Missing

بنگال ایس آئی آر 2025: پانچ اہم نکات جو بی جے پی کے دراندازی کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں

مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی مسودہ ووٹر لسٹ ریاست میں طویل عرصے سے جاری سیاسی بیانیہ کو چیلنج کرتی ہے۔ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جنہیں ‘باہری’ کہا جاتا ہے، وہ دراصل سب سے زیادہ عرصے سے آباد ‘ٹھوس’ اور حقیقی شہری ہیں۔

مغربی بنگال: ایس آئی آر ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری، 58 لاکھ سے زیادہ نام ہٹائے گئے

منگل کو مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ایس آئی آر کے تحت ریاست کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ناموں کی فہرست جاری کی۔ اس میں سے 5,820,898 پہلے سے رجسٹرڈ ووٹر کے نام مختلف وجوہات -موت، ٹرانسفر، ڈپلی کیشن، گمشدگی اور دوسری وجوہات کی بنا پر ہٹائے گئے ہیں۔ متاثرہ لوگ 15 جنوری تک اپنے دعوے اور اعتراضات درج کر سکتے ہیں۔

ایران میں اغوا تین ہندوستانی شہری پاکستانی ایجنٹوں کے چنگل سے آزاد کرائے گئے

آسٹریلیا جانے کے لیے ایران پہنچے پنجاب کے تین افراد کو پاکستانی ایجنٹوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اغوا کاروں نے ان کے اہل خانہ کو ویڈیو کال کر کے رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ اب خبر آئی ہے کہ ایرانی پولیس نے ان تینوں کو بچا لیا ہے۔

پنجاب کے تین نوجوان ڈنکی روٹ سے ایران پہنچنے کے بعد لاپتہ، اہل خانہ کا اغوا اور مارپیٹ کا الزام

پنجاب کے جسپال سنگھ، امرت پال سنگھ اور حسن پریت سنگھ اس مہینے کی پہلی تاریخ سے لاپتہ ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسی دن وہ ایران پہنچے تھے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق، ان کی اپنے بیٹوں سے آخری بار تقریباً12 روز قبل بات ہوئی تھی، جس کے بعد سے ان کا ان سے رابطہ منقطع ہے ۔

دہلی کے نوجوانوں نے کہا – فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ ملک کو توڑنے کا کام کر رہی ہے

ویڈیو: کیرالہ کی خواتین کے مبینہ طور پر اسلام قبول کرنے اور آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کا دعویٰ کرنے والی فلم ‘دی کیرالہ سٹوری’کی جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے، وہیں کچھ بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں اسے ٹیکس فری کر دیا گیا ہے۔ اس فلم کے حوالے سے دہلی کے نوجوانوں اور طالبعلموں سے بات چیت۔

تین لڑکیوں کے لاپتہ ہونے پر ’کیرالہ اسٹوری‘، گجرات کی 40 ہزار سے زیادہ کی کہانی کیا ہے؟

ویڈیو: حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ میں این سی آر بی کے حوالے سے بتایا گیا تھاکہ گجرات میں پچھلے پانچ سالوں میں40000 سے زیادہ خواتین لاپتہ ہو ئی ہیں۔ اس سلسلے میں اٹھنے والے سوالوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں سینئر صحافی شرت پردھان۔

گجرات میں پچھلے پانچ سالوں میں 40000 سے زیادہ خواتین لاپتہ ہیں: این سی آر بی ڈیٹا

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق ، سال 2016 میں 7105، 2017 میں 7712، 2018 میں 9246 اور 2019 میں 9268 خواتین لاپتہ ہوئی ہیں۔ سال 2020 میں 8290 خواتین کے لاپتہ ہونے کی جانکاری موصول ہوئی تھی، جس کے بعد کل تعداد 41621 تک ہوجاتی ہے۔

اروناچل پردیش کے روڈ پروجیکٹ میں مزدوری کرنے گئے آسام کے 19مزدور دو ہفتوں سے لاپتہ

سبھی مزدورکو چین کی سرحد سے متصل اروناچل پردیش کے کرونگ کومے ضلع میں ‘بارڈر روڈ آرگنائزیشن’ کی ایک سڑک کے تعمیراتی منصوبے میں بھی کام کر رہے تھے۔ انہیں آسام کے مقامی ٹھیکیدار کام کا وعدہ کرکے اروناچل پردیش کے دامن کے ایک کیمپ میں لے گئے تھے۔ 3 جولائی کے بعد سے گھر والوں کا ان سے رابطہ نہیں ہو پایاہے ۔ 13 جولائی کو جب مقامی انتظامیہ کو اس بات کا علم ہوا تو سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

کرناٹک: کانگریس نے 19 لاکھ ’غائب‘ ای وی ایم کامعاملہ اٹھایا، الیکشن کمیشن کو بھی طلب کرنے کا مطالبہ

ریاستی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات پر خصوصی بحث کے دوران سابق دیہی ترقیات کے وزیر اور کانگریس کے سینئر ایم ایل اے ایچ کے پاٹل نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلبی کے لیے اسپیکر پر دباؤ ڈالنے کی غرض سےآر ٹی آئی کے جوابات کا حوالہ دیا ہے۔

دنیا بھر میں لاپتہ ہوئی کل خواتین میں سے ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ ہندوستانی: یواین رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اےکی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2013 سے 2017 کے بیچ ہندوستان میں ہر سال تقریباً ساڑھے چار لاکھ بچیاں پیدائش کے وقت ہی لاپتہ ہو گئیں۔اندازے کے مطابق،سالانہ لاپتہ ہونے والی 12 سے 15 لاکھ بچیوں میں سے 90 فیصد سے زیادہ چین اورہندوستان کی ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے 2017 کے دوران شمال مشرقی ریاستوں سے تقریباً 28 ہزار لوگ لاپتہ ہوئے: وزارت داخلہ

وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے بدھ کو راجیہ سبھا میں بتایا کہ سال 17- 2015 کے دوران آٹھ شمال مشرقی ریاستوں سے لاپتہ ہوئے 27967 لوگوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 19344 لوگ آسام سے لاپتہ ہوئے ہیں۔

کیدارناتھ سانحہ میں لاپتہ 3322 لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے حکومت نے کیا قدم اٹھائے: اتراکھنڈ ہائی کورٹ

ایک پی آئی ایل میں الزام لگایا گیا ہے کہ جون 2013 میں کیدارناتھ میں بھاری بارش اور لینڈ سلائڈ کے بعد لاپتہ ہونے والے لوگوں کو ڈھونڈنے کے لئے چھے سال بعد بھی اتراکھنڈ حکومت نے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے۔