادر کرنا پڑ رہا ہے۔
دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مودی حکومت پر طنزیہ کارٹون کی وجہ سے سوموار کی شام ہندوستان میں تقریباً دو گھنٹے تک بلاک رہا۔ وزارت نے اس کی ذمہ داری سے انکار کیا، جبکہ میٹا کے ذریعے ‘غلطی’ کی بات سامنے آئی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اس کارروائی نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل سنسرشپ پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فیس بک اور انسٹاگرام پر اُ ن آوازوں کو غیر منصفانہ طور پر دبانے اور ہٹانے کے ایک پیٹرن کادستاویز تیار کیا ہے، جس میں فلسطین کی حمایت میں پرامن اظہار اور انسانی حقوق کے بارے میں عوامی بحث شامل ہے۔
بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے دی وائر کے دفتر اور بانی مدیران کے گھروں کی تلاشی لیتے ہوئےمختلف الیکٹرانک آلات ضبط کیے تھے۔ایڈیٹرز گلڈ نے دہلی پولیس سے تحقیقات میں غیر جانبدار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے طریقے اختیار نہ کریں جس سے جمہوری اصولوں کی توہین ہو۔
بی جے پی لیڈر امت مالویہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے 31 اکتوبر کو دہلی میں دی وائر کے دفتر اور بانی مدیرسدھارتھ وردراجن، ایم کے وینو، ڈپٹی ایڈیٹر جہانوی سین کے علاوہ ممبئی میں سدھارتھ بھاٹیہ اور پروڈکٹ کم بزنس ہیڈ متھن کدامبی کے گھر کی تلاشی لی تھی اورمختلف الیکٹرانک آلات اپنے قبضے میں لیے تھے۔
میٹا کے بارے میں ہماری کوریج کےبارے پیدا ہونے والے خدشات کے پیش نظرہم ان رپورٹس کے لیے استعمال میں لائے گئے تمام دستاویزوں ،ذرائع سے ملی جانکاری اور ذرائع کا اندرونی جائزہ لے رہے ہیں۔